English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فارم نمبر 45 ہے کیا؟

القمر

 کراچی: عام انتخابات ہوں یا ضمنی انتخاب، فارم 45 کا تذکرہ اور الزامات ہمیشہ ہی لگائے جاتے مگر یہ ہے کیا اور دوبارہ گنتی کیوں کرائی جاتی ہے اس سے متلعق معلوم ہونا بھی ضروری ہے۔ ابھی کسی بھی انتخاب کی پولنگ کو گزرے چند گھنٹے ہی ہوتے ہیں کہ فارم 45 کی بازگشت ہر جگہ سنائی دینے لگتی ہے، ہر جماعت اور ہر امیدوار کی زبان پر فارم 45 رہتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ فارم نمبر 45 ہے کیا؟ فارم 45 کو انتخابی عمل میں شہہ رگ کی حیثیت حاصل ہے، اس فارم میں کسی بھی پولنگ اسٹیشن میں ڈالے گئے ووٹوں کی تفصیل درج ہوتی ہے، کس امیدوار کو کتنے ووٹ ملے، مجموعی اور مسترد ووٹوں کی تعداد کیا ہے، یہی وہ فارم ہے جو پریزائیڈنگ افسران ہر پولنگ ایجنٹ کو دستخط اور انگھوٹے کے نشان کے ساتھ دینے کے پابند ہوتے ہیں۔

تمام امیدوار ہر پولنگ اسٹیشن سے فارم 45 جمع کرکے حلقے میں حاصل ووٹ کی گنتی از خود بھی کرسکتے ہیں اس کامقصد دھاندلی سے بچنا ہے تاکہ درمیان میں نتائج تبدیل نہیں کیے جاسکیں۔ الیکشن قوانین کے تحت فاتح اور شکست کھانے والے امیدوار کے درمیان ووٹ کا فرق اگر 5 فیصد سے کم ہو تو ہارنے والا امیدوار دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کرسکتا ہے اس کے علاوہ ہار اور جیت کا فرق مسترد ووٹ سے کم ہو تو دوبارہ گنتی کرائی جاسکتی ہے کیونکہ گنتی میں غلطی کی گنجائش ممکن ہوتی ہے اور یہ نتیجہ بھی تبدیل کرسکتی ہے، خاص طور پر مسترد ووٹ کی تعداد بھی ذہن میں رکھنی ہوتی ہے کیونکہ اس کے تعین میں بھی غلطی ہار اور جیت کا واضح فرق پیدا کرسکتی ہے۔

دوبارہ گنتی میں تمام بیلیٹ بیگز کھولے جاتے ہیں، جب پریزائیڈنگ افسران بیلیٹ باکس سے بیلیٹ پیپر نکال کر گنتی کے بعد ایک بیگ میں بھر کر، سیل کرکے الیکشن کمیشن میں جمع کرادیتے ہیں، دوبارہ گنتی کی صورت میں امیدواروں کے سامنے سب سے پہلے ایک نمبر کا بیگ کھولا جاتا ہے ہر بیلیٹ پیپر کا دوبارہ جائزہ اور گنتی کی جاتی ہے تاکہ شبہہ اور غلطی دور کی جاسکے۔ پھر اسی طرح سیریل کے مطابق تمام بیگز کھولے جاتے ہیں۔

فارم 45 کے بعد نمبر آتا ہے فارم 46 کا، یہ فارم بھی پریزائیڈنگ افسر کو بھرنا ہوتا ہے جس میں بیلیٹ پیپر کی تعداد، سیریل نمبر اور اگر بیلیٹ پیپر بچ گئے یا خراب ہوگئے ہوں اس کی تفصیل  درج ہوتی ہے۔

پریزائیڈنگ افسران فارم 45 اور فارم 46، بیلیٹ باکس، بیلیٹ پیپر، سیل، مہر، انک پیڈ اور دیگر انتخابی سامان واپس الیکشن کمیشن میں جمع کرادیتے ہیں جہاں ہر امیدوار کو ملنے والے ووٹوں کی تفصیل کا باقاعدہ اندراج کرکے فارم 47 تیار کیا جاتا ہے جو غیر حتمی نتائج کا مجموعی گوشوارہ ہوتا ہے اس میں ہر امیدوار کو کتنے ووٹ ملے، مجموعی ووٹوں کی تعداد، مرد و خواتین کے ووٹ، مسترد ووٹ اور ٹرن آئوٹ کا ذکر ہوتا ہے۔

اس کے بعد فارم 48 تیار کیا جاتا ہے جس میں پوسٹل بیلیٹ کی تعداد درج ہوتی ہے اور تمام پولنگ اسٹیشنز پر کس امیدوار کو کتنے ووٹ ملے اس کی مکمل تفصیل درج ہوتی ہے۔ ویسے تو یہ بھی حتمی نتیجہ ہے مگر پھر بھی اس کے بعد فارم 49 بھی جاری کیا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے