کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ضروری ہے کہ حکومت اور ریاست مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور نہتے عوام کے تحفظ ، بھارت کے غاصبانہ قبضے سے نجات اور آزادی کے حصول کے لیے اپنی ذمے داری پوری کرے ، جنگ اور جہاد کے آپشن کو مد نظر رکھ کر ہی کشمیر کے مسئلے پر لائحہ عمل بنایا جائے ۔ موجودہ آزاد کشمیر بھی لڑ کر اور جہاد کر کے ہی حاصل کیا گیا تھا آج کا مقبوضہ کشمیر بھی جذبہ جہاد ، شوق شہادت اور لڑ کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے،کل 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں کراچی میں جماعت اسلامی کے تحت جیل چورنگی تا مزار قائد ریلی منعقد کی جائے گی ، پوری قوم مظلوم و نہتے کشمیریوں کے ساتھ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز ادارہ نور حق میں جماعت اسلامی کراچی کے تحت ’’یکجہتی کشمیر سیمینار ‘‘ سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا ، سیمینار سے پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر تاج حیدر، مسلم لیگ کے مرکزی رہنماو سابق سینیٹر نہال ہاشمی،پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی ، کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم قریشی ایڈووکیٹ ،جے یو آئی (ف )سندھ کے نائب صدر مولانا عبد الکریم عابد، جمعیت علما پاکستان کے رہنما حلیم خان غوری، سینئر صحافی اے ایچ خانزادہ ، سنی تحریک کے رہنما فہیم الدین شیخ ، جمعیت علما اسلام (س) کے رہنما مولانا حافظ احمد علی ، سابق رکن سندھ اسمبلی حمید اللہ ایڈووکیٹ ، جمعیت اتحاد العلما کے مولاناعبدالوحید ، جماعت اسلامی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ، سکھ برادری کے رہنما انیل سنگھ ،ہندو ساجن ویلفیئر ٹرسٹ کے صدر ساجن جمن ڈھنیال ،پاسٹر ہیری کم سوہترااور دیگر نے خطاب کیا جبکہ نظامت کے فرائض جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر مسلم پرویز نے ادا کیے ۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو طویل عرصہ ہوگیا ہے اگر ہماری حکومتیں ماضی میں اس حوالے سے اپنا آئینی فرض اور ذمے داری ادا کرتیں اور یہ مسئلہ حل کرا لیتیں تو پھر دوسرے ، تیسرے اور چوتھے آپشن کو دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کشمیریوں کی رائے کو آج تک کوئی اہمیت نہیں دی گئی ۔ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے مسئلے کے حل کے لیے تو اقوام متحدہ اور بڑی طاقتیں حرکت میں آجاتی ہیں لیکن کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین پامالی اوربھارت کے غیر آئینی ہتھکنڈے اور ظلم و ستم پر کوئی حرکت میں نہیں آتا ۔ کشمیریوں نے تاریخ کی ایک بڑی جدو جہد اور مزاحمت کی ہے اور نئی تاریخ رقم کی ہے ، بھارت سے اب کسی کو خیر کی کوئی امید نہیں ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں اب تمام کشمیری قیادت یکسو ہے کہ بھارت کے خلاف راست اقدام کیا جائے ۔ کشمیری پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے ہیں اور شہدا کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے تو پھر ہماری ذمے داری ہے کہ ہم کشمیریوں کے لیے لڑیں ۔ اگر آزادکشمیر کی حکومت جنگ لڑنا چاہتی ہے تو ہمیں اس کی حمایت کرنی چاہیے ، جب بھارت کشمیر کو ہڑپ کرنے پر تلا بیٹھا ہے ، آئین میں تبدیلی کر رہا ہے تو پھر ہماری حکومت اور ریاست کا بھی فرض ہے کہ ہم بھی کشمیریوں کے مددگار بنیں ، اگر بھارت آگے بڑھتا ہے اور ہم پیچھے ہٹتے ہیں تو پھر بھارت تو آگے ہی بڑھتا رہے گا ۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ بد قسمتی سے آج برہمن ازم انسانوں کو کچل رہا ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ گیتا کے اندر بھی ذات پات کی کوئی تفریق موجود نہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی بات اور موقف کو ہر عالمی فورم پر اُٹھائیں ،جنگ کا آپشن ہمیشہ موجود ہوتا ہے لیکن بات چیت سے ہر بڑے سے بڑا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے ۔ ہماری حکومت کی ذمے داری ہے کہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں استعمال کریں ، ملٹری ایکشن کے لیے بھی عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا ضروری ہے لیکن بد قسمتی سے ہماری حکومت نے اس کو مکمل طور پر نظر انداز کر رکھا ہے ۔ عالمی اداروں کی رپورٹوں میں بھی یہ بات عیاں ہے اور سب یہ سمجھتے ہیں کشمیریوں کے استصواب رائے کا حق دیا جائے اور اس طرح سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ ہم اس مسئلے پر آج شدید تنہائی کا شکار ہیں ، کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور اس حوالے سے اگر ہم عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی پر بھارت کے خلاف آواز اُٹھائیں تو بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو جائے گا ۔ اگر ہمارا دفتر خارجہ اپنی ذمے داری پوری نہیں کرے گا اور بھارت کے خلاف عالمی رائے عامہ نہیں بنائے گا تو پھر ہماری پوزیشن کمزور ہی رہے گی ۔ آج یہ حقیقت ہے کہ آرٹیکل 347کی منسوخی پر بھارت کے خلاف دنیا بھر میں فضا بن رہی ہے اسے اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے ، ہمیں کشمیریوں کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے اور اعتماد کا رشتہ بہت مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے ۔ مسلم لیگ کے مرکزی رہنماو سابق سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پر پوری قوم متحدہے اور بد قسمتی سے اب کوشش کی جارہی ہے کہ اس حوالے سے قوم کے اندر اختلافات پیدا ہو جائیں ۔ محترم قاضی حسین احمد مرحوم کی اپیل پر ملک میں 5فروری کویوم یکجہتی کشمیر منانے کا آغاز کیا گیا اور الحمد اللہ یہ آج تک جاری ہے ۔ اگر موجودہ حکومت کشمیر کی آزادی کے لیے جہاد کا اعلان نہیں کر سکتی تو کم از کم کشمیر کے وزیر اعظم کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنے دوسرے حصے کی آزادی کے لیے جدو جہد کے لیے جہاد کرے ۔ ہم اس کا ساتھ دیں گے ۔ کشمیر قرار دادیں تو بہت پاس ہو چکی ہیں اب ان پر عمل درآمد کرانے کا وقت آگیا ہے لیکن ہماری حکومت ہی کمزوری اور بزدلی کا مظاہرہ کرے گی تو پھر کوئی اور کیا کر سکتا ہے ۔ آج کشمیری عوام ہم سے اور پوری دنیا سے چندہ نہیں مانگ رہے بلکہ آزادی مانگ رہے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کا کام ہی صرف چندہ مانگنا رہ گیا ہے ۔ کشمیر کے موجودہ حصے کو قبائلی عوام اور کشمیریوں نے آزاد کرالیا اور باقی اس تحریک کو جلا بخشنے کی ذمے داری جماعت اسلامی نے ادا کی ۔پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ ہم فلسطین کو کھو چکے ہیں ، ہم بنگلا دیش کو بھی کھو چکے ہیں اب ہم کشمیر کو نہیں کھونا چاہتے ،کشمیریوں کو ہماری سپورٹ چاہیے، یہ قوم اپنی ذمے داری ادا کرنے کے بجائے کسی اور پر ڈال کر پتلی گلی سے نکل جاتی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان اورتمام سیاسی و مذہبی جماعتیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنا عملی کرداد ادا کریں ،مسئلہ کشمیر کو جماعت اسلامی نے ہر سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا اور کر رہی ہے ۔ علی امین گنڈا پور کو وقت دینا چاہیے ۔ وہ کشمیر کی آزادی کے لیے بھر پور کوشش کریں گے ۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم قریشی ایڈووکیٹ نے کہا کہ جماعت اسلامی کشمیر ہو یا برما ، فلسطین ہو یا کوئی اور جگہ ہر موقع پر مظلوموںکے حق میں آواز اُٹھائی ہے اور اس جماعت نے کراچی کے عوام کے لیے بھی حق گوئی کا مظاہرہ کیا ۔ ہم وکلا برادری کی طرف سے جماعت اسلامی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 148دن سے جاری کرفیو ختم کیا جائے، کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دلوایا جائے اور اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی ذمے داری ہے کہ وہ کشمیریوں کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق دیا جائے ،جے یو آئی (ف )سندھ کے نائب صدر مولانا عبد الکریم عابد نے کہا کہ تقسیم ہند کے وقت ہی اس حصے کو متنازع بنا کر کشمیریوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کی گئی ہے اور جن قوتوں نے ایسا کیا وہ کشمیر یوں کے دوست نہیں دشمن تھے ۔ پاکستان بھارت کے درمیان اس مسئلے پر کئی جنگ لڑی گئی ہیں ۔ پاکستان کا ایک وقار اور ساکھ تھی مگر موجودہ حکومت نے پاکستان کے عوام ہی نہیں کشمیریوں کے ساتھ بھی غداری کی اور کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر پر جرأت مندانہ موقف اختیار کرنے کی کوئی امید اور توقع نہیں ہے ۔ جمعیت علما پاکستان کے رہنما حلیم خان غوری نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کے لیے مسلم اتحاد کی ضرورت ہے، کشمیر کا مسئلہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے ،کشمیری ایک طویل عرصے سے لاک ڈائون کی اذیتیں جھیل رہے ہیں ،حکمران اپنی کرسی بچانے کے چکر میں پڑے ہیں ،کشمیر کی پالیسی قائد اعظم پہلے ہی بتاچکے ہیں کہ’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ‘‘۔ سینئر صحافی اے ایچ خانزادہ نے کہا کہ 2 سال ہوگئے کشمیر میں لاک ڈائون جاری ہے ہمیں تو کورونا سے پتا چلا کہ لاک ڈائون کیا ہوتا ہے ،بھارت میں مودی اور مودی سے پہلے جتنے بھی حکمران گزرے ہیں سب ایک ہی قما ش کے ہیں ،کشمیر کمیٹی ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے ۔ سنی تحریک کے رہنما فہیم الدین شیخ نے کہا کہ پاکستان کابچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے ،کشمیری ایک طویل عرصے سے شدید ظلم وستم کا شکار ہیں ہم کل 5 فروری کو یوم کشمیر مناکر اپنے کشمیری بھائیوں سے بھرپور اظہار یکجہتی کرینگے،اقوام متحدہ سویا پڑا ہے ،بھار ت کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے ۔ جمعیت علما اسلام (س) کے رہنما مولانا حافظ احمد علی نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کو اپنے آئین کا حصہ بنالیا ہے ،امریکا کشمیر کو کالونی بنانا چاہتا ہے ،میں حکومت پاکستان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بارڈر کھول دے کیونکہ کشمیر کا واحد علاج جہاد ہے ۔سابق رکن سندھ اسمبلی حمید اللہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ سید علی گیلانی نے حق خود ارادیت کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں ،اب تک2 لاکھ سے زاید کشمیری نوجوان شہید ہوچکے ہیں ،لاکھوں کشمیر ی بہنیں اپنی عزت گنوا چکی ہیں ،صر ف وزیر اعظم کی ایک تقریر سے کشمیر سے آزاد نہیں ہوسکتا ،8 لاکھ فوج کب کام آئی گی ؟ ۔ جمعیت اتحاد العلما کے مولاناعبدالوحید نے کہاکہ حکومت وقت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ سرد خانے کی نذر ہے ،کشمیری ایک طویل عرصے سے لاک ڈائون سہ رہے ہیں ،صرف قراردادوں سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا ،مسئلہ کشمیر کا ایک ہی علاج ہے اور وہ جہاد ہے ۔ جماعت اسلامی منارٹی ونگ کے صدر یونس سوہن ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد مرحوم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے سب سے پہلے یوم کشمیر منانے کا مطالبہ کیا ،تمام اقلیتی برادری کشمیریوں بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ سکھ برادری کے رہنما انیل سنگھ نے کہا کہ تمام سکھ قوم کشمیری مائوں بہنوں کے ساتھ ہے ۔ ہندو ساجن ویلفیئر ٹرسٹ کے صدر ساجن جمن ڈھنال نے کہاکہ ہم پوری دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کشمیریوں پر ظلم غلط ہے ، عالمی عدالت اس ظلم کا نوٹس لے اور وہاں کے لوگوں کو آزادی سے زندگی گزارنے کا حق دلایا جائے ۔ ہم مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے خلاف ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ پاسٹر ہیری کم سوہترا نے کہا کہ کشمیر ایک متنازع ریاست کی حیثیت رکھتی ہے اور بھارتی لابی بھی جانتی ہے کہ کشمیریوں کو طاقت کے زور پر زیادہ عرصے تک دبائے نہیں رکھا جا سکتا ۔ کشمیری عوام ایک سچائی اور حقیقت کی صورت میں سطح زمین پر موجود ہیں اور اپنے جائز اور قانونی حق کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کو یہ حق ایک نہ ایک دن ضرور دینا پڑے گا ۔ حکومت اور ریاست کشمیریوں کے حق اور آزادی کے لیے دو ٹوک جنگ کا اعلان کریں ، مسیحی برادری ساتھ دے گی لیکن ہماری حکومت اور ریاست اپنا فرض ادا کرتی ہوئی نظر نہیں آرہی ۔ کشمیریوں کی جنگ ہماری جنگ ہے اور یہ جنگ پاکستان کی شہ رگ کی جنگ ہے اس کی آزادی سے ہی پاکستان کی تعمیر کا خواب مکمل ہو گا ۔
