English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان کوآئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنے کے لیے امریکی غلامی ترک کرنا ہوگی

کراچی(رپورٹ:قاضی جاوید)پاکستان کو آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنے کے لیے امریکی غلامی ترک کرنا ہوگی،امریکا آئی ایم ایف کی مدد سے پاکستان کو دھمکا تا ہے ،راہداری منصوبہ امریکا کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے،چین عالمی افق پر سپر پاور بننے جا رہا ہے اور امریکا کو یہ بات کسی طرح بھی ہضم نہیں ہو رہی ،ملکی اور عالمی مافیا مل کر عوام کے نام پر آئی ایم ایف سے مال بٹورنے میں مصروف ہیں،امریکا تیسری دنیا کے ممالک کی معیشت کوکمزور رکھنے کے لیے ملکی مافیا کو استعمال کر رہا ہے اور ملکی مافیا ٹیکسوں کی چوری ،بجٹ خسارے میں اضافہ اور برآمدات میں کمی کے لیے اقدامات میں مصروف ہے ،امریکا کو خوش کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کر کے عوام کی معاشی مشکلات میں اضافہ کیا جارہا ہے ،اب حکومت کو قرضوں کی واپسی کے لیے مزید قرض کی ضرورت ہے ،یہ کہنا درست نہیں کہ کرپشن کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت درست نہیں ہو رہی، چین سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں کرپشن کیساتھ ساتھ ترقی جاری ہے،انکم ٹیکس کا دائرہ وسیع کرکے زرعی آمدنی پر بھی ٹیکس وصول کیا جائے،جی ایس ٹی کی شرح کم کرکے 5 فیصد کی جائے، چھوٹی صنعتوں کے لیے بجلی اور گیس کے نرخ میں اضافے سے قرض اور بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے،امریکا کی اکثر ریاستوں میں سیلز ٹیکس 4 اور پاکستان میں 15سے 17فیصد ہے۔ان خیالات کا اظہار تجزیہ کار اکرام سہگل ‘ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن ‘آزاد جموں و کشمیر یو نیورسٹی کے ڈاکٹر عتیق الرحمن‘ پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالقادر میمن اور اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز الائنس کے صدر ظفر اقبال نے ’’جسارت ‘‘کے سوال ’’کیا پاکستان کا آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنا ممکن ہے‘‘ کے جواب میں کیا۔ اکرام سہگل نے کہاکہ امریکا اکثر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کی معیشت اور سیاست پر حاوی ہونے کی کوشش کرتا ہے، اس سے بچنے کے لیے ٹیکس آمدنی میں اضافہ اور اخراجا ت میں کمی لانا ہو گی، امریکا چین سے اقتصادی جنگ لڑ رہا ہے اور اس کے بدلے وہ پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے ، اسی لیے امریکا آئی ایم ایف کی مدد سے پاکستان کو دھمکا تا ہے ،آئی ایم ایف سے قرض لیتے وقت بھی امریکا نے پاکستان پر دبا ؤ ڈالاتھا اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیونے کہا تھا کہ پاکستان کو اگر قرض دیا جائے تو اس سے چینی قرضے کی ادائیگی نہ ہونے دی جائے۔اکرام سہگل نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تقریباً55ارب ڈالر کا اقتصادی راہداری منصوبہ ابتدا ہی سے امریکا کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے،چین عالمی افق پر سپر پاور بننے جا رہا ہے جو امریکا سے کسی طرح ہضم نہیں ہو رہا اسی لیے امریکا چین کو نقصان پہنچانے کے لیے پاکستان پر کڑی شرائط عاید کر رہا ہے،بہت جلد پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل جائے گا جس طرح پاکستان سعودی عرب کے دباؤ سے نکل گیا ہے۔ ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ لوٹ کھسوٹ کی آپسی لڑائیوں سے قطع نظر حکمران طبقے اور ریاستی اشرافیہ کے تمام دھڑے عوام دشمنی میں متفق ہیں اور ملک کے حالیہ معاشی بحران کا ملبہ پوری طرح سے محنت کش عوام اور درمیانے طبقے کے کندھوں پر ڈالنے کے لیے تیار ہیں، اسی لیے اس تلخ حقیقت سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے شعوری طور پر کوشش کی جارہی ہے کہ لوگوں کا دھیان کسی اور طرف لگا رہے اور حکمران طبقہ اپنے سامراجی آقاؤں کی آشیرباد کے ساتھ اپنی واردات جاری رکھے،یہ سیاسی افق پر نظر آنے والے اس تعفن آمیز کھیل کا وہ پہلو ہے جسے ہمیں کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے،ملکی اور عالمی مافیا مل کر عوام کے نام پر آئی ایم ایف سے مال بٹورنے میں مصروف ہے،امریکا تیسری دنیا کے ممالک کی معیشت کوکمزور رکھنے کے لیے ملکی مافیا کو استعمال کر رہا ہے اور ملکی مافیا ٹیکسوں کی چوری ،بجٹ خسارے میں اضافہ اور برآمدات میں کمی کے لیے اقدامات میں مصروف ہے ،امریکا کو خوش کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کر کے عوام کی معاشی مشکلات میں اضافہ کیا جارہا ہے ، بجٹ خسارے کے بڑھنے سے ملک میں قرض کی ضرورت ہو تی ہے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی سب سے بڑی وجہ بڑھتا ہو ا تجارتی خسارہ تھا جس کی سب سے بنیادی وجہ پاکستان کی تکنیکی نا اہلی ہے جس کے سبب وہ ایک طرف تو تمام تر حکومتی سبسڈیوں، مزدوروں کے ننگے استحصال اور ٹیکس چھوٹ کے باوجود اپنی برآمدات بڑھانے میں ناکام رہی ہے اور دوسری طرف درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے جدیدصنعت کو بھی پروان نہیں چڑھا سکی، رہی سہی کسر پچھلے چند برس میں سی پیک منصوبے کے لیے بڑے پیمانے پر تعمیراتی خام مال اور مشینری وغیرہ کی درآمد، آزاد تجارت کے معاہدوں (خصوصاً چین کے ساتھ) کے تحت درآمدی مال کی بھر مار اور اوپری درمیانے طبقے کے لیے اندھا دھند لگژری آئٹمز کی امپورٹ نے پوری کر دی،اب ان درآمدات کو سستا رکھنے کے لیے پچھلی حکومت نے روپے کی قدر کو مصنوعی طور پر قائم کیے رکھا اور اس مقصد کے لیے اسٹیٹ بینک کا فاریکس ریزرو استعمال کیا جاتا رہا،حکومت کا چلنا نئے بیرونی قرضوں کے مرہون منت ہے،اب حکومت کو قرضوں کی واپسی کے لیے مزید قرض کی ضرورت ہے،آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنے کے لیے پاکستان کو امریکا کے چنگل سے با ہر آناہو گا۔ ڈاکٹر عتیق الرحمن نیکہا کہ آئی ایم ایف کے چنگل سے نکلنے کے لیے ضروری اقدامات کر نا لازمی ہیں،یہ کہنا درست نہیں کہ کرپشن کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت درست نہیں ہو رہی، چین سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں کرپشن کے ساتھ ساتھ ترقی جاری ہے،دنیا بھر میں شرح سود ایک فیصد سے بھی کم ہے لیکن پاکستان میں کوویڈ19-سے قبل شرح سود 13.25تھی اور بعد میں اس کو مجبوری کی حالت میں تبدیل کیا گیا لیکن اب بھی یہ شرح 7فیصد ہے جو بہت زیادہ ہے اور اس کو کم کرکے ایک فیصد سے بھی نیچے لانا ہو گا ،اس سے نجی شعبوں کے قرض میں اضافہ اور سر مایہ کاری بڑھے گی اور ٹیکس آمدنی میں بھی اضافہ ہو گااس کی بنیا دی وجہ یہ ہے کہ بینکوں سے قرض لینے والے سرمایہ کا ر ٹیکس کی ادائیگی بھی کرتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ یہ کہنا درست نہیں کہ کوویڈ19 نے معیشت کو تباہ کیا، کینیڈا میں کوویڈ19 کے دوران بنایا جا نے والا بجٹ 320 ارب کا تھا لیکن رواںبرس 350ارب کر دیا گیا،آمدنی بڑھانے کے لیے سرمایہ کاروں کو بھاری پیکج دیا جائے اور کرپشن کا فضول شور ختم کیا جائے اس سے عا لمی سطح پر مارکیٹ خراب ہو تی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔ عبدالقادر میمن نے کہا کہ بجٹ کا خسارہ مختص سے زیادہ اور اہداف بھی کافی حد تک ناقابل حصول نظر آتے ہیں ان حالات میں قرضوں کے بغیر حکومت کا چلنا ناممکن ہے ایک اور معاشی بحران اور آتش فشاں ملکی بینکوں سے حکومتی قرض ہے جس میں ہر آنے والے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور اس لیے بھی حکومت کے اثاثوں کی فروخت جاری ہے۔ ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں اضافے کے حوالے سے عبدالقادر میمن کا کہنا تھا کہ اس وقت علاقائی اور دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کم تر ہے، جس کی وجہ سے معیشت کے مختلف حصوں میں سنگین عدم مساوات پیدا ہو رہی ہے،جی ڈی پی میں اپنے حصے کے اعتبار سے معاشرے کے تمام طبقات اپنی آمدنی پر ٹیکس کا جائز حصہ ادا نہیں کر رہے،انکم ٹیکس کا دائرہ وسیع کرکے زرعی آمدنی پر بھی ٹیکس وصول کیا جائے ، جی ایس ٹی کی شرح کم کرکے 5 فیصد کی جائے۔ظفر اقبال نے کہا کہ ہماری حکومت چھوٹی صنعت کا بہت شدت سے ذکر کر تی ہے لیکن اس سلسلے میں کچھ کر نے کے بجائے آئی ایم ایف کے کہنے پر اسمال اینڈ میڈیم صنعت کے لیے بجلی اور گیس کے نرخ میں اضافہ کر رہی ہے،اس سے قرض اور بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے،امریکا کی اکثر ریاستوں میں سیلز ٹیکس 4 اور پاکستان میں 15سے 17فیصد ہے ، اس کے علاوہ حکومتی اور ٹیکس افسروں اور تمام دیگر سرکاری ملازمین کے صوابدیدی اختیارات کو مکمل طور پر ختم کیا جائے اس سے بدعنوانی میں کمی ہوگی،کرپشن کا خاتمہ، سستے داموں فوری انصاف کی فراہمی،امن و امان میں بہتری اور اچھی حکمرانی قائم کرنے کے لیے اہل اور ایماندار افراد کا تقرر میرٹ پر کیا جائے، تمام حکومتی قوانین اور فارم اردو میں شائع کیے جائیں،لیبر قوانین ایس ایم ایز کے لیے آسان کیے جائیں،اس سے حکومتی آمدنی میں اضافہ ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے