میرپورخاص (نمائندہ جسارت) سندھ حکومت کا انوکھا کارنامہ، ابن رشد گرلز کالج کی گریڈ 20 کی پروفیسر پرنسپل پر شاہ عبداللطیف بوائز کالج کی 19 گریڈ کی ایسو سی ایٹ پروفیسر کو لوک آفٹر کا چارج لینے کا آرڈر جاری کردیا، ایسوسی ایٹ پروفیسر نے سیا سی بنیاد پر ملنے والے آرڈر کے بعد پرنسپل کی کرسی سنبھال لی۔ 27 اگست 2020ء کو چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کے حکم پر سیکشن آفیسر 1 الطاف حسین کے دستخط سے جاری آرڈر کے مطابق سندھ بھر کے 26 ایسوسی ایٹ پروفیسرز کو گریڈ 20 میں ترقی دے کر پروفیسر کے عہدے پر ترقی دی تھی، جن میں سے پروفیسر عقیلہ روشن کو ابن رشد گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کا پرنسپل تعینات کیا گیا تھا، جب سے وہ اپنی ذمے داریاں بخوبی انجام دے رہی ہیں اور ان کی تعیناتی کے دوران کالج کا معیار تعلیم بہتر ہوا ہے۔ دوسری جانب گورنمنٹ شاہ عبداللطیف بوائز کالج کی گریڈ 19 فزکس کی ایسوسی ایٹ پروفیسر عائشہ شہزادی ایس اے ایل کالج میں فزکس پڑھاتی ہیں کو سیاسی بنیاد پر 8 فروری 2021ء کو گریڈ 20 کی پروفیسر عقیلہ روشن پر لوک آفٹر کا چارج دینے کا سیکشن آفیسر 1 الطاف حسین کے دستخط شدہ آرڈر جاری کردیا ہے جس پر چیف سیکرٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کا نام بھی درج ہے۔ عائشہ شہزادی جن کا تعلق شاہ عبداللطیف بوائز کالج سے ہے لیکن جاری ہونے والے لیٹر میں ان کا تعلق ابن رشد گورنمنٹ گرلز کالج سے بتایا گیا ہے جوکہ سراسر غلط ہے۔ دراصل انکا تعلق شاہ عبداللطیف گورنمنٹ بوائز کالج سے ہے نے آرڈر ملنے کے بعد ابن رشد گرلز کالج کی پرنسپل کے رخصت پر ہونے کے باوجود پرنسپل کی کرسی پر براجمان ہوکر کام شروع کردیا ہے۔ حکومت سندھ کے اس عمل سے تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ ابن رشد گورنمنٹ گرلز کالج میں اسامیوں کے مطابق تمام پوسٹوں پر ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور پروفیسرز موجود ہیں اور موجودہ لوک آفٹر کا چارج لینے والی ایسوسی ایٹ پروفیسرز سے کئی سینئر پروفیسرز مذکورہ کالج میں پہلے سے ہی موجود ہیں۔ تعلیمی حلقوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم اور چیف سیکرٹری سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسوسی ایٹ پروفیسر عائشہ شہزادی کا جاری ہونے والا لیٹر فوری طور پر واپس لیا جائے اور میرپورخاص کے واحد گرلز ڈگری کالج کا ماحول خراب ہونے سے بچایا جائے۔
