English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بی جے پی کے وزیر کا برقع پر پابندی کا مطالبہ

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت کی ریاست اترپردیش میں بی جے پی کے ریاستی وزیر نے ملک میں برقع پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق وزیر پارلیمانی امور و دیہی ترقی آنند سروپ شکلا نے اسلامی شعار برقع کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اسے غیر انسانی اور شیطانی لباس کہہ دیا۔ شکلا نے اپنی کم علمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر اسلامی ممالک برقع پر پابندی عائد کرچکے ہیں، لہٰذا پورے ملک میں اس پر پابندی ہونی چاہیے۔ بھارتی وزیر نے مساجد میں اذان سے متعلق بھی غیر مناسب زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر کی وجہ سے نہ صرف آس پاس کے تعلیمی اداروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ مجھے بھی عبادت اور دیگر کاموں کے دوران پریشانی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کم رکھنی چاہیے اور غیر ضروری اسپیکروں کو ہٹا دینا چاہیے۔ آنند سروپ شکلا نے ضلع بلیا کے مجسٹریٹ کے نام ایک خط میں ہرزہ سرائی کی کہ ان کے علاقے میں پورے دن اذان ہوتی رہتی ہے، جس کے نتیجے میں یوگا، پوجا اور دفتری امور میں خلل پڑتا ہے۔ تاہم مسلمان رہنماؤں نے ریاستی وزیر کے اس خط پر تنقید کرتے ہوئے اسے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ شاہی مسجد فتح پوری دہلی کے امام مفتی مکرم احمد نے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر سے اذان دینے پر اعتراض وہی لوگ کر رہے ہیں، جو مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم اور نفرت کی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب اتر پردیش ہی میں ہندوانتہاپسندوں نے تبدیلی مذہب کا الزام لگا کر راہباؤں کو ریل گاڑی سے اتار دیا۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی اسٹوڈنٹ ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے کارکنوں نے 2 راہباؤں اور ان ساتھ سفر کرنے والی 2 طالبات کے ساتھ بدسلوکی بھی کی۔ ادھر دہلی میں ایک مسلمان نوجوان پرتشدد کے ساتھ زبردستی اس سے پاکستان مردہ باد اورہندوستان زندہ آباد کے نعرے لگوائے گئے، جس کی وڈیو وائرل ہوگئی۔ یہ واقعہ دہلی کے علاقے کھجوری خاص میں پیش آیا۔ پولیس نے تشدد کرنے والے شخص اجے گوسوامی کو گرفتارکرلیا ہے، جو ہندو انتہاپسندوں سے تعلق رکھتا ہے، جب کہ واقعہ کا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے، تاہم مستقبل کے خدشات کے باعث متاثرہ شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے