

لاہور(نمائندہ جسارت +صباح نیوز+اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے حکومت کے درخت لگانے کے منصوبے میں عوام کو شریک کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مستقبل5 سالہ منصوبہ بندی سے نہیں بنتے بلکہ اس کے لیے طویل مدتی منصوبوں کی ضرورت ہوتی ہے، خاموش انقلاب آرہا ہے کیونکہ ہم زیتون کے جنگلات اگانے لگے ہیں۔لاہور میں جیلانی پارک میں اربن فاریسٹ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ لاہور میں جو درخت لگے ہوئے تھے وہ پچھلے 12،13برس میں 70 فیصد کم ہوئے اور اس کے نتیجے میں آج سورج نظر نہیں آتا اور بارش نہ ہو تو نومبر سے اسموگ شروع ہوتا ہے، اگر اسموگ مسلسل رہے تو ہر انسان کی زندگی 6سے11برس کم ہوتی ہے،خاص کر بچوں اور بزرگوں پر برے اثرات ہوتے ہیں، اس کا نقصان نظر نہیں آتا ہے اس لیے لوگ اس کو سمجھتے نہیں ہیں، یہ ایک خاموش قاتل ہے، آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ لاہور کے ماحولیات پر کسی نے توجہ نہیں دی تاہم اب ہم اس کو تبدیل کرنے جا رہے ہیں اور کوئی ایسی چیز نہیں جو تبدیل نہ ہو سکے،آج ہم نے پہلا قدم لیا ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ جب خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت اگانے کا فیصلہ کیا تو آج وہ علاقے دیکھ سکتے ہیں جو علاقے ریگستان تھے وہ جنگل بن گئے ہیں، صوبائی حکومت اس کو دکھائے کیونکہ ایک ارب درخت سوئیاں نہیں ہیں اس لیے سب کو نظر آئیں گے، ہم نے پورے پاکستان میں 10ارب درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے ،اب شروع کر یں گے،جہاں یہ منصوبہ بنا رہے ہیں وہاں جائوں گا، خاموش انقلاب آرہا ہے کیونکہ ہم زیتون کے جنگلات اگانے لگے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی جمہوریت کے اندر ہر 5 سال کے بعد انتخابات آتے ہیں تو بدقسمتی سے حکومتیں 5 سال کا سوچتی ہیں کہ جو چیز نظر آئے اس کو اشتہارات دے کر انتخابات جیتیں،ملک کے مستقبل 5 سال کی منصوبہ بندی سے نہیں بنتے بلکہ طویل مدتی منصوبوں سے ملک کی صحیح معنوں میں ترقی ہوتی ہے، چین کے اندر جو ہوا وہ معجزہ ہے، دنیا کی تاریخ میں اتنی تیزی سے ترقی کسی نے نہیں کی اور اس کا راز یہی ہے کہ ان کی طویل مدتی منصوبہ بندی ہے اور وہ آگے کا سوچتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس 12 موسمیاتی زون ہیں اور یہ وہ خوش قسمت ملک ہے جہاں ہر چیز پیدا کی جا سکتی ہے لیکن ہم نے اپنے جنگلات ختم کردیے، کسی نے نہیں سوچا کہ جنگل ختم ہوں گے تو کیا اثرات پڑیں گے۔انتظامیہ پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج جو مہم ہم نے شروع کی ہے اس میں سب کو شامل کریں، اسکول کے بچوں،جامعات کے طلبہ کو بھی شامل کریں ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ بڑی بڑی کاروباری شخصیات ٹیکس تو نہیں دیتیں لیکن اگر ان سے عطیات مانگیں تو دینے کو تیار ہوتی ہیں ،اس لیے ان سب کو عطیات کے لیے استعمال کریں اور لاہور میں سبز انقلاب کے لیے بڑے بڑے عطیات ملیں گے۔علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ معاشی لحاظ سے کمزور طبقے کی امداد کے لیے خصوصی منصوبہ بنایا جائے تا کہ حکومتی وسائل کو بطور سبسڈی عوامی فلاح کے لیے موثر انداز میں استعمال کیا جا سکے، مستقبل میں عوام کو پریشانی سے بچانے کے لیے گندم کی ترسیل اور آٹے کی قیمت کے نظام کو جامع حکمت عملی کے تحت مستحکم کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار انہو ں نے جمعہ کوپنجاب میں فروٹ اور سبزی منڈ یوں کی تعداد میں اضافے اور آٹے کی قیمت میں کمی لانے کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس کی فراہمی کے حوالے سے پیشرفت پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو صحت کی معیاری اور سستی سہولیات کی فراہمی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ، ہیلتھ کارڈ کی بدولت نہ صرف عام آدمی کو صحت کے حوالے سے تحفظ فراہم ہو گا بلکہ نظام صحت میں بھی انقلابی تبدیلی رونما ہو گی ۔
