

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)اسٹیبلشمنٹ کو اپنی غلطی مان کر معافی مانگنی پڑے گی،پی ڈی ایم کا حیدرآباد میں طاقت کا مظاہرہ۔تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاہے کہ ہم تھکنے والے لوگ نہیں تحریکیں حوصلوں سے چلتی ہیں، جب تک قوم کے ووٹوں کے امانت واپس نہیں دلائینگے چین سے نہیں بیٹھیںگے،ہمیں سیاست کی الف ب نہ پڑھائی جائے، ہم نے کچی گولیاں نہیں کھائیں،2018کے انتخابات کی طرح سینیٹ انتخاب میں بھی دھاندلی کی سازش کی جارہی ہے ،ووٹ ہمیشہ خفیہ ہوتا ہے عدلیہ اس مسئلے پر خود کو متنازع نہ بنائے کسی قیمت پر وفاق کو اجازت نہیں دی جائیگی کہ سمندری جزیروں پر قبضہ کرے۔ وہ حیدرآبادہٹڑی بائی پاس پر پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یہ باتیں بھلی لگتی ہیں کہ ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ ہمارا سیاست سے تعلق نہیں ہے، ہم کب چاہتے ہیں کہ ہماری فوج سیاست میں ملوث ہو، ہم کب چاہتے ہیں کہ وہ دفاع کے علاوہ کوئی اور کردار ادا کرے لیکن کیا کریں غلطیاں ہوئی ہیں اور ان غلطیوں کو ماننا پڑے گا اور قوم سے معافی مانگنا پڑے گی، اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ نے انتخابات کے نتائج تبدیل نہیں کیے اور عمران خان جیسے نااہل اور ان کی جماعت کو اقتدار نہیں دیا تو آپ نے اسی رات کیوں کہا کہ وتعز من تشاو تزل من تشا۔انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ 2018 کے انتخابات میں کس کی فتح کا جشن منایا گیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میں فاضل ججوں سے استدعا کروں گا کہ آپ اس معاملے پر عدالت خود کو فریق نہ بنائے۔ انہوںنے کہاکہ حیدرآباد کا تاریخی جلسہ سیاسی تاریخ کا رخ تبدیل کردے گا ،ایک منصوبہ بندی کے ساتھ پاکستان کی پارلیمنٹ کو بھرا گیا۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے کوئی کچی گولیاں نہیں کھائیں ہر بخار کا مقابلہ کرنا جانتے ہیں ہم عوام کے ووٹ کی امانت کی جنگ لڑرہے ہیں جب تک قوم کے ووٹوں کے امانت واپس نہیں دلائینگے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان ہمارا احتساب نہیں کرسکتے ابھی تم ہمارے شکنجے میں ہوں اس سے نکل جائے پھر ہمارا احتساب کرنا۔ انہوںنے کہاکہ موجودہ حکومت میں کرپشن میں اضافہ ہو ا ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ نالائق حکومت مہنگائی کا سونامی لائی ہے، ملک پچاس فیصد گھرانے تبدیلی کے باعث غذائی قلت کا شکار ہیں ،حیدرآباد کے عوام نے پی ڈی ایم کا سب سے بڑا جلسہ کرکے دل جیت لیا، حیدرآباد نے جمہوریت کی بقاء اور آمریت کے خلاف ہمیشہ ہراول دستہ کا کردار ادا کیا وہ آمر ایوب کا دور ہو، یا ضیاء اور مشرف ہر آمر حیدرآباد کی عوام سے ڈرتا رہا ہے او ر ضیاء تو یہاں کے طلبہ سے بھی ڈرتا تھا جس نے آج ہی کے دن طلبہ تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہم سندھ اور جمہوریت کی حفاظت کرینگے ۔ہم سلیکٹڈ وزیر اعظم کو ضرور بھگائینگے ،اگر سندھ وزیر اعظم کا صوبہ نہیں تو کس کا صوبہ ہے؟ سلیکٹڈ وزیراعظم سندھ صوبہ کو نہیں مانے والا لیکن سندھ کا گیس ، کوئلہ سندھ کا ریونیو ضرور چاہیے، عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ نیا پاکستان لائیگا، نیا پاکستان مہنگا پاکستان ہے، آٹا چاول گھی سمیت ضروری اشیاء عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیںاور اگر خرید بھی لے تو پکائے کہاں سے ۔ملک اب اسٹیلشمنٹ کی انگلی پکڑ کر چلنے والوں کے مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا ،اب سینیٹ انتخابات میں بھی اسٹیبلشمنٹ سے کہا جارہاہے کہ ہمیں کامیاب کرادیں، انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم کا اعلامیہ ہے کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ میں رہ کر کام کرے ۔ بلاول نے کہا کہ ہم اسلام آباد پہنچ کر اپنا حق چھینیں گے۔سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری تحریک آئین وجمہوریت کی بالادستی کے لیے ہے، حکومت نے پارلیمنٹ کو بے توقیر کیا ہے ،ہم پارلیمنٹ کی بالادستی کیلیے متحد ہوئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم میں مختلف خیالات اور نظریات کے لوگ شامل ہیں لیکن سب ایک نقطے پر متفق ہیں کہ جمہوریت کی بقاء اور بالادستی ہو۔ انہوںنے کہاکہ 26مارچ کو لانگ مارچ ہوگا جس میں ہم مریم نواز کی قیادت میں حصہ لیں گے جمہوریت پر کسی کو شب کون مارنے نہیں دیں گے ۔انہوںنے کہاکہ صدارتی نظام کی باتیں ہورہی ہیں۔ 18ویں صوبوں کو حقوق دیتی ہے لیکن موجودہ حکومت صوبوں سے ان کا اختیار چھینا چاہتی ہے ۔ جلسے سے سابق وزیر بلوچستان المالک بلوچ، محمود خان اچکزئی، شاہی سید، شاہ اویس نورانی، احمد نواز خان، نثار کھوڑوبھی خطاب کیا جبکہ اسٹیج پر پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ ن،جے یو آئی ف سمیت دیگر جماعتوں کے رہنما، اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اور وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ بھی موجود تھے ۔
