English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

روس: سنگل ڈوز 5 اسپوٹنک لائٹ ویکسین کی منظوری دے دی گئی ہے

روس میں اسپوٹنک 5 کورونا وائرس ویکسین کے سنگل ڈوز ورژن کی منظوری دی گئی ہے۔

رشین ڈائریکٹ انوسٹیمنٹ (آر آئی ڈی ایف) کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ اسپوٹنک لائٹ بیماری سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے 79.4 فیصد مؤثر ہے، جبکہ 2 ڈوز والی اسپوٹنک 5 ویکسین کی افادیت 91.6 فیصد ہے۔

اس نئی ویکسین کی افادیت کا نتیجہ 5 دسمبر 2020 سے 15 اپریل 2021 کے دوران ویکسینیشن سے حاصل کیا گیا۔

خیال رہے کہ روس کی تیار کردہ ویکسین کو 60 سے زیادہ ممالک میں استعمال کی منظوری دی جاچکی ہے۔

تاہم اس ویکسین کو یورپین میڈیسین اینسی یا امریکا میں منظوری نہیں مل سکی ہے۔

اس ویکسین کو آر ڈی آئی ایف کے زیرتحت جمیلیا سینٹر نے تیار کیا اور اگست 2020 میں بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز سے قبل ہی اسے رسٹر کرلیا گیا تھا۔

نومبر میں اس ویکسین کے حتمی ٹرائل کے نتائج جاری کیے گئے تھے جو 18 ہزار سے زیادہ رضاکاروں پر مشتمل تھے۔

ان رضاکاروں کو ویکسین کے 2 ڈوز اور پلیسبو کا استعمال کرایا گیا تھا۔

آر ڈی آئی ایف کے مطابق ٹرائل کے دوران ویکسین کے کوئی مضر اثرات نہیں دیکھے گئے تاہم کچھ افراد کو فلو جیسی علامات کا سامنا ہوا۔

اس ویکسین کے ایک اور ٹرائل میں 40 ہزار افراد کو شریک کیا گیا ہے جن میں نصف کو 2 ڈوز استعمال کرائے گئے ہیں۔

اب تک دنیا بھر میں 2 کروڑ افراد اسپوٹنک 5 کی ایک خوراک کا استعمال کرچکے ہیں۔

دنیا میں سب سے زیادہ ویکسینیشن والے ملک میں کووڈ کیسز میں اضافہ

— شٹر اسٹاک فوٹو

سیشیلز دنیا کا وہ ملک ہے جس نے اب تک سب سے زیادہ آبادی کو کووڈ ویکسین فراہم کردی ہے مگر وہاں کورونا وائرس کے کیس میں اضافے کے باعث اسکولوں کو بند جبکہ دیگر پابندیوں کا نفاذ کیا گیا ہے۔

بحر ہند میں واقع جزائر پر مشتمل اس ملک میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو منسوخ کردیا گیا ہے جبکہ لوگوں کو ایک دوسرے ے ملنے سے روکا گیا ہے۔

یہ سب پابندیاں اس وقت لگائی جارہی ہے جب سیشیلز میں اب تک 60 فیصد سے زیادہ بالغ آبادی کو کووڈ 19 ویکسین کی 2 خوراکیں دی جاچکی ہیں۔

وزیر صحت پیگی ویڈوٹ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا ‘ویکسینیشن کی تمام تر بہترین کوششوں کے باوجود ہمارے ملک میں کووڈ کی صورتحال نازک مرحلے میں پہنچ چکی ہے’۔

98 ہزار آبادی پر مشتمل ملک کی معیشت کا انحصار یاحت پر ہے اور اسی وجہ سے رواں سال جنوری میں ویکسنیشن مہم شروع کی گئی۔

12 اپریل تک وہاں 59 فیصد ویکسین خوراکیں چین کی سینوفارم ویکسین کی تھیں جبکہ باقی کووی شیلڈ (بھارت میں تیار کردہ ایسٹرازینیکا ویکسین کا ورژن) کی تھیں۔

اب تک 62.2 فیصد آبادی کی ویکسینیشن مکمل ہوکی ہے جبکہ اسرائیل 55.9 فیصد کی شرح کے ساتھ ویکسینیشن کے حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے۔

سیشیلز میں کووڈ کے ایکٹیو کیسز کی تعداد 3 مئی کو 1068 تک پہنچ گئی تھی جو 28 اپریل کو 612 تھی۔

ان میں سے 84 فیصد کیسز مقامی شہریوں جبکہ باقی غیرملکیوں کے ہیں۔

مقامی ماہرین کے مطابق دوتہائی کیسز یا تو ان افراد کے ہیں جن کو ویکسین ابھی تک فراہم نہیں کی گئی یا ایک خوراک دی گئی، جبکہ باقی ایے افراد ہیں جن کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی ہے۔

ویسے تو وہاں اپریل کے کیسز کے جینیاتی سیکونسنگ ڈیٹا تو مووجود نہیں مگر وہاں فروری میں جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والی کورونا کی قسم بی 1351 کی موجودگی کی تدیق ہوئی تھی۔

ایک تحقیق میں ایسٹرازینیکا ویکسیسن اس قسم کے خلاف بہت زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئی تھی ۔

ماہرین کے مطابق اس ملک میں سینوفارم، کووی شیلڈ اور بغیر ویکسین والے افراد کے کیسز کا موازنہ جینیاتی سیکونسنگ اور ڈیٹا کے ذریعے کیا جائے تو اہم معلومات حاصل ہوسکے گی۔

مقامی حکام نے وبا کی نئی لہر کی کوئی وججہ بیان نہیں کی بس یہ کہا کہ لوگوں کی جانب سے وائرس کے خلاف زیادہ احتیاط نہیں کی جارہی۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے