English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ہانگ کانگ کے شہریوں کا برطانوی پاسپورٹ تسلیم نہیں ہوگا ، چین

القمر

 

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چینی حکومت نے ہانگ کانگ کے لاکھوں شہریوں کو جاری کردہ برطانوی پاسپورٹ تسلیم نہ کرنے کا اعلان کردیا۔ اس فیصلے کی وجہ ہانگ کانگ میں نافذ کردہ سلامتی قانون پر بیجنگ کا لندن کے ساتھ تنازع بنا۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین ہانگ کانگ کے شہریوں کو برطانیہ کی طرف سے جاری کردہ لاکھوں پاسپورٹ اب قانونی سفری اور شناختی دستاویزات کے طور پر تسلیم نہیں کرے گا اور یہ فیصلہ 31جنوری سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ ساتھ ہی وزارت خارجہ کے ترجمان کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ہانگ کانگ میں بیجنگ حکومت کی سرپرستی اور منظوری سے جو نیا سیکورٹی قانون نافذ کیا گیا ہے، اس کی وجہ سے بیجنگ اور لندن کے مابین پیدا شدہ تنازع میں چین اپنی طرف سے مزید اقدامات کرنے کا حق بھی محفوظ رکھتا ہے۔ ہانگ کانگ میں، جو ماضی میں ایک برطانوی نوآبادی تھا اور جس کا انتظام 1997ء میں برطانیہ نے چین کے حوالے کر دیا تھا، 4لاکھ سے زائد مقامی شہری برطانوی پاسپورٹ رکھتے ہیں۔ ان پاسپورٹوں کی وجہ سے ان مقامی باشندوں کو برطانیہ کے سمندر پار شہریوں کی حیثیت حاصل ہے اور وہ بغیر کسی رکاوٹ کے برطانیہ کا سفر کر سکتے ہیں۔ ہانگ کانگ میں متعارف کرائے گئے نئے متنازع سلامتی قانون کی وجہ سے برطانیہ یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپنی اس سابقہ نوآبادی کے 54 لاکھ شہریوں کو 5 سال تک برطانیہ میں رہایش کے اجازت نامے جاری کرے گا، جس کے بعد وہ چاہیں تو انہیں عام برطانوی شہری بننے کا حق بھی حاصل ہو سکے گا۔ اس تنازع میں بیجنگ نے لندن پر الزام لگایا ہے کہ وہ ہانگ کانگ کے معاملات میں شدید مداخلت اور چین کی خود مختاری پر حملے کا مرتکب ہو رہا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ لندن نے اب جو اعلان کیا ہے، وہ ہانگ کانگ کے شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو دوسرے درجے کے برطانوی شہری بنانے کی ایک کوشش ہے۔ برطانیہ کا چین پر الزام یہ ہے کہ اس نے ہانگ کانگ میں جو نیا قانون نافذکیا ہے، اس کے ذریعے وہ اس سابقہ برطانوی نوآبادی اور اپنے اس خصوصی انتظامی علاقے میں حزبِ اختلاف کا گلا دبانا چاہتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے