شفقنا کے مطابق حضرت سید آیت العظمی سید علی سیستانی نے درجہ ذیل بیان جاری کیا ہے
اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون ( بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اُسی کی طرف ہمیں لوٹ جانا ہے)
کابل میںسید الشہداء سکول پر رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں خوفناک حملہ جس میں دس سے زائد لوگ شہید اور کئی طالبات جام شہادت نوش کر گئیں جبکہ سینکڑوں دیگر طالبات شید زخمی ہوئیں، یقینا ہر صاحب دل اور صاحب ضمیر شخص کے لیے ایک بہت دردناک واقعہ ہے اور اس نے لوگوں کے دلوںکو درد سے بھر دیا ہے۔ ہم افغانستان کے پسے ہوئے لوگوں کے ساتھ دلی افسوس اور ہمدردی کا اظہارکرتے ہیں خاص طور پر ان خاندانوں کے ساتھ جن کے عزیز اس سانحے میں ان سےبچھڑ گئے اورہم اللہ سے ان کے لیے صبر کی دعا کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی اللہ عزوجل سے دعا گوہیں۔
اس مشکل صورتحال میں جب افغانستان میں دہشت گرد اور انتہا پسند مزید طاقت حاصل کرتے جا رہے ہیں ، ہم سمجھتے ہیں کہ تمام لسانی اور نسلی گروہوں کے مابین اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔افغان حکومت، مختلف قومیتوں ، مذہبی رہنماؤں اور عمائدین کو عام شہریوں کے تحفظ کے لیے غوروفکر کرنا چاہیے خاص طور پر مذہبی اقلیتوں اور نسل پرست گروہوں کو دہشت گردوں سے بچاؤ کے لیے تمام تر تدابیر پر غور کرنا چاہیے۔
تمام مسلمان ممالک اور بین الاقوامی برادری پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ افغانستان کی بے یارومددگار قوم کو اس گھڑی تنہا نہ چھوڑیں اور مذموم مقاصد رکھنے والے عناصر کو مستقبل میں اس طرح کے گھناؤنے اقدامات میںکامیاب نہ ہونے دیں جس میں کئی معصوم افراد ان دہشت گردوں کے مجرمانہ حملوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
ہم اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کے قابل احترام لوگوں کی عزت و جان ومال کو محفوظ رکھیں۔ آمین۔
27 رمضان المبارک ، 1442 ہجری
از دفتر حضرت آیت العظمی سید علی سیستانی نجف اشرف
پیر، 10 مئی 2021
شفقنا اردو
