English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

میانمر:فوجی بغاوت کیخلاف احتجاج دیہات تک وسیع

میانمر: مظاہروں میں شریک شہری پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ساتھی کی لاش اٹھا رہا ہے‘ نوجوان جان بچانے کے لیے ڈھال کے پیچھے چھپ رہا

نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر میں باغی فوج کے خلاف جاری احتجاج شہروں کے بعد اب دیہات تک پھیل گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ روز میانمر کے جنوب مشرقی شہر دیوائی اور دیہی علاقے میں ریلیاں نکالی گئیں، جن میں اسکول کے بچوں اور نرسوں نے بھی شرکت کی۔ دیہی علاقے میں نوجوانوں نے بائیک ریلی نکالی اور آمریت کے خلاف نعرے لگائے۔ بدھ کے روز مظاہروں کے دوران پولیس نے مندالے شہر میں مظاہرین پر دھاوا بول کر کئی افراد کو گرفتار کرلیا۔ سیکورٹی اہل کاروں کی فائرنگ سے ایک 16سالہ لڑکی شدید زخمی ہوگئی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ زخمی لڑکی کا کسی طرح بھی مظاہرین سے تعلق نہیں تھا اور وہ سبزی خریدنے کے لیے بازار گئی تھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اسے مقامی اسپتال منتقل کیا گیا،تاہم وہاں کے عملے نے علاج سے ہاتھ کھڑے کرکے اسے 3تین گھنٹے کی مسافت کی دوری پر واقع ملٹری اسپتال لے جانے کا کہہ دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق زخمی لڑکی زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے فوجی بغاوت کے خلاف جاری پُر امن مظاہروں پر طاقت کے اندھا دھند استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے جاپان کے دورے کے موقع پر کہا کہ میانمر کی فوج جمہوری انتخابات کے نتائج کومسترد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ملک بھر میں پرامن مظاہرین کی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال جاری ہے۔ اقوام متحدہ اور دہگر ذرائع کے مطابق میانمر میں یکم فروری کو فوجی بغاوت کے بعد سے جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف کریک ڈان میں اب تک 200افراد مارے جاچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے