فلسطینی شاہراہ کی گذشتہ 17 سالوں سے جبری بندش کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر صیہونی فوج کا تشدد، آنسو گیس اور فائرنگ سے خواتین اور بچوں سمیت متعدد فلسطینی زخمی۔
قابض صیہونی فو ج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر قلقیلیہ میں کفر قدوم کے مقام پر فلسطینیوں کیلئے گذشتہ 17سالوں سے جبری طورپر بند سڑک کھولنے کے لیے ہونے والے احتجاج کو منتشرکرنے کیلئے ریلی کے شرکا پر طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے فائرنگ اور آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد فلسطینیوں کے زخمی ہو نے کی اطلاع ہے ۔
صیہونی فوج نے بے تحاشہ آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے باعث گھروں میں رہنے والے فلسطینی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے متاثر ہوئے،جن کو فوری طبی امداد کیلئے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ 17سال سے فلسطینی علاقے کفر قدوم کے مقام پر شاہراہ کی جبری بندش کے خلاف فلسطینی شہری گذشتہ 9 سال سے ہفتہ وار مظاہرے کرتے ہیں۔
قبلہ اول کی خدمتگار خاتون پر چھ ماہ کی پابندی

فوٹو فائل
مقبوضہ فلسطین پر قابض صیہونی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمالی شہرشعفاط کی رہائشی "ام ایمن” کے نام سے پہچانی جانے والی 60 سالہ فاطمہ خضر جوکہ مسجد اقصیٰ کی خدمت گاروں میں شامل ہیں اور آزادی فلسطین کی ایک بے باک کارکن بھی ہیں جو اپنی جذبہ حریت کے باعث ماضی میں کئی مرتبہ صیہونی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں ، گذشتہ روز ایک بار پھر صیہونی فوجی حکام نے فاطمہ خضر کو مسجداقصیٰ کی خدمت سے روکنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ بیت المقدس میں داخلے سے ہی آئندہ چھ ماہ کیلئے روک دیا ہے۔
فاطمہ خضر نے صیہونی حکام کی جانب سے عائد کردہ پابندی پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ، اسرائیلی ریاستی دہشتگردی اور غیر انسانی انتقامی حربے کسی صورت بھی فلسطینیوں کو ان کی جدوجہد سے دور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔
منبع: روزنامہ قدس
