English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرونا کا بھارتی ڈبل میوٹنٹ کیا ہے اور یہ کیوں انتہائی خطرناک ہے؟ شفقنا صحت

القمر

بھارت میں رواں ماہ دنیا میں سب سے زیادہ کرونا کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں جو کہ دنیا کے کل کیسز کا ملا کر 38 فیصد کیسز بنتے ہیں جبکہ بھارت کا سیاسی اور معاشی دارالحکومت نئی دہلی کے ہسپتالوں میں بستروں، دواؤں اور آکسیجن کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق لگاتار تیسرے ہفتے جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے زیادہ اموات اور نئے کرونا کیسز رپورٹ  ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں کرونا کے کیسز مسلسل نو مہینوں سے بڑھ رہے ہیں اور اب تک 7۔5 ملین نئے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جو کہ پچھلے سال کے کیسز سے کہیں زیادہ ہیں۔

سائنسدان اس بارے غور وفکر کر رہے ہیں کہ ان کیسز میں اضافے کی وجہ کیاہے ؟ سائنسدان یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ کیا اس اضافے کی وجہ بھارت میں دریافت ہونے والی کرونا کی قسم ہے۔ ٹیلی گراف، بلومبرگ اور فرسٹ پوسٹ سمیت، مختلف بین الاقوامی ویب سائٹس نے عالمی ادارہ صحت اور بھارتی وبائی ماہرین کے حوالے سے بتایا ہے کہ کورونا وائرس کی بھارتی قسم B.1.617 کو دنیا بھر میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ ناول کورونا وائرس (سارس-کوو-2) کی بھارتی قسم کو ’’ڈبل میوٹینٹ‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں دو ایسی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں جو اس کے پھیلاؤ کو تیز رفتار بنانے کے علاوہ، ممکنہ طور پر، اس کی ہلاکت خیزی میں بھی اضافے کا باعث ہیں۔

کرونا کی بھارتی قسم کیا ہے؟

تمام وائرسز وقت کے ساتھ اور ایک شخص سے دوسرے شخص تک پھیلاؤ کے بعد جنیاتی تبدیلیوں سے گزرتے ہیں تاکہ وہ اپنے میزبان کے مطابق اپنے اندر مطابقت پیدا کر سکیں یا بالفاظ    کے اندر دو بنیادی میوٹیشینز پائی جاتی ہیں جو کہ اس کے باہر والے نوکدار حصے میں ہیں اور یہی B.1.617 دیگر وہ اپنی بقا کے لیے اپنے اندر تبدیلیاں لاتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد جمیل کے مطابق حصہ پھر انسانی خلیے سے چپکتا ہے ۔ عالمی ادارہ صحت نے اسے مفادی قسم کا نام دیا ہے کیونکہ اس میں موجود جنیاتی تبدیلیاں اس کی منتقلی کو آسان بناتی ہیں اور ویکسین سے پیدا کردہ مدافعت سے اس کو بچنے میں مدد دیتی ہے۔  پی ایچ ای کے محققین کا کہنا ہے کہ مختلف حالتوں میں دو ایسے تغیر پائے جاتے ہیں جو جسم کے مدافعتی ردعمل سے بچنے اور اینٹی باڈیز کو غیر موثر بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ پریشان کن خدشات یہ بھی ہیں کہ یہ مختلف حالت پچھلے سال کے آخر میں سامنے آنے والی پہلی مختلف حالتوں سے کہیں زیادہ متعدی ہوسکتی ہے۔امریکہ کی لوئیزیانا سٹیٹ یونیورسٹی سے منسلک ڈاکٹر جریمی کامل کہتے ہیں کہ اس قسم کی ہیت ان دو اقسام جیسی ہیں جن کی شناخت برازیل اور جنوبی افریقہ میں ہوئی تھی۔ کرونا کی اس  ہیں جو مدافعت سے بچاؤ کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مدافعاتی نظام کے رد عمل سے بھی خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔L452R, P681R اور E484Q,  قسم کے دیگر تغیرات  ایسا تغیر ہے جو کہ تیزی سے پھیلاؤ کے عمل سے منسلک ہے اور L452R جب کہ

کیا بھارت میں کرونا کیسز میں اضافے کی وجہ کرونا کی یہ نئی قسم ہے؟

یہ کہنا مشکل ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کو چاہیے کہ وہ اس ضمن میں تحقیق کرے تاہم محدود نمونوں پر کی جانے والی لیبارٹری تحقیق میں یہ پتا چلا ہے کہ اس کی وجہ سے تیزی سے پھیلاؤ ہوا ہے۔  گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران بھارت میں 2 لاکھ 73 ہزار 810 نئے کووِڈ 19 کیسز جبکہ مزید 1619 اموات ریکارڈ ہوئے ہیں۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز میں زیادہ کردار اسی ’’ڈبل میوٹینٹ‘‘ کا ہے۔ تاہم یہ بات ابھی بھی کہنا مشکل ہے کیوںکہ یہ قسم سب سے پہلے برطانیہ میں دریافت ہوئی تھی تاہم وہاں کیسز میں اضافہ بھارت  انتہائی سخت ہے اور بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں پائی B.1.617 کی نسبت بہت کم ہے۔ نئی دہلی میں برطانوی قسم کے کیسز کی تعد مارچ کے دوسرے ہفتے میں تیزی سے بڑھی۔ بھارتی قسم جاتی ہے اور مہاراشٹرا ہی اس وقت بھارت کی سبھی ریاستوں میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے۔ امریکہ کے ماہر امراض کرس مورے کا کہنا تھا کہ بہت مختصر وقت میں بھارت میں کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت میں کرونا کی نئی قسم درحقیقت ایک ” فرار متغیر” ہے جو کہ مدافعت پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے  اور یہ بات ثابت ہی ہے۔۔ B.1.617 کرتی ہے کہ یہ متغیر

عالمی ادارہ صحت کی ایک تحقیق کے مطابق کرونا کی دوسری لہر میں پھیلاؤ کی شرح پہلی لہر کی نسبت بہت زیاد ہے۔ ادارہ صحت کے ایک مطالعہ کے مطابق بھارت میں موجود اس تغیر کی نمو کی شرح بہت بلند ہے اور اس میں پھیلاؤ کی صلاحیت بھی کئی گنا زیاد  ہے۔ ایسے وقت میں  جبکہ بھارت میں کورونا وائرس کی حالیہ خوفناک وبا میں دو تبدیلیوں والے ’ڈبل میوٹینٹ‘‘ کووِڈ 19 وائرس کو ذمہ دار قرار دیا جارہا ہے، وہاں اسی وائرس کی تین تبدیلیوں والی نئی قسم ’ٹرپل میوٹینٹ‘ نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے۔ کچھ روز پہلے بھارتی ریاست بنگال سے ٹرپل میوٹینٹ کورونا وائرس کی دریافت کے بعد ماہرین میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے تاہم ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ وائرس کی نئی قسم زیادہ خطرناک اور ہلاکت خیز ہے یا نہیں۔ ٹرپل میوٹینٹ، جسے ’’بنگال اسٹرین‘‘ کا نام بھی دیا گیا ہے، اب تک مغربی بنگال کے علاوہ دہلی، مہاراشٹر اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں کے کورونا مریضوں میں سامنے آچکا ہے۔بھارتی وبائی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرپل میوٹینٹ ایک نیا دردِ سر بن سکتا ہے کیونکہ اس میں ایک ساتھ دریافت ہونے والے تین تغیرات (میوٹیشنز) ممکنہ طور پر اس کا پھیلاؤ تیز رفتار بنانے میں مددگار محسوس ہوتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان ہی تغیرات کی بدولت یہ وائرس خود کو جسمانی مدافعتی نظام (امیون سسٹم) کی نظروں سے اوجھل رکھتا ہے جبکہ ویکسین لینے اور وائرس کے سابقہ حملے میں صحت یاب ہوجانے والے افراد کو بھی دوبارہ بیمار ڈال سکتا ہے۔

یہ خیال بھی ہے کہ ڈبل میوٹینٹ کے مقابلے میں ٹرپل میوٹینٹ کا پھیلاؤ زیادہ تیز رفتار ہوسکتا ہے جبکہ بہت ممکن ہے کہ کورونا وائرس کی موجودہ ویکسینز بھی اسی ٹرپل میوٹینٹ کے خلاف ناکارہ ثابت ہوجائیں۔ وائرس کے بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈبل میوٹینٹ میں نمایاں تبدیلیوں اور ارتقاء پذیری کے نتیجے میں ٹرپل میوٹینٹ کا وجود میں آنا ایک ایسا امکان ہے جسے بالکل بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بھارت کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بایومیڈیکل جینومکس کے ڈاکٹر سریدھر چنّاسوامی کا کہنا ہے کہ ٹرپل میوٹینٹ میں ایک خاص تغیر (E484K) ایسا بھی ہے جو اس سے پہلے جنوبی افریقہ اور برازیل سے سامنے آنے والی کورونا وائرس کی اقسام میں دیکھا گیا تھا۔ یہ تبدیلی وائرس کو دوبارہ حملہ آور ہونے میں مدد دینے کے علاوہ اس کے تیز رفتار پھیلاؤ اور ویکسین کی تاثیر کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگرچہ ٹرپل میوٹینٹ کے بارے میں بہت سی باتیں ابھی تک نامعلوم ہیں لیکن یہ لاعلمی ہی اس کے بارے میں زیادہ تشویش کو جنم دے رہی ہے۔

 ہفتہ، یکم مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے