English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

29 سال بعد بھی ورلڈکپ 1992 کی یادیں تازہ ہیں،مصباح الحق

القمر

کراچی (سید وزیرعلی قادری) پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈیجٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈکپ 1992 کی تاریخی فتح کی 29ویں سالگرہ کا جشن منایا۔ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے ایونٹ کے فائنل میں انگلینڈ کو 22 رنز سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔اس موقع پرنہ صرف پی سی بی نے مداحوں کے لیے فاتحانہ لمحات کی یادیں تازہ کیں بلکہ یہ بھی واضح کیاکہ اس تاریخی فتح نے کیسے پاکستان میں بسنے والی ایک نسل کو اس کھیل سے روشناس کروایا۔ قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ ہیڈ کوچ اور 2016 میں آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر پہنچنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا کہنا تھا کہ یہ فتح پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، انہیں آج بھی یاد ہے کہ وہ اس وقت ایف ایس سی کے طالب علم تھے اور آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کے ٹائم زون کی وجہ سے انہیں ورلڈکپ کے میچز دیکھنے کے لیے صبح جلدی اٹھنا پڑھتا تھا۔ مصباح الحق نے مزید کہا کہ اس ورلڈکپ میں عمران خان کی ولولہ انگیز قیادت، بطور ایک سینئر کرکٹر جاوید میانداد کاکردار اور انضمام الحق، وسیم اکرم اور عاقب جاوید کی بحیثیت نوجوان کرکٹر کارکردگی قابل دیدتھی، یونس خان کاکہنا تھا کہ وہ اس وقت چھٹی یا 7ویں جماعت کے طالب علم تھے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کا مہینہ تھا مگر وہ ورلڈکپ کے میچز دیکھنے کی غرض سے سارا دن ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھے رہتے تھے۔ یونس خان نے کہا کہ انہیں آج بھی اس ورلڈکپ کے فائنل میں پھینکی گئی ایک، ایک گیند یاد ہے اوریہ جیت 2009 میں کھیلے گئے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوران ان کی حوصلہ افزائی کاباعث بھی بنی۔ محمد حفیظ کا کہناتھا کہ تمام پاکستانیوں کے لیے یہ ایک قابل فخر لمحہ تھااور اس فتح نے انہیں کرکٹ کھیلنے پر متاثر کیا، اس وقت ان کی عمر 12 سال تھی۔سرفراز احمد نے کہا کہ اس تاریخی فتح کے وقت ان کی عمر5 سال تھی، یاد ہے کہ انہوں نے کرکٹ کھیلنے کا آغاز بھی ورلڈکپ کے بعد ہی کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس تاریخی فتح میں اہم کردار ادا کرنے والے انضمام الحق، معین خان اور مشتاق احمد ہمارے لیجنڈز بنے،یہ کامیابی آج بھی ہمارے کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزائی کا سبب بنتی ہے۔ عامر سہیل، عاقب جاوید اور مشتاق احمد نے قومی کرکٹ ٹیم کے موجودہ کھلاڑیوں کو فاتحانہ سوچ اپنانے کے لیے مفید مشوریدیے۔عامر سہیل نے امام الحق،حیدر علی، آصف علی، عبداللہ شفیق، دانش عزیزاور عماد بٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچز میں بھاری مارجن سے شکست کے باوجود ہمارے پاس اگلے راؤنڈ میں رسائی کا موقع موجود تھا، ایسے میں آسٹریلیا کے خلاف میچ ہمارے لیے مارو یا مرجاؤ کی حیثیت اختیار کرگیا تھا۔عاقب جاوید نے شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خود اعتمادی کی کمی کی وجہ سے کسی بھی کرکٹر کی فارم خراب ہو جاتی ہے مگر فاتحانہ سوچ کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود پر اعتماد کریں۔ مشتاق احمد نے شاداب خان اور عثمان قادر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک چیمپئن کبھی ہار نہیں مانتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب ہمت ہار چکے تھے مگر عمران خان کے حوصلے بلند تھے، انہیں ہم پر یقین تھا، وہ ہماری حوصلہ افزائی کرتے رہے اور بالآخر ہم نے تقدیر بدل دی۔مشتاق احمد نے کہا کہ فائنل میں ہماری ٹیم کا ایک، ایک کھلاڑی خود اعتمادی کی ایک مثال تھا، ہم سب کو یقین تھا کہ یہ میچ ہم ہی جیتیں گے، انگلینڈ کے گریم ہک اس وقت ایک اچھی فارم میں تھے مگرمیرے اعتماد کا عالم یہ تھا کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے انہیں لیگ اسپن کھیلنا ہی نہیں آتا اور وہی ہوا کہ وہ میری گگلی پر آؤٹ ہوگئے۔سابق کرکٹر نے کہا کہ 1992 ورلڈکپ کی فتح ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ کبھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے، خود پراعتماد کرنا چاہیے اور آخری وقت تک لڑنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے