English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بروفن کا استعمال کورونا کے مریضوں کے لیے خطرناک نہیں، تحقیق

ورم کش ادویات جیسے بروفن کا استعمال کووڈ 19 کے مریضوں کی حالت کو زیادہ خراب یا موت کا خطرہ نہیں بڑھاتا۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے دی لانسیٹ Rheumatology جرنل میں شائع تحقیق میں 72 ہزار سے زیادہ افراد کو شامل کیا گیا ہے۔

ورم کش ادویات عموماً شدید تکلیف اور جوڑوں میں ورم سے متعلق امراض کے لیے زیادہ استعمال کی جاتی ہیں اور کورونا وائرس کی وبا کے آغاز میں یہ بحث سامنے آئی تھی کہ ان ادویات کا استعمال کووڈ 19 کی شدت میں اضافے کا باعث تو نہیں بنتا۔

برطانیہ میں ہونے والی یہ تحقیق اس حوالے سے اب تک کی سب سے بڑی تھی اور اس میں واضح شواہد سامنے آئے جن سے عندیہ ملتا ہے کہ ورم کش ادویات کا استعمال کووڈ 19 کے مریضوں کے لیے محفوظ ہوتا ہے۔

تحقیق کے دوران ایک تہائی مریضوں (4211 میں سے 1279) نے کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں داخلے سے قبل ان ادویات کا استعمال کیا تھا اور ان کا انتقال ہوا۔

مگر ان ادویات کا استعمال نہ کرنے والے افراد ایک تہائی مریضوں (67968 میں سے 21256) میں بھی اموات کی شرح یہی تھی۔

جوڑوں کے امراض کے شکار کووڈ کے مریضوں میں ان ادویات کے استعمال سے اموات کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا۔

ایڈنبرگ یونیورسٹی کے پروفیسر ایون ہیریسن اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ تھے اور انہوں نے بتایا کہ ان ادویات کا استعمال دنیا بھر میں مختلف امراض کے لیے عام ہوتا ہے، بیشتر افراد کو روزمرہ کی سرگرمیوں کے لیے ان پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کورونا کی وبا کے آغاز میں ہمیں یہ یقینی بنانے کی ضرورت تھی کہ یہ عام ادویات کووڈ کے مریضوں کی حالت زیادہ خراب کرنے کا باعث تو نہیں بنتیں، اب ہمارے پاس واضح شواہد ہیں کہ یہ ادویات کووڈ کے مریضوں کے لیے محفوظ ہین۔

تحقیق کے دوران ایسے مریضوں کا ڈیٹا کا اکٹھا کیا گیا جن کو ان ادویات تجویز کی گئی تھیں اور وہ ان کا استعمال ہسپتال میں داخلے سے 14 پہلے تک کررہے تھے۔

یہ مریض انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز کے 255 طبی مراکز میں جنوری سے اگست 2020 کے دوران داخل ہوئے تھے۔

تحقیق میں شامل 72 ہزار سے زیادہ مریضوں میں سے 5.8 فیصد نے ہسپتال میں داخلے سے قبل ان ادویات کا استعمال کیا تھا۔

تمام تر عوامل کا تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا گیا کہ ورم کش ادویات استعمال نہ کرنے والے افراد کے مقابلے میں انہیں کھانے والے افراد میں آئی سی یو میں داخلے، وینٹی لیشن یا آکسیجن کی ضرورت کا امکان کم ہوتا ہے۔

محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے کچھ پہلو محدود ہیں کیونکہ اس میں اس عرصے میں برطانیہ میں ہسپتالل میں زیرعلاج صرف 60 فیصد مریضوں کے ڈیٹا کو شامل کیا گیا جبکہ ایسے مریض اس کا حصہ نہیں تھے جن میں مرضج کی شدت زیادہ تھی مگر وہ ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے۔

اسی طرح تحقیق میں پہلو بھی جانچا نہیں گیا کہ ہسپتال میں داخلے سے پہلے کتنے عرصے تک مریضوں کی جانب سے ورم کش ادویات کا استعمال کیا گیا، جبکہ جن افراد نے استعمال کیا ان میں طویل المعیاد یا مختصر المدت ریلیف کی شرح کیا تھی۔

