واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی نیوز بریفنگ میں قبضہ جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے ‘وفاقی اکائی’ کی اصطلاح استعمال کی تاہم اس نے اسی وقت اس بات پر زور دیا کہ واشنگٹن کی کشمیر کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے متنازع علاقے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم جموں و کشمیر کے وسطی علاقوں کو بھارت کے جمہوری اقدار کے مطابق مکمل معاشی اور سیاسی معمول پر لوٹنے کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں’۔
امریکا نے جموں وکشمیر کو مستقل طور پر بھارت اور پاکستان کے درمیان متنازع علاقہ تسلیم کیا ہے اور دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس مسئلے کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
تاہم گزشتہ ماہ مقبوضہ وادی میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے دوبارہ آغاز کا خیرمقدم کرتے ہوئے محکمہ خارجہ کے ایک ٹوئٹ نے متنازع علاقے کو ‘بھارت کا جموں و کشمیر’ کہا تھا۔
اسلام آباد نے اس گمراہ کن بیان کا فوری جواب دیتے ہوئے واشنگٹن کو یاد دلایا تھا کہا کہ یہ خطے کی متنازع حیثیت سے ‘متضاد’ ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ہم غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں فور جی موبائل انٹرنیٹ کو دوبارہ شروع کرنے سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کے ٹوئٹ میں جموں و کشمیر کے حوالے کو دیکھ کر مایوس ہیں’۔
نیوز بریفنگ میں ایک صحافی نے نیڈ پرائس سے سوال کیا کہ کیا امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گزشتہ ماہ کے آخر میں اپنے بھارتی ہم منصب سے بات کرتے وقت مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم جموں و کشمیر میں ہونے والی پیشرفتوں کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، ہماری پالیسی کی جب بات آتی ہے تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، بھارتی جمہوریہ کے اقدار کے مطابق وفاقی اکائی جموں و کشمیر میں مکمل معاشی اور سیاسی معمول پر لوٹنے کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے سیکریٹری انٹونی بلنکن کو اپنے بھارتی ہم منصب سے بات کرنے کے کئی مواقع ملے ہیں، دونوں طرف سے اور ایک وسیع تر سیاق و سباق کے ساتھ’۔
نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا کے پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ ‘تعلقات اہم’ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ تعلقات ہمارے خیال میں اپنی اپنی جگہ ہیں اور جب امریکی خارجہ پالیسی کی بات ہو تو اس میں کوئی ردو بدل نہیں’۔
واشنگٹن دونوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھنا کیوں چاہتا ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے امریکی عہدیدار نے کہا کہ ‘ہمارے ایک کے ساتھ نتیجہ خیز اور تعمیری تعلقات ہیں جبکہ ہمارے دوسرے کے ساتھ جو رشتہ ہے وہ اس سے دور نہیں، یہ دوسرے کے ساتھ ہمارے تعلقات کی قیمت پر نہیں’۔
منبع: ڈان نیوز
