برازیل میں سب سے پہلے نمودار ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ متعدی ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
طبی جریدے سائنس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ برازیل میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم پی 1 ماضی میں کووڈ سے متاثر ہونے والے افراد میں پیدا ہونے والی مدافعت پر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
برازیل کورونا وائرس کی وبا سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے بالخصوص میناوس نامی شہر پر سب سے زیادہ اثرات مرتب ہوئے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ 2020 کے وسط میں میناوس کے 75 فیصد کے قریب افراد کورونا کی پہلی لہر سے متاثر ہوئے تھے اور کچھ ماہرین نے اندازہ لگایا تھا کہ اس شہر میں بیماری کے خلاف اجتماعی مدافعت پیدا ہوگئی ہے۔
مگر 2020 کے اختتام پر اس شہر میں کووڈ کی دوسری لہر سامنے آئی جس میں پی 1 قسم کا ہاتھ تھا۔
تحقیق میں شامل کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہرین کہنا تھا کہ ہمارے ماڈل سے عندیہ ملتا ہے کہ پی 1 کورونا وائرس کی دیگر اقسام سے زیادہ متعدی ہے اور دیگر اقسام سے ہونے والی بیماری سے جسم میں پیدا ہونے والی مدافعت پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔
محققین نے پی 1 میں 17 میوٹیشنز کو دریافت کیا جن میں سے 3 اسپائیک پروٹین میں ہوئی تھیں۔
اسپائیک پروٹین میں ہونے والی 3 میوٹیشنز سے اس نئی قسم کو انسانی خلیات کو مؤثر طریقے سے جکڑنے میں مدد ملی، جن میں سے ایک میوٹیشن این 501 وائے برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں دریافت اقسام میں بھی دیکھی گئی تھی۔
اس میوٹیشن سے وائرس کے لیے انسانی خلیات کو جکڑنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے جبکہ ایک اور میوٹیشن ای 484 کے تھی جو وائرس کو موجودہ مدافعتی ردعمل کو پیچھے چھوڑنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پی 1 کورونا وائرس کی اوریجنل قسم کے ساتھ ساتھ دیگر اقسام کے مقابلے میں 1.4 سے 2.2 گنا زیادہ متعدی ہے۔
اسی طرح یہ قسم پرانی اقسام سے متاثر ہونے والے افراد میں پیدا ہونے والی امیونٹی کی شرح کو بھی 10 سے 46 فیصد تک کم کرسکتی ہے، جس سے لوگوں میں دوسری بار کووڈ کا خطرہ بڑھتا ہے۔
محققین کے مطابق میناوس کے رہائشیوں میں پی 1 سسے متاثر ہونے پر موت کا خطرہ دیگر اقسام کے مقابلے میں 1.2 سے 1.9 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔
برازیل میں دریافت ہونے والی یہ نئی قسم پاکستان سمیت متعدد ممالک تک پھیل چکی ہے۔
ویکسینیشن کی زیادہ شرح کووڈ کی روک تھام کے لیے اہم، تحقیق

ویکسینیشن کی شرح کو بڑھانا کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں کمی اور اسے کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
مایو کلینیک کے ماہرین نے اس حوالے سے ایک کمپیوٹر ماڈل تیار کیا تھا جس کی مدد سے ملک گیر سطح پر کووڈ 19 کیس کی شرح کی درست پیشگوی کی جاسکتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ امریکی ریاست مینیسوٹا میں ویکسینیشن سے مثبت کیسز اور اموات کی شرح میں نمایاں فرق آیا۔
طبی جریدے مایو کلینک پروسیڈنگز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ پیشگوئی کرنے والا کمپیوٹر ماڈل ویکسنیشن کی رفتار کی بنیاد پر مستقبل میں کیسز کی پیشگوئی کرسکتا ہے۔
اس ماڈل کے ذریعے محققین نے تخمینہ لگایا کہ اگر مینیسوٹا میں اس موسم بہار میں ویکسینشن نہ ہوئی تو آئی سی یو میں 800 سے زیادہ مریض داخل ہوسکتے ہیں۔
اس تخمینے میں کورونا وائرس کی نئی اقسام کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا، اور آئی سی یو میں مریضوں کی تعداد یکم دسمبر کے مقابلے میں دوگنا بتائی گئی تھی۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ ریاست کی 75 فیصد ویکسینیشن اپریل کے ابتدا میں ہوگئی تو جولائی تک ہسپتالوں اور آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں کی تعداد نمایاں حد تک کم ہوجائے گی۔
محققین کا کہنا تھا کہ ویکسنیشن کی یادہ شرح سے کووڈ کیسز اور ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔
امریکا میں 2020 میں کورونا کی وبا پھیلنے کے بد ان ماہرین نے اس پیشگوئی کرنے والے ماڈل کو تیار کیا تھا تاکہ اس بیماری کے زیادہ پھیلاؤ علاقوں کا تجزیہ کیا جاسکے۔
اس ماڈل نے مختلف علاقوں میں کووڈ 19 کی شرح اور ہسپتال میں زیرعلاج افراد کے حوالے سے درست پیشگوئی کی۔
منبع: ڈان نیوز
