اسلام آباد: پاکستان نے کوویکس کے تعاون سے ایسٹرازینیکا ویکسین کی پہلی کھیپ موصول کرلی۔
نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے ہیڈ کوارٹرز میں سی او وی اے ایکس ٹیکنیکل اور فنڈنگ پارٹنرز کے نمائندوں کے ساتھ مل کر اس پہلی کھیپ کا خیرمقدم کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پہلی کھیپ میں 12 لاکھ 38 ہزار 400 افراد کے لیے ویکسین ہے، جس کے بعد چند دنوں میں 12 لاکھ 36 ہزار افراد کے لیے مزید ویکسین پاکستان پہنچ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جون کے بعد سے مزید مختص شدہ ویکسین کی تصدیق مناسب وقت پر کر دی جائے گی جبکہ کو ویکس فیسیلیٹی کا مقصد پاکستان کی 20 فیصد آبادی کو ویکسین دینے کے لیے کافی خوراک فراہم کرنا ہے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ اس غیر معمولی بحران میں جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہم پاکستان میں کووڈ 19 سے لڑنے کی اجتماعی کوششوں میں کو ویکس کے تعاون کو تہہ دل سے سراہتےہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے مراکز میں ایک دن میں تقریباً 2 لاکھ افراد کو ویکسین کے ٹیکے لگا رہے ہیں اور ہم بہت جلد یومیہ 5 لاکھ افراد کو ویکسین دینے کے قابل ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں 40 سال سے زیادہ عمر کے ہر شخص سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ویکسین لگوانے کے لیے اپنا اندراج کرائیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایسٹرازینیکا ویکسین حکومت پاکستان کی جانب سے خریدی گئی ویکسین میں شامل ہوکر ویکسین کی کمی کو پورا کرے گی اور نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کی قیادت میں تیار کردہ نیشنل ڈیپلائمنٹ اینڈ ویکسینیشن پلان میں شناخت شدہ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، بزرگ شہریوں اور دیگر ترجیحی گروپوں کو ویکسین لگانے کی مہم کو مزید تقویت دینے میں بے حد مدد گار ثابت ہو گی۔
خیال رہےکہ وزارتِ صحت نے ویکسین کی فراہمی کے منصوبے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پاکستان میں لوگوں کو ویکسین دینے کے حفاظتی ٹیکوں کے وسیع پروگرام میں کولڈ چین مینجمنٹ کے نظام بھی توسیع کی ہے اور اس وقت تک 15 بڑے شہروں میں الٹرا کولڈ چین کی سہولیات کو شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان میں اب تک سینوفارم، سینوویک، کینسینو بائیو اور اسپوٹنک ویکیسن لگائی جاچکی ہے۔
اس موقع پر پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ ڈاکٹر لیتھا گنارتھنا مہیپالانے کہا کہ یہ ویکسین کئی کلینیکل ٹرائلز سے گزرچکی ہے اور اس کے بعد ہی اسے پاکستان اور دنیا بھر میں استعمال کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ڈبلیو ایچ او کی توجہ اس وبا کے خاتمے کے لیے پاکستان کی بھرپور معاونت پر مرکوز ہے اور اس میں ویکسین کی نئی کھیپ اور صحت عامہ کے اقدامات بھی شامل ہیں جو 15 ماہ سے کووڈ کے جوابی ردِ عمل کے طور پر جاری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے اس بات کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا کہ اس ویکسین کو پورے پاکستان میں تیزی سے استعمال میں لایا جائے گا۔
کو ویکس ایک عالمی شراکت داری کا نام ہے جس کی قیادت عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کررہا ہے اور یہ سب گاوی، ویکسین الائنس؛ اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ(یونیسیف) کے ساتھ ساتھ وبائی تیاری و اختراعات (سی ای پی آئی) کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن بنایا جارہا ہے اور شراکت دار حکومتوں، فاؤنڈیشنز اور نجی شعبے کی کارپوریشنوںکے فیاضانہ عطیات کی مدد سے اس شراکت کی مالی معاونت کی جاتیہے۔
پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ عائدہ گیرمانے کہا کہ ہم حکومت، ڈبلیو ایچ او، جی اے وی آئی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں وائرس سے شدید بیماری میں مبتلا ہونے والوں اور زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو ویکسین لگانے اور قومی ویکسینیشن مہم کے رول آؤٹ پر عمل درآمد کے لیے 24 گھنٹے کام کریں گے۔
پاکستان کے لئے گاوی سینئر کنٹری منیجر الیکسا رینالڈز نے کہا کہ یہ ترسیل – اس سلسلے کی اولین – مگر غیر معمولی عالمی شراکت داری کی پیداوار ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کووِڈ 19 ویکسین کے حصول کے لیے عالمی دوڑ میں کوئی ملک پیچھے نہ رہ جائے۔
امریکی سفارت خانے کی چارج ڈی افیئرز انجیلا پی ایگلر نے کہا کہ امریکا ایسٹرازینیکا ویکسین کی 12 لاکھ افراد کے لیے ویکسین کی پاکستان میں کامیاب آمد کا بھرپور خیرمقدم کرتا ہے۔
منبع: ڈان نیوز
