

نیپیداؤ (انٹرنیشنل ڈیسک) میانمر میں آمریت کے خلاف ہونے والے مظاہروں کی کوریج کے سلسلے میں گرفتار صحافی کو 3 ہفتے بعد رہا کردیا گیا۔ رہا کیے گئے صحافی تھین زا کا تعلق خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس سے تھا اور اسے ینگون کی بدنام زمانہ انسین جیل میں رکھا گیا تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے کہا کہ ملزم مظاہروں کی کوریج کے دوران اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کررہا تھا،جس کے باعث اس پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی جاسکتی۔ دوسری جانب میانمر کی عوامی احتجاج پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے ہفتے کے روز کو فوجی دن منانے کا اعلان کردیا۔ سرکاری ٹی وی پرفوج کے دن سے قبل نیپیداؤ میں بڑے پیمانے پر مشقوں کی ریہرسل دکھائی گئی۔ اس دوران ایک عدالت میں آنگ سان سو چی کی سماعت کی کارروائی اچانک ملتوی کر دی۔ فوجی حکام نے خیر سگالی کا ڈھونگ رچاتے ہوئے 600 سے زائد مظاہرین کو اچانک رہا کردیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ سیکورٹری فورسز احتجاج کرنے شبہے میں بھی شہریوں کو حراست میں لے رہی ہے۔ ادھر ینگون میں بھی عوام نے مظاہروں کے دوران شدید نعرے بازی کرتے ہوئے جمہوریت بحالی کا مطالبہ کیا۔ مندالے میں طبی عملے نے بائیک ریلی نکالی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ احتجاج کے دوران شرکا نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ یاد رہے کہ یکم فروری کو ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد فوج نے سوچی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔
