English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اب کی بار مودی سرکار بوکھلا گئی ہے

القمر

مودی کا ناقابل تسخیر بھارت اس وقت ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور بھارتی کسانوں نے گزشتہ کئی ماہ سے جاری احتجاجوں سے مودی سرکار کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا۔ میڈیا بلیک آؤٹ کا شکار بھارتی کسانوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالاخر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر مودی سرکار کا پول ساری دنیا کے سامنے کھول دیا۔ کئی ماہ سے جاری کسان تحریک نے شاید بھارتی ریاست کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیا ہے۔ جہاں ایک جانب مظاہرین کو پاکستان کا ایجنٹ قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب اب بھارتی حکومت اور اسکے اشاروں پر چلنے والے بھارتی کارپوریٹ میڈیا کو نئی سوجھی ہے۔ اب نعرہ بلند کیا گیا ہے کہ بھارت کے خلاف ایک عالمی سازش ہو رہی ہے۔ اس سازش میں خفیہ ایجنسیز شامل ہیں اور اس سازش کے مہرے دنیا کی بڑی سیلیبریٹیز اور عالمی مسائل پر تحریک چلانے والے اہم کارکنان کی شکل میں متحرک ہیں۔ دوسری جانب مودی سرکار میڈیا کو بھی قابو کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور کئی صحافیوں پر بغاوت کے مقدمے بھی درج کر لیے گئے ہیں۔

اسی سازشی پراپیگنڈے کو مزید تقویت دینے کے لیئے بھارتی حکومت کی مضحکہ خیزی کا عروج یہ ہے کہ دہلی پولیس نے عالمی سطح پر ماحولیاتی آلودگی کے خلاف تحریک چلانے والی معروف کم عمر رہنما گریٹا تھنبرگ کے خلاف بھارتی ریاست کو نشانہ بنانے کے لیئے ایک بڑی سازش کا مہرہ ہونے کے جرم کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ریاست اور خفیہ ایجنسی کو اس بارے میں مصدقہ اطلاعات حاصل ہیں کہ گریٹا تھنبرگ بھارت کے خلاف ایک عالمی سازش کا حصہ ہیں اور اس سازش میں شریک دیگر سلیبریٹیز کی طرح وہ وقت مقررہ پر کسان مظاہروں کے حوالے سے بھارت کے خلاف پراپیگنڈے پر مبنی مواد کو مزید ساکھ بخشتے ہوئے پھیلانے کی مرتکب ہوئی ہیں۔

یہ بات صرف گریٹا تھنبرگ تک محدود نہیں ہے بلکہ امریکیگلوکارہ ریحانہ کی جانب سے کسانوں کے حق میں کی جانے والی ایک ٹویٹ انہیں بھی آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دیے جانے کا باعث بن رہی ہے۔ یاد رہے کہ اپنی ٹویٹ میں ریحانہ نے دنیا کی توجہ انڈیا میں جاری اس احتجاج اور اس میں موجود مظاہرین کی انٹرنیٹ تک رسائی محدود کیے جانے کی طرف دلائی ہے۔ اسی طرح میا خلیفہ نے انڈیا میں ’انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ کا ذکر کیا۔ریحانہ کے ٹوئٹ کے بعد امریکی نائب صدر کمالا ہیرس کی بھانجی اور ادیبہ مینا ہیرس، سابق اداکارہ اور اینکر میا خلیفہ اور کئی دیگر بین الاقوامی شخصیات نے بھی کسانوں کی تحریک کی حمایت میں ٹوئٹ کیا۔
ریحانہ، تھون برگ اور مینا ہیرس کی شہرت، مقبولیت اور عالمی حیثیت کی وجہ سے ان پر جانبداری یا بھارت دشمن پروپیگنڈے کا الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔

اسی لئے سیاسی قیادت نے بیان دینے اور صورت حال کی وضاحت کرنے کی بجائے وزارت خارجہ کو بیان جاری کرنے اور ان بیانات کو غلط فہمی قرار دینے کا حکم دیا گیا۔ تاہم وزارت خارجہ کا بیان صورت حال واضح کرنے کی بجائے، مودی حکومت کے غیر جمہوری اور طبقاتی مفاد پر مبنی پالیسی کی اصل شکل دکھا رہا ہے۔ کسانوں کے احتجاج میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ وہ دو ٹوک اور ایک ہی بات کہہ رہے ہیں کہ ستمبر میں مرکزی حکومت نے کسانوں کے حقوق سلب کرنے اور زرعی پیداوار پر سرمایہ داروں کی اجارہ داری قائم کروانے کے لئے جو تین سخت گیر قوانین نافذ کئے ہیں، انہیں فوری طور سے واپس لیا جائے۔

اس صورت حال میں عالمی شخصیات کا رد عمل اور کسانوں کی حمایت بھارتی حکومت کے لئے شدید صدمہ ہے۔ اس طرح کسانوں کی جائز تحریک کو عالمی شناخت ملی ہے۔ غالب امکان ہے کہ مقبول عوامی شخصیات کے احتجاج سے ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتیں بھی نئی دہلی سے ظالمانہ ہتھکنڈے ترک کرنے اور کسانوں کے جائز مطالبے پورے کرنے کا تقاضا کرنے لگیں گی۔ نریندر مودی نے جمہوری نظام میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن اپنے گھناؤنے عزائم کے لئے انہوں نے فسطائی اور انتہا پسندانہ ہتھکنڈے اختیار کئے ہیں۔ بھارت کی سیکولر شناخت کو پامال کرکے ہندو انتہاپسندی کو عام کیا ہے جو تشدد، تعصب اور معاشرتی انتشار کا سبب بنی ہے۔

مودی سرکار باہر والی آوازوں کو تو روکنے کے لیے واویلا کر سکتا ہے مگر اپنے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کو کیسے دبائے گی؟ اس وقت کسانوں کے ساتھ پانچ سو سے زائد سول سوسائٹی کی جماعتیں اور کانگریس سمیت کئی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتیں‌بھی کسانوں کی حمایت میں باہر نکل آئی ہیں۔ ان آوازوں میں سب سے زیادہ خطرناک آواز خالصہ تحریک کی ہے۔ بھارت کے مختلف کونوں سے دبے دبے لفظوں میں کہا جارہا ہے کہ کسان احتجاج نے مری ہوئی خالصہ تحریک میں ایک نئی روح پھونکی ہے جس کی بھارت کو بہت ہی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ کسان احتجاج مودی سرکار کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن کر ابھرا ہے اور کانگریس جسی دبی ہوئی سیاسی جماعت بھی اس نے دوبارہ سر اٹھانے کا موقع دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بی جے پی کی مناپلی کا خاتمہ کرنے میں‌ کسان احتجاج نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

درحقیقت مودی سرکار اس خام خیالی میں تھی کہ جس طرح متنازعہ شہریت کے قانون پر صرف چند روز احتجاج رہا اور اس کے بعد لوگ روزمرہ کاموں میں مشغول ہوگئے بالکل اسی طرح ان احتجاجوں میں بھی ہوگا مگر ایسا نہ ہوااور سکھوں پر مشتمل ایک بڑی تعداد گزشتہ دوماہ میں اس سخت سرد موسم میں ڈٹ گئی۔ مودی سرکار یہ بات بھول رہے ہیں کہ آپریشن بلیو سٹار کے وقت بھی دو سکھوں نے ہی اندرا گاندھی کو قتل کیا تھااور اس کی وجہ صرف ان کے گوردواروں کی پامالی تھی۔ اس وقت بھات کی فوج میں سب سے زیادہ تعداد سکھوں کی ہے ۔ اگربے چینی کی یہی فضا برقرار رہی تو یہ نہ صرف مودی سرکار بلکہ بھارت پر بھی بھاری پڑ سکتی ہے۔ تاہم اب ایسا لگ رہا ہے کہ مودی سرکار بوکھلا چکی ہے جس کا ثبوت بین الاقومی سیلیبریٹیز کے خلاف سرکاری بیانات اور صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کے خلاف غداری کے مقدمات ہیں۔ مودی سرکار نے اگر ہوش کے ناخن نہ لیے تو شاید اب کی بار بی جے پی بھارتی سیاست میں گمنام نام نہ بن جائے۔

اتوار، 7 فروری 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.om

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے