پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار شاید ملک کی عدالتی تاریخ کے واحد جج ہوں گے جنھیں ان کے عدالتی فیصلوں سے زیادہ ’غیر عدالتی‘ سرگرمیوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ مثلاً انھوں نے پاکستان میں پانی کی کمی کے مسئلے کو جس شدت اور تواتر کے ساتھ اجاگر کیا اس کے نتیجے میں وہ ڈیم بنانے کا اپنا ہدف تو ابھی تک پورا نہیں کر پائے لیکن اس دوران انھوں نے پانی کی کمی کے مسئلے کو پاکستانی میڈیا اور سیاست کے مرکز تک پہنچا دیا۔ بطور چیف جسٹس آف پاکستان وہ اپنی تعیناتی کے دوران انصاف کی ممکنہ فراہمی کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی کر جاتے تھے جو کہ قانونی ماہرین کی نظر میں براہ راست حکومتی اور انتظامی امور میں مداخلت کے مترادف تھے۔ صاف پانی، ہسپتالوں کی صفائی، بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز کی اپیل، ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی، اہم سیاسی اور دیگر شخصیات سے سکیورٹی واپس لینے کے احکامات اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد، یہ ایسے کام ہیں جو کہ براہ راست حکومت کے کرنے کے ہیں لیکن ان کاموں کا بوجھ بھی چیف جسٹس نے اپنے کندھوں پر اُٹھایا ہوا تھا۔
اپنے دور حکومت میں انہوں نے ہمیشہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ اس ملک سے انتہائی مخلص ہیں اور ملک کی ترقی کے لیے دن رات ایک کرنے سے بھی گریز نہیں کرنے والے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ڈیم بنانے کے حوالے سے بے بہا شہرت پائی مگر اس شہرت کے پیچھے بھی اصل وجہ ان کا ہر وقت میڈیا میں رہنے کا شوق تھا۔ اپنے وقت میں پاکستانی عوام سمجھنے لگی تھی کہ افتخار محمد چوہدری کے بعد یہ دوسرے ایسے چیف جسٹس ہیں جو بے حد حب الوطن اور پاکستان سے مخلص ہیں مگر جیسے ہی وہ ریٹائر ہوئے اس وقت سے نہ تو وہ دوبارہ کہیں نظر آئے اور نہ ہی ڈیم فنڈ کی مد میں اکٹھے والے والے ان اربوں کھربوں کا کوئی پتا ہے؟ آج تک یہ پتا نہیں لگایا جاسکا کہ وہ اربوں روپے کس کے اکاؤنٹ میں جمع ہیں اور کیوں جمع ہیں کیونکہ وہ ملک وقوم کا پیسا ہے مگر اس حوالے سے میڈیا بھی مکمل خاموش ہے اور حکومت بھی۔
ڈیم کا پیسا تو چلو ہضم ہوا ہی ہے اب ایک اور تازہ ترین انکشاف کے مطابق سابق چیف جسٹس صاحب دس لاکھ روپے ماہانہ پنشن، تین سو لیٹر پیٹرول ماہانہ، بجلی کے دہ ہزار ماہانہ یونٹس، تین ہزار مفت لوکل کالز ، سرکاری خرچے پر ایک اردلی، ڈرائیور، سیکورٹی گارڈ اور گریڈ سولہ کا ایک پرائیویٹ سیکرٹری بطور مراعات لے رہے ہیں۔ ان سب مراعات سے تو یوں لگتا ہے کہ جیسے چیف جسٹس صاحب نے چیف جسٹس کے عہدے پر براجمان ہو کر اس ملک کے غریب عوام کا بھلا کیا ہو؟ ایک سوال یہ بھی ہے کہ ملک کا اس قدر دکھ درد رکھنے والے چیف جسٹس نے جو مراعات حاصل کر رکھی ہیں کیا وہ دیگر چیف جسٹس کو بھی حاصل ہیں یا یہ بھی انصافی حکومت کی خصوصی نظر کرم ہے کہ انہیں اس قدر مراعات فراہم کر دیں کیونکہ ثاقب نثار صاحب نے جس طرح نواز شریف اور آصف علی زرداری پر ڈرون حملے کیے ہیں اس سے یہ بات تو ثابت ہے کہ ثاقب نثار صاحب وزیر صاحب کے پسندیدہ چیف جسٹس تھے۔
اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ماہ قبل اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے فل کورٹ سے اپنے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد اضافی سہولتوں اور مراعات کی منظوری حاصل کی تھی اور اس کے بعد وفاقی حکومت نے بھی اس کی منظوری دیدی حالانکہ وزارت قانون اور وزارت خزانہ نے اس اقدام پر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا تھا۔ کیس کی سرکاری فائل جو کہ وزارت قانون کو اس وقت کے ڈپٹی رجسٹرار سپریم کورٹ نے بھیجی تھی سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی طور پر اس تجویز پر کچھ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا گیا۔ اگست 2018ء میں عمران خان کے وزیراعظم بننے سے چند روز قبل وزارت قانون نے وزیراعظم آفس کو سمری بھیجی، جس میں سپریم کورٹ کے فل کورٹ کا 7 جولائی، 2018 کو ہونے والے اجلاس کا حوالہ دیا گیا۔ سمری میں کہا گیا کہ فل کورٹ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد سہولت فراہم کی جائے گی اور انہیں ایڈیشنل پرائیویٹ سیکرٹری کی خدمات سپریم کورٹ کے بجٹ سے فراہم کی جائیں گی۔ وزارت قانون نے اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے کہ کسی ریٹائرڈ وفاقی سیکرٹری یا 22 گریڈ کے افسر کو 16 گریڈ کے اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کی خدمات سرکاری اخراجات پر فراہم کی جائے۔لیکن سمری میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ بار بار مجوزہ ترمیم (جو کہ 1997 کے صدارتی آرڈر 2 میں کی گئی) پر عمل درآمد کا کہتا رہا۔وہ عمران خان کی حکومت ہی تھی جس نے 1997 کے صدارتی آرڈر 2 میں 2018 میں ترمیم کی (جو کہ اعلیٰ عدالتوں کی درخواستوں، پنشنز اور مراعات سے متعلق تھا) تاکہ جسٹس ثاقب نثار کو ان کی ریٹائرمنٹ پر اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری فراہم کیا جاسکے۔
انصافی حکومت کا بھی دیگر حکومتوں کی طرح یہ مقصد رہا ہے کہ جتنے بھی اعلی درجے کے ملازمین ہیں ان کی زندگی کا اسی دنیا میں جنت بنا دیا جائے جبکہ نچلی سطح پر عوام کو محض اتنے ریسورسز فراہم کیے جائیں کہ وہ زندہ ر ہ سکیں ۔ باقی زندگی کی سہولیات تو درکنار ان کے بچوں کے لیے تعلیم، خوراک اور روز مرہ زندگی کی ضروریات بھی ان کو پوری طرح نہیں مل پا رہیں۔ ان کے لیے محض اس انصاف کے لیے تالیاں بجانا ہی باقی بچتا ہے اور نعرے لگانا ہی رہ جاتا ہے۔ اس خبر پہلے سے طے شدہ اس بات کی توثیق بھی ہوگئی ہے کہ اس ملک میں صرف اور صرف طبقہ اشرافیہ کے مفادات کو ہی تحفظ حاصل ہوسکتا ہے ۔ نچلے طبقے کے لیے محض وعدے اور دعوے ہیں۔
جمعرات، 11 مارچ 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
