امریکا کے وبائی امراض کے معروف ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے ایک کی بجائے 2 فیس ماسکس کا استعمال زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔
ڈاکٹر انتھونی فااؤچی نے ایک ٹی وی شو کے دوران نے کہا کہ فیس ماسک کا مقصد وہا میں موجود وائرل ذرات کی روک تھام کرنا اور پہننے والے کے منہ تک وائرس کو پہنچنے سے روکنا ہوتا ہے۔
امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیز ڈیزیز کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اگر آپ چہرے کو ایک تہہ سے ڈھانپتے ہیں اور اس پر ایک اور تہہ چڑھا لیتے ہیں تو عام فہم کی بات ہے کہ اس سے زیادہ تحفظ مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگوں کو 2 فیس ماسکس پہنے یا این 95 کا کوئی ورژن استعمال کرتے دیکھ رہے ہیں۔
این 95 مہنگا ہے اور زیادہ تر طبی ورکرز کو دستیاب ہوتا ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ 2 فیس ماسک کا استعمال آسان اور این 95 جتنا تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔
چلڈرنز ہاسپٹل اینڈ میڈیکل سینٹر کے وبائی امراض کی ماہر ایلس ساٹو نے کہا کہ دوہری تہہ سے فلٹریشن میں اضافہ ہوتا ہے، مگر فائدہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ماسک کے ارگرد کے خلاف کو اچھی طرح کور کیا جائے۔
امریکا میں 2 فیس ماسک کے استعمال کی شرح میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے، مگر ڈبل ماسک کے استعمال کا بہترین طریقہ کیا ہے؟
حال ہی میں جاری ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ لوگ یا تو معیاری سرجیکل ماسک کا استعمال کریں یا ایسا کپڑے کا ماسک استعمال کریں جس میں کم از کم 2 تہیں ہوں۔
تحقیق میں کہا گیا کہ زیادہ سے زیادہ تحفظ کے لیے ایک فرد ایک سرجیکل ماسک کے اوپر کپڑے کا ماسک پہن لیں، جس میں سرجیکل ماسک فلٹر کا کام کرے گا جبکہ کپڑے کا ماسک اضافی فلٹریشن لیئر فراہم کرے گا۔
محققین کا کہنا تھا کہ 3 تہوں والا ماسک بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اسپرین کا استعمال اسقاط حمل کا خطرہ کم کرسکتا ہے، تحقیق

ایسی خواتین جن کو اسقاط حمل کا سامنا ہوتا ہے، وہ اگلی بار حمل کے دوران کم مقدار میں اسپرین کا روزانہ استعمال کرکے اس کا خطرہ کم کرسکتی ہیں۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
تحقیق میں کہا گیا کہ اسپرین سے اسقاط حمل کے خطرے کو ٹالا جاسکتا ہے، تاہم مقدار کتنی ہو، اس حوالے سے محققین کو واضح تعین نہیں کرسکے۔
امریکا کی ایموری یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل محقق ایشلے نیامی نے بتایا کہ اسپرین ورم کش دوا ہے اور اسقاط حمل ممکنہ طور پر کسی چھپے ہوئے ورم کا نتیجہ ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے دوران 18 سے 40 سال کی عمر کی 12 سو سے زیادہ خواتین کو شامل کیا گیا جو ماضی میں ایک یا 2 بار اسقاط حمل کا شکار ہوچکی تھیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن خواتین نے حمل کے دوران ہر ہفتے کے دوران 5 سے 7 دن روزانہ 81 ملی گرام اسپرین استعمال کیں، ان میں اسقاط حمل کا خطرہ کم ہوا اور صحت مند بچوں کی پیدائش ہوئی۔
یہی نتیجہ ہر ہفتے میں کم از کم 4 بار استعمال کرنے والی خواتین میں بھی دیکھنے میں آیا۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے اینالز آف انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل بھی تحقیقی رپورٹس میں اسی طرح کے نتائج سامنے آئے تھے۔
اس تحقیق میں محققین نے دریافت کیا کہ روزانہ اسپرین استعمال کرنے تسلسل اسقاط حمل کے خطرے میں کمی کی کنجی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسپرین حمل کو گرنے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے مگر اس کے لیے تسلسل کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ کم مقدار میں اسپرین کا استعمال حمل سے قبل کرنے سے بھی فرق پیدا کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپرین کے فوائد اس وقت زیادہ مضبوط ہوجاتے ہیں جب اس کا استعمال حمل ٹھہرنے سے پہلے شروع کردیا جائے اور اس وقت کمزور ہوجاتے ہیں جب حمل کے 6 ہفتے استعمال شروع کیا جائے۔
تاہم اسپرین کا استعمال معالج کے مشورے کے بغیر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
منبع: ڈان نیوز
