

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی سینیٹ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤاخذے کی کارروائی تاخیر کا شکار ہوگئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق ہفتے کے روز ٹرمپ کی دفاعی ٹیم کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سینیٹ نے ایک رائے شماری کے ذریعے 6 جنوری کو کیپٹل ہل پر دھاوے کے معاملے میں گواہوں کو طلب کرنے پر اتفاق کیا۔ 55 سینیٹرز نے اس تجویز کی حمایت اور 45 نے مخالفت کی۔ یہ بظاہر ٹرمپ کے مؤاخذے کو طول دینے کے لیے کیا گیا، کیوں کہ سینیٹرز اس معاملے میں اب تک تذبذب کا شکار ہیں۔ معاملہ اصل میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کیپٹل ہل پر حملے کی ترغیت دینے کے لیے قصور وار قرار دینے یا نہ دینے کا ہے۔ ٹرمپ کے وکلا کا موقف ہے کہ ان کے الفاظ کا مقصد لوگوں کو اشتعال دلانا اور دارالحکومت پر دھاوا بول دینے کی ترغیت دینا نہیں تھا۔ وکلا کا کہنا تھا کہ امریکی کانگریس میں جاری اس کارروائی کا مقصد محض یہ ہے کہ ٹرمپ مستقبل میں صدارتی عہدے کے لیے دوڑ سے باہر ہو جائیں اور ان کا سیاسی مستقبل ختم ہو جائے۔ اس سے قبل جمعہ کے روز سابق صدر کی دفاعی ٹیم کے دلائل سننے کے بعد سینیٹرز نے استغاثہ اور دفاعی وکلا سے سوالات کا دور کیا تھا۔ اس میں ٹرمپ کے اقدامات کے ناقد ریاست مین اور الاسکا سے ری پبلکن سینیٹرز سوسن کولنز اور لیزا مرکوسکی نے سوالات کیے۔ یاد رہے کہ رواں سال 6 جنوری کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پر دھاوا بولا تھا اور وہاں پُرتشدد کارروائیوں میں 5افراد ہلاک ہو گئے تھے، تاہم امریکی سینیٹ ٹرمپ کے مؤاخذے کے معاملے پر منقسم ہے۔
