English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مکانات کی مسماری سے فلسطینی آبادی کو سنگین خطرات

مقبوضہ بیت المقدس: قابض اسرائیلی پولیس اہلکار مسلمانوں کو روک رہے ہیں‘ جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کی تعداد کم ہے

 

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں زنوتہ کے مقام پرفلسطینیوں کے گھروں اور طبی مراکز کی مسماری کے نئے نوٹسوں کے بعد مقامی آبادی ایک نئے اور سنگین خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق حال ہی میں اسرائیلی حکام کی طرف سے الخلیل کے جنوب میں ظاہریہ کے نواحی علاقے زنوتہ میں 12 رہایشی عمارتوں اور کئی ڈسپنسریوں کو مسمار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل قابض فوج کئی بار اس نوعیت کے اقدامات کرچکی ہے، جس میں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کی کارروائیاں شامل ہیں۔ اسرائیل کی سول ایڈمنسٹریشن نے 2 روز قبل زنوتہ گائوں میں فلسطینیوں کے کئی مکانات اور بنیادی طبی مراکز صحت کو مسمار کرنے کی اجازت دی تھی۔ ان میں فلسطینی چرواہوں کے 12 عارضی خیمے بھی شامل ہیں۔ زنوتہ گائوں کی دیہی کونسل کے چیئرمین فا الطل نے بتایا کہ زنوتہ میں فلسطینیوں کے گھروں اور دوسری املاک کی مسماری کا مقصد مقامی فلسطینی آبادی کو نقل مکانی پر مجبور کرنا اور فلسطینیوں کی زمینوں پر یہودی آباد کاروں کو بسانا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اسرائیل کو زنوتہ کے ان معصوم فلسطینیوں سے کیا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، جو غاروں میں عارضی پناہ گاہوں میں بستے یا جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زنوتہ کے باشندے اکیسویں صدی میں قابض اسرائیل کی طرف سے تعمیرو ترقی اور بنیادی انسانی سہولیات سے محروم رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے محروم کرنے کا اور کوئی جواز نہیں ملتا تو وہ جھونپڑیوں کی تعمیر کو غیرقانونی قرار دے کر ان کی مسماری شروع کردیتے ہیں، جب کہ ہزاروں آباد کاروں کو تعمیراتی اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے