English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرونا پاکستان کی بزرگ آبادی کے لیے شدید خطرہ کیوں ہے؟ شفقنا صحت

القمر

پاکستان کی وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگیولیشن اینڈ کوآرڈینیشن کے 19 فروری 2021 کو جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں کرونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 568،506 ہے جب کہ 12،527 اموات ریکارڈ کی جاچکی ہیں۔  19 فروری کے بعد اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران 1،245 نئے کیسز اور 40 اموات رپورٹ ہوئیں۔ اب تک 8,602,515 کرونا کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جب کہ ستمبر 2020 کے بعد سے پاکستان کی روزانہ کی بنیا د پر ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت 35،000 تک پہنچ چکی ہے۔ابتدا میں یہ صلاحیت محض 20،000 ٹیسٹس فی دن تک محدود تھی۔ پاکستان میں روزانہ کرونا کی بنیاد پر ہونے والی اموات کی تعدادد قریبا پچاس افراد ہیں تاہم 15 جون 2020 کو یہ شرح 124 افراد تک پہنچ گئی تھی۔ جون 2020میں پاکستان میں کرونا کے مثبت ہونے کی شرح 9 فیصد تک چلی گئی تھی تاہم اس کے بعد سے یہ کم ہو رہی ہے اور اب یہ صرف 4 فیصد ہے۔

اس ڈیٹا سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان نے وبا کے اثرات کو کافی حد تک محدود کر دیا ہے اور اگر ایسا ہے تو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ سپین، اٹلی اور انگلینڈ کی نسبت پاکستان کی طرح کے ممالک نے کرونا پر قابو پا لیا ہے؟ پاکستان کے حوالے سے یہ بات حیران کن ہے کہ اگرچہ لوگ کرونا کی ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کر رہے اور نہ ہی ضروری احتیاط اختیار کر رہے ہیں تاہم پھر بھی پاکستان میں اموات کی شرح کافی حد تک کم ہے۔ یہ بات درست ہے کہ بہت سارے لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے اور محدود ماحول میں کام کرنے کی وجہ سے سماجی فاصلہ برقرار نہیں رکھ سکتے۔  جب کہ کم ماہانہ آمدنی کے باعث بہت سارے لوگ صابن، ماسک اور ہینڈ سینیٹائزز خریدنے سے قاصر ہیں۔ اس تمام صورتحال سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وائرس کے ساتھ اس قدر کھلے سامنے کے بعد پاکستان میں شرح اموات کم کیوں ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کی نسبت پاکستان میں کرونا کے کیسز کی تعداد کم کیوں ہے؟ پاکستان میں کرونا پر ریسرچ نہ ہونے کے باعث اس کا مستند جواب تو نہیں دیا جاسکتا تاہم اس کا منطقی تجزیہ شاید ان سب سوالات کے جوابات دینےمیں مددگار ثابت ہو۔

یہ بات کہنا کہ کرونا وبا نے پاکستان کو بخش دیا ہے سرا سر غلط ہے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ہمیں پاکستان میں عمروں کے تناسب کا جائزہ لینا ہوگا کیونکہ  کرونا وبا کی سختی کا عمر  اور اموات کی شرح کے ساتھ گہرا تعلق ہے پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا تناسب نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے پاکستان کی نوجوان نسل اس وبا سے متاثر ہونے سے محفوظ ہے اور پہلے سے مختلف بیماریوں کے شکار بزرگ اموات کا شکار ہو رہے ہیں اور ان اموات کی ایک وجہ صحت کا ناقص نظام بھی ہے۔ اس وقت پاکستانی آبادی  میں اوسط عمر 22 سال  اور اس کی آدھی آبادی 22 سال سے کم اور آدھی اس سےزیادہ ہے۔

پاکستان میں 55 سے 64 سال تک کی عمر کے افراد کی شرح 55۔5 فیصد ہے جبکہ 65 سال سے زائد کی تعداد 4۔4 فیصد ہے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ کرونا کی شرح اموات اور اموات کا خطرہ عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے اس لیے ہماری زیادہ آبادی کو خطرات لاحق ہی نہیں ہیں۔ چین اور اٹلی میں اموات کی شرح میں اضافے کا بڑا سبب ان کی اکثریتی آبادی کی عمر کا زیادہ ہونا تھا۔ ہمیں اس بات کا بھی علم ہے کہ پاکستان میں اوسط متوقع عمر قریبا 65 برس ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اوسط عمر کی حد 80 سال ہے۔ پاکستان میں کم آمدنی والے لوگ  متوقع اوسط عمر سے اوپر نہیں جاتے۔ جب کہ ایسے بزرگ افراد جو کہ معاشی طور پر مضبوط ہیں اور کرونا وبا سے بچنے کے وسائل رکھتے ہیں اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ پاکستان میں بزرگ اموات کی شرح بھی کم رہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے پاکستان کی بزرگ آبادی کا اس وبا سے اس طرح واسط ہی نہیں پڑا جس طرح نوجوان نسل کا پڑا ہے۔

یہاں پر ایک سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کی 17 فیصد آبادی ذیابیطس اور دل کی بیماریو ں کا شکار ہے مگر پھر بھی وہ کرونا کی وجہ سے مختلف پیچیدگیوں سے کیسےمحفوظ رہی؟  مغرب کی نسبت پاکستان میں ذیابیطس کا خطرہ نوجوانی میں ہی لاحق ہوجاتا ہے۔ ایک حالیہ مطالعے کے مطابق پاکستان میں 18856 لوگ ذیابیطس کے مریض ہں اور ان میں سے 1۔16 فیصد مریضوں کی عمر 20 سے 30 سال کے مابین ہے  اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مغربی ممالک کی نسبت پاکستان کی نوجوان آبادی کو یہ مرض لاحق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذیابیطس کے باوجود یہ طبقہ کرونا سے محفوظ رہا۔  یہاں پر ایک اور مسئلہ اعدادو شمار کا بھی ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ پاکستان میں بڑی عمر کے ذیابیطس کے مریض کرونا کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار رہے ہوں مگر ان کی شناخت اور کانٹیکٹ ٹریسنگ نہ ہونے کی وجہ سے ان کو کرونا کے شمار میں نہیں لایا جاتا۔

پاکستان ہر 1000 افراد میں سے 35 افراد کے ٹیسٹ کر رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت انتہائی محدود ہے۔جب کہ ترقی یافتہ ممالک جیسا کہ امریکہ اور برطانیہ میں یہ شرح 1000 میں سے 945 افراد ہیں یا پھر عرب امارات کی مثال لے لیں جس کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت آبادی کے تناسب سے تین گنا زیادہ ہے۔ اس لیے ٹیسٹنگ کی قلت اور گھٹیا معیار کرونا کے کیسز کا درست اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔  یہ ممکن ہے کہ اگر پاکستان ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ کرے تو اسے اندازہ ہو کہ پاکستان میں بھی کرونا کےمریضوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

پس یہ کہنا ہے کہ دیگر ممالک کی نسبت پاکستان میں کرونا کا خطرہ کم ہے سراسر غلط ہے۔ پاکستان کی صرف دس فیصد آبادی 55 سال سے زائد عمر کی ہے اور اس صورتحال میں روزانہ چالیس اموات اتنی بھی کم نہیں ہیں۔ پاکستان میں اپنے گھرو الوں اور بچوں کے لیے روزی کمانے والے درمیانی عمر کے افراد کو حکومت کی جانب سے کوئی ایسی سہولت یا امداد میسر نہیں ہے جس سے وہ اپنا تحفظ کر سکے اور زندگی کے اچھے معیار کو حاصل کر سکے۔ اس لیے روزانہ چالیس اموات کا مطلب ہے کہ ہم روز لوگوں کو کھو رہے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو ہماری تعریف میں بزرگ ہیں جبکہ مغرب کے حساب سے یہ لوگ ابھی بوڑھے نہیں کہلائے جا سکتے۔ یہ بات پہلے ہی کی جاچکی ہے کہ ہماری ہاں متوقع زنگی 65 برس ہے جبکہ مغرب میں یہی متوقع زندگی 90 سال ہے۔

اس لیے پاکستان میں بھی مغرب کی طرح ہی کرونا کے حوالے سے احتیاط اور توجہ کی ضرورت ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ بڑی عمر کے افراد جو کہ ذیابیطس اور بلند فشار خون جیسی بیماریوں کا شکار ہیں ان کاہر ممکن تحفظ کریں  اور ایسی احتیاطی تدابیر اپنائیں کہ کرونا ان سے خاندان کے بزرگ افراد  تک نہ پہنچے۔  اگرچہ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں اور جو ہماری روایات ہیں اس میں یہ ممکن نہیں ہے تاہم نوجوان افراد کو پھر بھی چاہیے کہ وہ بزرگوں سے بہت قریبی واسطہ نہ رکھیں اور فاصلے کا خیال کریں۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ اور امریکہ میں لوگوں کووبا کے دوران اولڈ ہومز میں اپنے بزرگوں سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ اس حوالے سے لوگوں میں آگاہی اور شعور بیدار کرے تاکہ کرونا کے حقیقی خطرات سے بچا جا سکے۔  مزید برآں پاکستان کو اپریل میں کرونا ویکسین کی مزید 17 ملین خوراکیں ملنا ہیں تاہم یہ خوراکیں صرف 5۔8 ملین افراد کے تحفظ کے کام آسکتی ہیں اس لیے باقی آبادی کو چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔

جمعتہ المبارک، 5 مارچ 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے