اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک عالمی وبا سے دنیا کی بڑی فارما سیوٹیکل کمپنیوں اور ان سے جڑی حکومتوں کے سرمایہ دارانہ مزاج میں نجات مل جائے تو آپ سراسر غلط سوچتے ہیں کیونکہ یہ ایک ناممکن عمل ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز جو کہ اس بات کے اعدادوشمار جمع کرتی ہیں کہ کون سے ممالک سند حق ایجاد پر سے پابندیوں کے خاتمے کی مخالفت کرتے ہیں جو کہ لاکھوں انسانی جانوں کے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتی ہیں اور کون سے ممالک ان پابندیوں کے خاتمے کی حمایت کرتے ہیں۔ جب تمام ممالک کاجغرافیائی طور پر جائزہ لیا گیا تو سیاسی نقشوں نے ایک ناقابل تردید حقیقت بیان کی۔ امیر مغربی ممالک جو کہ ویکسین کی برآمداور ٹیکسوں کی مد میں اربووں ڈالر کمانے والے ہیں وہ اس ویکسین پر اپنی اجارہ داری کے خاتمے کے لیے مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر میں یہ ایک سنگ میل تھا جب بھارت اور جنوبی افریقہ نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن سے درخواست کی کہ جب کہ اجتماعی مدافعت کا حصول ممکن نہیں ہوجاتا تب تک ممالک کو مجبور کیا جائے کہ وہ سند حق ایجاد کو لاگو نہ کریں یا اس کو معطل کر دیں۔ تاہم اس تجویز کو بڑی بڑی ادویات ساز کمپنیوں اور مغربی ممالک کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق چند ممالک بشمول آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، یورپین یونین ، جاپان ، ناروے سوئٹزر لینڈ ، برطانیہ اور امریکہ سند حق ایجاد پر سے پابندی کے خاتمے کی بحث میں تاخیر کا سبب بن رہے ہیں۔ اس تنظیم کے صدر نے دنیا کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اس عمل کی راہ میں کاوٹیں ڈالنا بند کریں اور دنیا کے ساتھ اسی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کریں جس کا اعلان انہوں نے اس وباکی آمد کے ساتھ ہی کیا تھا۔ کرونا وبا سے کم از کم ایک چیز تو واضح ہے کہ کس قدر تیزی سے حکومتیں اپنے ذرائع کو مجتمع کرتی ہیں اور کسی طرح وبا کو روکنے کے لیے دور رس نتائج کی پالیسیوں کو لاگو کرتی ہیں۔ اب جبکہ مغربی ممالک نے دنیا میں ویکسین کی ایک بڑی تعداد اکٹھی کر لی ہے اور لوگوں کو مدافعت فراہم کرنے کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے ایسے میں دنیا کے دیگر ممالک کو بھی اس سے فائدہ اٹھانے کا پورا پورا حق ملنا چاہیے۔ جب گزشتہ برس کے اختتام پر کرونا کی ویکسین سامنے آنا شروع ہوئی ایسا لگنا شروع ہوگیا کہ جیسے بڑی بڑی ادویہ ساز کمپنیاں اس کو خیر سگالی اور عوام کی اچھائی کے لیے استعمال کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گی۔ تاہم یہ خیرسگالی اس وقت ہوا ہوگئی جب دنیا کو معلوم ہوا کہ یہ ادویہ ساز کمپنیاں صرف اپنے منافع میں دلچسپی رکھتی ہیں اور ان کو دنیا میں جاری اس خطرناک وبا کی کوئی پروا نہیں۔
بل گیٹس جن کی تنظیم کروناکے خلاف جنگ میں ایک طاقتور عنصر کا کردار ادا کر رہی ہیں نے اپنے ایک حآالیہ انٹرویو میں ترقی پزیر ممالک کے ساتھ اس ویکسین کے اشتراک کی مخالفت کی ہے۔ بل اینڈ ملینڈا گیٹس نے آکسفورڈ یونیورسٹی جو کہ آسٹرازنیکا کے ساتھ مل کر کرونا ویکسین تیار کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں کہا ہے کہ وہ اس ویکسین کے حقوق اپنے وعدے کے مطابق انہیں فراہم کریں۔ بل گیٹس کی جانب سے غریب ممالک کو ویکسین فراہم نہ کرنے پر پوری دنیا نے بل گیٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک آن لائن صارف کا کہنا تھا کہ بل گیٹس نے ساری زندگی سرمایہ اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے میں لگا دی ہے تو وہ ویکسین کا اشتراک کیوں کر کرنے لگے۔ جب بل گیٹس مائیکروسافٹ کو چلا رہے تھے وہ تب بھی اس بات کے سختی سے حق میں تھے کہ کسی بھی صورت سند حق ایجاد کو نہ توڑا جائے اور ان کی یہ منطق آج بھی قائم ہے۔ بل گیٹس اس وقت بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں تیار ہونے والی جنرک ویکسیزن کا رستہ کسی بھی طرح روکا جائے۔ گیٹس کا کہنا ہے کہ سند حق ایجاد کو اس لیے معطل کرنے کے حق میں نہیں ہیں کہ دنیا میں صرف چند ممالک کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ ویکسین تیار کر سکیں۔
تاہم تجزیہ نگاروں نے بل گیٹس کو سراسر غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں کئی ممالک ایسے ہیں جو مختصر وقت میں یہ ویکسین تیار کرنے پر تیار بیٹھے ہیں۔ اور یہ صرف بل گیٹس نہیں ہیں جو ان کوششوں کے خلاف لابنگ کر رہے ہیں بلکہ حالیہ خطی و سیاسی تناؤ کے پیش نظر امریکہ، روس چین اور کوئی ادویات ساز کمپنیاں بھی اس ویکسین کی ترکیب کے اشتراک کے خلاف ہیں جبکہ دوسری جانب غریب ممالک ویکسین کے حصول کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اور بالاخر یہ ممالک اپنے امریکی مغربی ہم عصروں کو بھاری قیمت ادا کر کے ہی یہ ویکسین حاصل کر سکیں گے۔ ایک نجی ملاقات میں ادویات ساز کمپنیوں کی ایک لابنگ فرم نے وائٹ ہاؤس کے حکام کو خبردار کیا ہے کہ اس انٹلیکچوئل پراپرٹی کے اشتراک کا مطلب روس اور چین کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے۔بھارت میں اس وبا کی جانب سے تباہی مچانے کے بعد مغربی ممالک پر شدید دباؤ ہے کہ وہ سند حق ایجاد کو معطل کرے تاکہ اس وبا پر قابو پایا جاسکے۔ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز حکومتوں کو خبردار کر رہے ہیں اگر وہ ویکسین کے اشتراک کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کرتے تو تاریخ میں ان کا ذکر بدترین الفاظ میں ملے گا۔