سی ڈی سی کا پہلی بار ہوا سے کورونا وائرس پھیلنے کا اعتراف

— شٹر اسٹاک فوٹو

امریکی طبی حکام نے پہلی بار تسلیم کیا ہے کہ کورونا وائرس ہوا کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔

7 مئی کو سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (سی ڈی سی) جاری ہونے والی نظرثانی گائیڈلائنز میں یہ اعتراف کیا گیا۔

اس سے قبل سی ڈی سی کی گائیڈلائنز میں کورونا وائرس کے ہوا سے پھیلنے کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔

مگر اب نئی گائیڈلائنز میں تسلیم کیا گیا کہ لوگوں میں اس بیماری کے پھیلاؤ کا ایک ذریعہ وائرل ذرات سے آلودہ فضا میں سانس لینا بھی ہے۔

گائیڈلائنز میں بتایا گیا ‘کوود کسی متاثرہ فرد کی سانس سے پھیل سکتا ہے، کیونکہ سانس سے وائرل بڑے اور بہت چھوٹے ذرات خارج ہوتے ہیں جن میں وائرس موجود ہوتا ہے، یہ ذرات سانس کے ذریعے دیگر افراد کے جسموں میں جاسکتا ہے یا ان کی آنکھوں، ناک یا منہ پر گرسکتے ہیں’۔

سی ڈی سی نے یہ بھی عندیہ دیا کہ لوگوں کے درمیان 6 فٹ کی دوری کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کافی نہیں تاہم اتنی دوری میں لوگوں میں وائرس کی منتقلی کا امکان قریب موجو افرا سے کم ہوتا ہے۔

اس سے قبل سی ڈی سی کی گائیڈلائنز میں بتایا گیا تھا کہ لوگ دیگر افراد میں اس وائرس کو قریب آنے پر ہی نتقل کرسکتے ہیں اور ہوا سے ایسا نہیں ہوتا۔

ورجینیا ٹیک ایروسول ماہر لینسے مرر نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ سی ڈی سی نے اب نئے سائنسی شواہد کے مطابق گائیڈلائنز جاری کی ہیں اور وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے سوچ سے چھٹکارا حاصل کیا گیا ہے۔

وبا کے آغاز سے وبائی امراض کے ماہرین نے طبی اداروں جیسے سی ڈی سی اور عالمی ادارہ صحت کو خبرار کیا تھا کہ ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ وائرس ہوا سے پھیل سکتا ہے۔

اس نئی گائیڈلائن میں یہ بھی کہا گیا کہ کووڈ ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے افراد کچھ مقامات پر بغیر ماسک کے جاسکتے ہیں تاہم بھیڑبھاڑ میں انہیں ماسک کا استعمال کرنا چاہیے، جبکہ ہوا کی ناقص نکاسی نظام والے مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔

جولائی 2020 میں سیکڑوں طبی ماہرین نے ایک کھلے خط میں عالمی ادارہ صحت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے موقف پر نظرثانی کرے، جس کے بعد ڈبلیو ایچ او نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر نئی سائنسی سفارشات جاری کی ہیں۔

اس خط کے بعد عالمی ادارے کی جانب سے جاری جولائی میں جاری ہدایات میں کہا گیا ‘کووڈ 19 کے اجتماعی کیسز کے واقعات کچھ بند جگہوں جیسے ریسٹورنٹس، مذہبی مقامات، کلبوں یا ایسے مقامات جہاں لوگ چیختے، تقریریں یا گاتے ہیں، میں رپورٹ ہوئے ہیں’۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ‘ایسے بند مقامات پر جہاں لوگوں کی تعداد زیادہ جبکہ ہوا کی نکاسی کا نظام ناقص ہوتا ہے اور متاثرہ افراد زیادہ وقت دیگر افراد کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہوں، وہاں ہوا سے وائرس کے پھیلنے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا’۔

عالمی ادارہ صحت نے زور دیا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ کورونا وائرس کے پھییلاؤ کے بارے میں زیادہ بہتر معلومات حاصل ہوسکے کہ وہ کس طرح بند مقامات پر طویل فاصلے تک پھیل سکتا ہے، تاحال کسی شائع تحقیق میں اسے ثابت نہیں کیا گیا۔

تاہم عالمی ادارہ صحت نے فی الحال واضح الفاظ میں کورونا وائرس کو ہوا کے ذریعے پھیلنے والا قرار نہیں دیا۔

کووڈ کی معمولی شدت سے دل کو دیرپا نقصان پہنچے کا امکان کم ہوتا ہے

— شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرس کی معمولی شدت کا سامنا کرنے والے افراد کے دل کے افعال یا ساخت کو دیرپا نقصان پہنچنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی اکثریت میں اس بیماری کی شدت معمولی ہوتی ہے یا علامات نظر نہیں آتیں۔

لندن کالج یونیورسٹی کی تحقیق 149 طبی ورکرز کو شامل کیا گیا تھا اور یہ کووڈ 19 سے معمولی حد تک بیمار افراد ہونے والی اب تک کی سب سے تفصیلی تحقیق ہے۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ کووڈ سے معمولی حد تک بیمار ہونے سے دل کے افعال اور ساخت پر طویل المعیاد بنیادوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کووڈ 19 کی سنگین شدت کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے میں بلڈ کلاٹس، دل کے ورم اور دل کو نقصان پہنچنے جیسے اثرات کو دریافت کیا گیا ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ معمولی حد تک بیمار افراد کو بھی اسی طرح کی پیچیدگیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تاہم اس تحقیق سے قبل اس حوالے سے زیادہ معلومات موجود نہیں تھی۔

تحقیق میں شامل افراد کے 16 ہفتوں تک خون، لعاب دہن کے نمونوں کے ساتھ پی سی آر ٹیسٹ ہر ہفتے لیے گئے۔

6 ماہ بعد ہارٹ ایم آر آئی اسکینز کے ذریعے 74 معمولی حد تک بیمار رہنے والے افراد دل کی ساخت اور افعال کا موازنہ 75 صحت مند افراد کے اسکینز سے کیا گیا جو کورونا سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔

محققین نے دونوں گروپس کے دل کے مین چیمبر کے حجم یا مسلز کی مقدار میں کوئی فرق دریافت نہیں کیا جبکہ دل کے خون پمپ کرنے کی صلاحیت بھی متاثر نہیں ہوئی تھی۔

دل پر ورم اور خراشوں کے ساتھ لچک بھی دونوں گروپس میں یکساں ہی دریافت ہوئی۔

جب محققین نے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا تو انہوں نے دونوں گروپس کے دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچنے کے اعشاریوں میں کوئی فرق دریافت نہیں کیا۔

تحقیقی ٹیم کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کی معمولی شدت کا سامنا کرنے والے مریضوں کے دلوں کی اسکریننگ کا کوئی خاص فائدہ نہیں اور ایسے افراد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جن کو اس بیماری کی سنگین شدت کا سامنا ہوا ہو۔

محققین نے کہا کہ کووڈ کے دل پر اثرات کے بارے میں تمام تر تفصیلات جاننا ایک چیلنج ہے مگر اب ہم وبا کے اس مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جہاں ہمیں اس بیماری کے طویل المعیاد اثرات پر کام شروع کردینا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نتائج ان کروڑوں افرا کے لیے اچھی خبر ہیں جن میں اس بیماری کی شدت معمولی تھی یا علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کی جانب سے کووڈ 19 کے دل اور گردشی نظام پر طویل المعیاد اور مختصر المعیاد اثرات پر تحقیق میں پیشرفت ہورہی ہے، مگر اب بھی بہت زیادہ کام ہونا باقی ہے، مگر ابھی اچھی خبر یہ ہے کہ بظاہر بیماری کی معمولی شدت سے دل کو دیرپا نقصان نہیں پہنچتا۔

ایم آر آئی اسکینز میں معمولی مسائل کو دیکھا گیا تھا مگر ان کی شرح کووڈ 19 سے معمولی بیمار ہونے والے افراد میں دیگر صحت مند سے زیادہ نہیں تھی۔

محققین کے خیال میں ان تبدیلیوں کی وجہ کورونا وائرس کی جگہ کچھ اور ہوسکتی ہے۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے