سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد تیل کی قیمت میں اضافہ ہوگیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد تیل کی قیمت میں بھاری اضافہ دیکھا جارہا ہے اور برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں اس کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کرگئی ہے جو کورونا وائرس کے آغاز کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیائی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کے مئی کے سودوں میں قیمت 71.38 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جو 8 جنوری 2020 کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔
اس کے علاوہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 2 سال کے مقابلے میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں اپریل کے لیے 1.60 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 67.98 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے جو اکتوبر 2018 کے بعد سب سے زیادہ قیمت ہے۔
خیال رہے کہ حوثی باغیوں نے اتوار کے روز دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ٹرمینل سعودی آرمکو سمیت دیگر آئل تنصیبات کو ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا جسے فوری طور پر ناکام بنادیا گیا۔
سعودی عرب کی جن تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا وہ 6.5 ملین بیرل تیل کی ایکسپورٹ کی صلاحیت رکھتی ہیں جو تیل کی طلب کا 7 فیصد ہے۔
سعودی عرب: تیل کی تنصیبات کے قریب ڈرون اور میزائل حملے کی تصدیق

سعودی عرب نے مشرقی بندر گاہ پر تیل تنصیبات کے قریب ڈرون اور میزائل حملے کی تصدیق کر دی۔
سعودی وزارت توانائی نے مشرقی بندر گاہ پر تیل تنصیبات کے قریب ڈرون اور میزائل حملے کی تصدیق کی تاہم کسی جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
اس سے پہلے سعودی اتحادی فورسز کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کے ڈرون حملوں کے بعد یمن میں حوثیوں کے عسکری ٹھکانوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی ملیشیا نے اتوار کی صبح سعودی عرب کی جانب بارود سے بھرے 12 ڈرون بھیجے تھے جنہیں اتحادی فورسز نے تباہ کردیا تھا۔
منبع: جیو نیوز
