کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار زیادہ افراد صحتیاب ہوجاتے ہیں، تاہم بیشتر کو طویل المعیاد بنیادوں پر مختلف پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے۔
صحتیابی کے بعد ان افراد کو متعدد علامات کا سامنا ہوتا ہے جس کے لیے لانگ کووڈ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والے ضروری نہیں کہ معمر ہوں بلکہ 65 سال سے کم عمر مریضوں میں بھی اس کا خطرہ ہوتا ہے۔
پری پرنٹ سرور medRxiv میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والے زیادہ تر افراد کو تھکاوٹ، سانس لینے میں مشکلات، سینے میں درد، کھانسی، ذہنی تشویش، ڈپریشن اور تناؤ جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔
اسی طرح یادداشت کی کمزوری اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا بھی ہوتا ہے اور اس کا سامنا کئی ہفتوں یا مہینوں تک ہوسکتا ہے۔
اس تحقیق 57 ہزار سے زیادہ کووڈ کے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں پی سی آر ٹیسٹ سے وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔
تحقیق میں کمپیوٹیشنل ماڈل کی مدد لی گئی اور لانگ کووڈ کی علامات کو مریضوں میں بیماری کی تشخیص کے 2 یا اس سے زیادہ مہینوں بعد ریکارڈ کیا گیا۔
بعدازاں 6 ماہ بعد بھی کچھ مریضوں میں علامات کا جائزہ لیا گیا اور 57 ہزار مریضوں میں سے 11 ہزار 400 میں وائرس کی موجودگی کو دریافت کیا گیا۔
محققین نے ان افراد میں 3 سے 6 ماہ بعد اور 6 سے 9 ماہ بعد نئی علامات کو کووڈ کے نیگیٹو اور مثبت ٹیسٹوں والے افراد میں دریافت کیا۔
3 سے 6 ماہ کے دوران 65 سال سے کم عمر افراد میں بال جھڑنے کا امکان ساڑھے 3 گنا زیادہ دریافت ہوا جبکہ 65 سال سے زائد عمر کی خواتین میں یہ امکان 4 گنا زیادہ تھا جبکہ 6 سے 9 ماہ کے دوران خطرے میں اضافہ نہیں دیکھا گیا۔
3 سے 6 ماہ کے دوران سینے میں تکلیف کا سامنا ہونے کا امکان 65 سال کی عمر کے 35 فیصد افراد میں دیگر سے ڈھائی گنا زیادہ دریافت کیا گیا۔
اسی طرح 3 سے 6 ماہ کے دوران 65 سال سے کم عمر مریضوں میں پیشاب سے پروٹین کی زیادہ مقدار کے اخراج کا امکان 2.6 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔
6 سے 9 ماہ کے عرصے میں کووڈ کا سامنا کرنے والے 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں ناخنوں کے امراض کو بھی دریافت کیا گیا۔
اسی عرصے میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کی خواتین میں ذہنی تشویش اور سر چکرانے جیسے مسائل کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے جبکہ کم عمر خواتین کو مخصوص ایام کے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
مجموعی طور پر دونوں ٹائم پیریڈ میں 65 سال سے کم عمر خواتین میں لانگ کووڈ کی علامات کا خطرہ ڈھائی گنا زیادہ ہوتا ہے۔
محققین کے خیال میں کووڈ کے نتیجے میں جسم میں پیدا ہونے والا ورم ممکنہ طور پر لانگ کووڈ کی مختلف علامات کا باعث بنتا ہے جبکہ متعدد کیسز میں بیماری سے گردوں کو بھی نقصان پہنچنے اس کا باعث بنا۔
یہ تحقیق ایسے افراد پر کی گئی تھی جو کووڈ کے نتیجے میں زیادہ بیمار نہیں ہوئے تھے اور ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے تھے۔
اب محققین کی جانب سے ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں پر تحقیق کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
کم یا زیادہ جسمانی وزن کووڈ 19 کی شدت میں اضافے کا خطرہ بڑھائے

جسمانی وزن کووڈ 19 کے شکار افراد میں بیماری کی شدت پر اثر انداز ہونے والا عنصر ہے۔
یہ بات اب تک کی سب سے بڑی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
طبی جریدے دی لانسیٹ ڈائیبیٹس اینڈ اینڈوکرینولوجی جرنل میں شائع تحقیق میں 20 ہزار سے زیادہ کووڈ 19 کے مرریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا۔
یہ مریض کووڈ 19 کی پہلی لہر کے دوران ہسپتال میں زیرعلاج رہے یا ہلاک ہوگئے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ جسمانی وزن کے ساتھ ساتھ کم جسمانی وزن بھی کووڈ 19 کے مریضوں میں سنگین نتائج کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ 20 سے 39 سال کی عمر کے افراد میں زیادہ جسمانی وزن کے نتیجے میں کووڈ 19 کی سنگین شدت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے تاہم 60 سال سے زائد عمر کے افراد میں کم ہوتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ جسمانی وزن میں معمولی اضافہ بھی کووڈ 19 کی سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے اور وزن میں جتنا اضافہ ہوگا، خطرہ اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 40 سال سے کم عمر افراد میں اضافی وزن سے خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے تاہم 80 سال کی عمر کے افراد میں اس سے بیماری کے نتائج پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ویکسینیشن پالیسیوں میں موٹاپے کے شکار افراد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
اس تحقیق میں 24 جنوری سے 30 اپریل کے دوران کووڈ 19 کے سنگین کیسز کے نتائج کا تجزیہ کیا گیا تھا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 13 ہزار سے زیادہ مریض ہسپتال میں زیرعلاج رہے، 1602 کو آئی سی یو میں داخل ہونا پڑا جبکہ 5479 مریض ہلاک ہوگئے۔
کووڈ 19 کی سنگین پیچیدگیوں کا سامنا کرنے والے مریضوں میں 60 سال سے زیادہ عمر کی اکثریت تھی۔
تحقیق کے مطابق باڈی ماس انڈیکس میں 23 کلوگرام یا اس سے زیادہ جسمانی ون والے افراد کو زیادہ سنگین نتائج کا سامنا ہوا۔
محققین کا کہنا تھا کہ ابھی یہ نہیں جانتے کہ جسمانی وزن میں کمی لانا کووڈ 19 کی سنگین شدت کا خطرہ کم کرسکتا ہے یا نہیں مگر یہ قابل قبول محسوس ہوتا ہے، جبکہ اس کے دیگر طبی فوائد بھی ہوتے ہیں۔
منبع: ڈان نیوز
