English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد۔ عوام مہنگا آٹا و چینی خریدنے پر مجبور، قیمتوں پر نظر رکھنے پر اکتفا

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے پشاور اور ملاکنڈ کے ارکان اسمبلی ملاقات کررہے ہیں

اسلام آباد(خبر ایجنسیاں +مانیٹر نگ ڈ یسک ) وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی سمری مستردکردی جب کہ عوام مہنگاآٹا و چینی خریدنے پر مجبور ہیں تاہم حکومت نے قیمتوں پر نظر رکھنے پر اکتفا کیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)کی سمری مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے ہر حد تک جائے گی۔ عوامی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھتے ہو ئے وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی تجویز منظور نہیں کی۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لیے ہر حد تک جائے گی۔واضح ر ہے کہ اس سے قبل حکومت ڈھائی ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات مسلسل 5 بار مہنگی کرچکی ہے۔ علاوہ ازیںدرآمد اور حکومتی دعوئوں کے باوجود شہری مہنگا آٹا اور مہنگی چینی خریدنے پر مجبور ہیں۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے میں آٹے کا 20کلو تھیلامزید مہنگا ہو گیا ہے جب کہ ایک ہفتے میں چینی 5روپے کلو تک مہنگی ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سیالکوٹ میں آٹے کا تھیلا مزید مہنگا ہوا ہے جبکہ کراچی میں20کلو گرام کا تھیلا20روپے تک مہنگا ہوا ہے جب کہ بنوں، لاڑکانہ اور خضدار میں بھی آٹے کے تھیلے کی قیمت 20روپے تک بڑھی ہے۔ حیدرآباد کے شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خرید رہے ہیں جب کہ اسلام آباد، راولپنڈی اور پشاور کے شہری سب سے مہنگی چینی خرید رہے ہیں،ان تینوں شہروں میں چینی اس وقت100روپے فی کلو تک فروخت ہورہی ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے ملک بھرمیں آٹے کی بلارکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں اورمتعلقہ محکموں کوتمام ضروری انتظامی اقدامات ،ذخیرہ اندوزی ، بلیک مارکیٹنگ کے تدارک کے لیے صوبوں اورضلعی انتظامیہ کوقیمتوں کی کڑی نگرانی کی ہدایت کی ہے ۔ انہوں نے یہ ہدایت پیر کوقیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ اجلاس میں ہفتے کے دوران روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا بالخصوص آٹا، چکن، چینی اورخوردنی تیل کی قیمتوں کے رحجانات کاجائزہ لیاگیا۔سیکرٹری خزانہ نے اجلاس کوبتایا کہ گزشتہ ہفتہ کے دوران عام آدمی کے لیے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں 0.81 فیصدکا اضافہ ہوا ۔ وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق کے سیکرٹری نے ملک میں گندم کے ذخائر کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ ملک بھرمیں گندم کے مناسب ذخائر موجود ہیں،انہوں نے صوبوں کی جانب سے گندم کے یومیہ اجرا کی صورتحال پراطمینان کااظہارکیااورکہاکہ ملک بھرمیں گندم کی دستیابی اورفراہمی کی صورتحال تسلی بخش ہے۔سیکرٹری خوراک حکومت بلوچستان نے اجلاس کو بتایا کہ پاسکوسے 20 ہزارمیٹرک ٹن گندم فوری طورپراٹھانے کے لیے انتظامات کرلیے گئے ہیں۔ وزارت صنعت وپیداوارکی جانب سے اجلاس کوآگاہ کیا گیا کہ جاری سیزن میں گنے کی تقریباً80فیصد کرشنگ مکمل ہوچکی ہے۔وزارت صنعت وپیداوارکی جانب سے متعلقہ صوبائی حکومتوں کومستقبل میں چینی کی ضروریات کے تخمینہ جات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی تاکہ سال بھرکے لیے چینی کی فراہمی کی موثرمنصوبہ بندی کی جاسکے۔وفاقی وزیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے ملک بھرمیں آٹے کی بلارکاوٹ فراہمی یقینی بنانے کے لیے صوبائی حکومتوں اورمتعلقہ محکموں کوتمام ضروری انتظامی اقدامات کی ہدایت کی۔ انہوں نے ذخیرہ اندوزی اوربلیک مارکیٹنگ کے تدارک کے لیے صوبوں اورضلعی انتظامیہ کوقیمتوں کی کڑی نگرانی کی بھی ہدایت کی۔ ادھروزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے حکومتی معاشی ٹیم کا اجلاس ہوا۔جس میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ممکنہ حد تک کمی لانے کے لیے مختلف مجوزہ اقدامات پر غور خوض کیا گیا ۔اجلاس میں وفاقی وزرا مخدوم خسرو بختیار، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، اسد عمر، مشیران ڈاکٹر عشرت حسین، عبدالرزاق داؤد، گورنر اسٹیٹ بینک، معاونین خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود، ندیم بابر، تابش گوہراور سینئر افسران شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے وزیراعظم کو بتایا کہ ملک میں گندم کی پیداوار اور ملکی ضروریات کو پورا کرنے، سرکاری سطح پر گندم کی خرید، ترسیل، اسٹوریج و دیگر انتظامی اخراجات میں واضح کمی لانے کے حوالے سے مفصل پلان تشکیل دینے پر کام جاری ہے اور اس حوالے سے تفصیلی پلان جلد وزیر اعظم کو پیش کر دیا جائے گا۔ معاون خصوصی ڈاکٹر وقار مسعود نے وزیر اعظم کو درآمد شدہ گھی، دالوں اور دیگر اجناس پر ڈیوٹیز کی شرح اور موجودہ حالات میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی چھوٹ پر تفصیلی بریفنگ دی۔ درآمد شدہ گھی وغیرہ پر ٹیکسوں کے حوالے سے خطے کے دیگر ممالک کا تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے