ایمسٹرڈیم (انٹرنیشنل ڈیسک) نیدرلینڈز میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے خلاف درخواست پر ایک لاکھ 24ہزار افراد نے دستخط کردیے۔ نیدرلینڈز میں مسلمانوں کی جماعت نیدا پارٹی نے ملک میں اس اہم مسئلے کے حوالے سے قانونی سازی کا مطالبہ کیا ہے۔ خبررساں ادارے اناطولیہ کی رپورٹ کے مطابق نیداپارٹی کے رکن اسمبلی نوراللہ گارڈن نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ گستاخوں کو سزا دلانے کے مطالبے کی درخواست پر ابتدائی مرحلے ہی میں 40 ہزار سے زائد افراد نے دستخط کردیے تھے، تاہم حکومت نے اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس تعداد کو ناکافی قرار دیا۔ اس کے بعد ہم نے جاں فشانی کے ساتھ مہم چلائی اور سوا لاکھ افراد کے دستخط حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، تاہم ڈچ پارلیمان اب بھی اسے قبول کرنے سے انکار کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 50 افراد کی مدعیت میں درخواست پارلیمان میں داخل کردی گئی ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت اس پر ریفرنڈم کرائے۔ اب تک جن سرکاری افسران نے پٹیشن پر دستخط کیے ہیں، انہیں مقامی سطح پر ملامت کا نشانہ بناکر دہشت گردوں کا حمایتی قرار دیا جارہا ہے۔نوراللہ گارڈن نے بتایا کہ 17مارچ کو ملک میں عام انتخابات ہوں گے اور ہمارا مقصد اس سے قبل نئی آنے والی حکومت کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب مبذول کرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز کی موجودہ حکومت سے گستاخانہ خاکوں کے خلاف اقدامات کی کوئی توقع نہیں ہے، اس لیے لائحہ عمل طے کرکے آیندہ حکومت کو اس مسئلے سے متعلق قانون سازی پر آمادہ کرنے کے لیے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل نیدر لینڈ کی پارلیمان کے دروازے پر مسلمانوں سے نفرت اور اسلام و فوبیا سے متعلق ایک بورڈ لٹکایا گیا تھا، جس کے بعد مقامی مسلمانوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیاتھا۔
