English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عوام سے مینڈیٹ لینے والے مفادات کیلیے اسے فروخت کردیتے ہیں ، حافظ نعیم الحمٰن

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن’’حق دو کراچی ریلی‘‘ کے سلسلے میں استقبالیہ سے خطاب اور دکانداروںسے ملاقاتوںکے دوران ریلی میں شرکت کی دعوت دے رہے ہیں

 

کراچی(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ کراچی کو کوئی پارٹی اون نہیں کرتی ، بد قسمتی سے یہاں سے مینڈیٹ لینے والے بھی اسے اپنا نہیں سمجھتے اور مفادات ، مراعات ، اقتدار کے مزے اور وزارتوں کے لیے مینڈیٹ بھی فروخت کر دیتے ہیں ۔ حکمران پارٹیوں کی کراچی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ، وفاقی حکومت کے 650ارب کے ترقیاتی بجٹ میں کراچی کے لیے صرف 15ارب روپے اور سندھ کے 233ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں کراچی کے لیے صرف 3.3ارب روپے رکھے گئے جبکہ کراچی پورے ملک سے جمع ہونے والے ٹیکس میں 41 فیصد اور ریونیو میں تقریباً 70فیصد حصہ ڈالتا ہے اور سندھ کے بجٹ میں 70فیصد حصہ کراچی فراہم کرتا ہے لیکن 3 کروڑ سے زایدآبادی کے اس شہر کو عملاً کچھ نہیں ملتا ۔ جماعت اسلامی اہل کراچی کے حق کے لیے میدان عمل میں موجود ہے ۔ 28 مارچ کو ’’حق دو کراچی
ریلی ‘‘ کے ذریعے اہل کراچی اپنی قوت اور طاقت کا بھر پور مظاہرہ کریں گے اور گورنر ہائوس پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’حق دو کراچی ریلی ‘‘ کے سلسلے میں ضلع قائدین کے دورے کے دوران متعدد مقامات پر عوامی اجتماعات و کارنر میٹنگز اور روہیل کھنڈ سوسائٹی میں معززین علاقہ کے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ استقبالیے سے امیر ضلع قائدین سیف الدین ایڈووکیٹ، نائب امیر ضلع نصیر اللہ حسینی ، معروف صنعت کارزاہد سعید ، بلدیہ عظمیٰ کراچی میں جماعت اسلامی کے سابق پارلیمانی لیڈر جنید مکاتی ، سابق یوسی ناظم و سیکرٹری ضلع لئیق احمد ، دہلی مرکنٹائل سوسائٹی کے صدر فرقان سروانہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ حافظ نعیم الرحمن نے خداداد کالونی، لیاقت روڈ ،لائنزایریا ، چڑھائی مارکیٹ ، قدیمی سبزی منڈی گلی ، جٹ لائن 100کوارٹر ، ٹانگہ اسٹینڈ ، قصاب چوک ، ہرااسپتال و ڈسپنسری ، پی آئی بی کالونی ، پرانی سبزی منڈی ، پختون چوک ، خوشحال خان خٹک چوک ، کرنال بستی اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا ۔ علاقہ مکینوں ، دکانداروں ، سبزی و پھل فروشوں ، مختلف اسٹال ہولڈرز سے ملاقات کی اور ان کو 28مارچ کو قائد آباد تا گورنر ہائوس ’’حق دو کراچی ریلی ‘‘ میں شرکت کی دعوت دی ۔ علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم جٹ لائن میں ہندو اور مسیحی آبادی میں بھی گئے اقلیتی برادری کے کمیونٹی ہال میں ان کے بزرگوں اور نوجوانوں سے ملاقات کی اور ریلی میں شرکت کی دعوت دی ۔دورے کے دوران جگہ جگہ ان کا شاندار استقبال کیا گیا ۔ ہار پہنائے گئے اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں ۔ لوگوں نے ان کی آمد کا خیر مقدم کیا اور حقوق کراچی تحریک کو سراہا ، علاقہ مکینوں اور دکانداروں نے بجلی ، پانی ، سیوریج اور صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات ، گلیوں اور سڑکوں کی خستہ حالی سمیت مختلف مسائل بھی بیان کیے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے عوام کو یقین دلایا کہ جماعت اسلامی عوام کے مسائل حل کرانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی اور اہل کراچی کے جائز اور قانونی حق کے لیے جدو جہد جاری رکھے گی ۔ ماضی میں بھی عبد الستار افغانی اور نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کے ادوار میں شہر کی مثالی خدمت کی گئی ، تاریخی منصوبے و پروجیکٹ شروع کیے گئے اور شہر قائد کا روشن اور تابناک مستقبل بھی جماعت اسلامی سے ہی وابستہ ہے اور جماعت اسلامی ہی مسائل حل کرانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ اہل کراچی کی حق تلفی میں تمام بڑی پارٹیاں ہمیشہ سے شریک رہی ہیں ۔ ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی ، نواز لیگ اور اب تبدیلی کے نام پر اقتدار میں آنے والی پی ٹی آئی کی ترجیحات اور ایجنڈے میں کراچی کبھی شامل ہی نہیں رہا ہے ۔ بارشوں میں جب پورے شہر سمیت ڈیفنس بھی ڈوب گیاتو عمران خان کراچی آئے اور 11سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا اس سے قبل وہ 162ارب کے پیکج کا بھی اعلان کر چکے تھے ۔ شہر کی بحالی اور ترقی کے لیے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان بنایا گیا اور اس کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی لیکن ابھی تک نتیجہ صفر نکلا ، شہر کی حالت ابتر ہے ، گلیاں ، سڑکیں کھنڈر بنی ہوئی ہیں ، بجلی اور پانی کا بحران پھر سر اُٹھا رہا ہے ۔ 3 کروڑ کے شہر کے لیے ٹرانسپورٹ عملاً موجود نہیں ۔ عوام ان کمیٹیوں اور حکمران پارٹیوں سے سوال کرتے ہیں کہ اربوں روپے کے پیکج کا کیا ہوا ؟ 7ماہ میں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر کتنے فیصد عمل ہوا؟ تجاوزات کے خاتمے کی مہمات تو چلائی جاتی ہیں لیکن دوبارہ آبادکاری کے پلان پر عمل کیوں نہیں کیا جارہا ہے ۔ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر میں ہزاروں گھرانوں کو متبادل جگہ اور معاوضہ فراہم کیا تھا۔ حافظ نعیم الرحمن نے لائنزایریا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال و ڈسپنسری پر قدیم قبضہ جماعت اسلامی کی پبلک ایڈ کمیٹی کی کوششوں سے ختم کرایا گیا اب حکومت اور متعلقہ حکام کی ذمے داری ہے کہ اسے بحال کر کے عوام کے لیے قابل استعمال بنایا جائے ۔ جماعت اسلامی اور الخدمت اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کرے گی ، انہوں نے کہا کہ لائنز ایریا کے نوجوانوں کو ایک سازش کے تحت غلط سرگرمیوں میں لگایا گیا اور ان کے ہاتھوں میںاسلحہ پکڑ ایا گیا ۔ جماعت اسلامی ان کو قلم کتاب اور کمپیوٹر دینا چاہتی ہے اور پبلک ایڈ کمیٹی کے ذریعے نوجوانوں کی قوت اور قیادت آگے لائے گی اور ان کو بہتر مستقبل اور ملک اور قوم کے لیے تیار کرے گی ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے