کراچی /اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر+صباح نیوز) جماعت اسلامی پاکستان حلقہ خواتین کی جانب سے آج عالمی یوم حیا منایا جارہا ہے ۔پاکستان کے ہرشعبہ زندگی نے ’’ویلنٹائن‘‘ کو مسترد کردیا ہے۔ اس دن مسلمان معاشرے کی حقیقی عکاسی کے لیے کئی سال سے یوم حیا منایا جارہا ہے ۔ آج باپردہ خواتین کی ملک بھر میں اس حوالے سے ریلیاں ، سیمینارز ، مذاکرے اور دیگر پروگرامات ہوں گے۔جس سے مختلف مذہبی ودینی اسکالرزاظہار خیال کریں گے ، پاکستان میںبے حیائی اور جنسی زیادتی کے واقعات میں کچھ عرصے سے اضافہ ہوا ہے ، ویلینٹائن ڈے جیسے پروگرامات کی وجہ سے ملک کا نوجوان طبقہ بے راہ روی کا شکار ہوتا جارہا ہے ، ایسے میں نسل نو کی تربیت اور اسلامی تہذیب سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جماعت اسلامی میدان عمل میں موجود ہے ، جماعت اسلامی نے مغربی کلچر کو مسترد کرتے ہوئے آج ملک بھر میں یوم حیا منانے کا اعلان کیا ہے ۔ امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ صحت مند و پاکیزہ معاشرے کے قیام اور اسلامی اقدار کی حفاظت کے لیے حیا و حجاب کے کلچر کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ مغربی تہذیب یورپ میں تباہی کے بعد ویلنٹائن ڈے سے لیکر مادرپدر آزادی کے نام پر بے حیائی کو فروغ دے کر اسلامی تہذیب وکلچر اور ہمارے خاندانی نظام پر حملہ آور ہے۔ حکومت ویلنٹائن ڈے جیسی فرسودہ روایات کے خاتمے اور اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ 14 فروری یوم حیا کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں صوبائی امیر نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی 11 فروری سے 11 مارچ تک استحکام خاندان مہم چلا رہی ہے۔ خواتین کو وراثت میں حق ملنا چاہیے اور جہیز کی لعنت سے چھٹکارا دیا جائے۔ خاندانی نظام کے استحکام کے لیے معاشرے میں عورت کی عزت و وقار کا تحفظ یقینی بنایا جائے کیونکہ عورت خاندانی نظام کی محافظ اور روایات کی امین ہے۔ ہمارے دین اسلام نے جو عورت کو عزت و مقام دیا ہے وہ کسی نے بھی نہیں دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورتوں کے حقوق کے دعویدار مغرب نے عورت کوٹشو پیپر اور بے توقیری کی۔ جس کی وجہ سے خاندانی نظام تباہ اور نفسیاتی مریض سمیت معاشرتی مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اب وہ یہ ہی سازش پاکستان میں پھیلارے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حیا ایمان کا اہم جز ہے۔ بے حیائی جب بھی کسی چیز میں ہوگی تو اسے عیب دار بنا دیتی ہے اور حیا جب بھی کسی چیز میں ہوگی تو اسے مزین اور خوبصورت بنا دیتی ہے۔ اس وقت سامراجی قوتوں کے آلہ کار ایک منظم سازش کے تحت مختلف ذرائع سے بے حیائی کو فروغ دیکر نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ کر رہے ہیں۔ سندھ سمیت ملک بھر میں بے حیائی و جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات اسی کا شاخسانہ ہے۔ اس لیے نوجوان نسل کی تعلیم و تربیت سے لے کر قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد کی تکمیل اور اس سب کچھ سے بڑھ کر دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے حیا کے کلچر کو عام کر کے بے حیائی و بدی کا راستہ روکا جائے۔
