بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی ایک عرصے سے ٹکراؤ اور دھونس کی خارجہ پالیسی کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ سرحد کی دوسری طرف سرجیکل سٹرائیک سے لے کر یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے تک ، مودی نے کئی متنازعہ اقدامات اٹھانے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ گزشتہ سات برسوں سے وہ بھارت کی خارجہ پالیسی کو طاقت کی قومی سیاسیت سے منطبق کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو کہ ان کی پارٹی کئی دہائیوں سے کر رہی ہے۔ بالفاظ دیگر بھارت کی مقامی سیاست کی طرح اس کی بین الاقوامی سیاست بھی مودی کی طرز سیاست جیسی ہوچکی ہے تاہم مودی کی خارجہ پالیسی کی کوئی بھی جہت ویسے نتائج کی حامل نہیں ہوسکتی جیسی ان کی کواڈ پالیسی ہوسکتی ہے ۔ کواڈ درحقیقت انڈو پیسفک پر مرکوز نیٹو طرز کا ایک اتحاد ہے۔ اس اتحاد کا حصہ بن کر نریندرامودی نے نہرو کی دی گئی خارجہ پالیسی کے آخری ستون یعنی نا الائمنٹ کو بھی خیرباد کہہ دیا ہے۔
آزادی کے بعد بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو تشکیل دیا جس کی بنیاد اینٹی سامراجیت اور تیسری دنیا کے ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تھا جو کہ نو آبادیات کا شکار رہی ہیں۔ جواہر لال نہرو، صدر سکرانو اور جمال عبدالناصر کے ہمراہ نان الائنڈ مومنٹ کے بانیوں میں سے تھے ۔ گاندھی کے دوست اور شاگرد ہونے کی وجہ سے اگرچہ نہرو ہرگز امن پسند نہیں تھے اور جہاں بھی جس جگیہ بھی ضرورت پڑی وہ بھارت کے قومی مقاصد کے حصول کے لیے طاقت کے حصول سے ہر گز ہچکچانے والے نہیں تھے نہرو کی قیادت میں ہی بھارت نے پرتگال سے گوا کے علاقے پر قبضہ کر لیا اور بھارت کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد بھی رکھی ۔ نہرو نے بھارت کو جنوبی ایشیا کا تسلط پسند ملک بنایا جو ان کے خیال میں بھارت کی حقیقی منزل ہے۔ نہرو نے ہی یہ ڈاکٹرائن پیش کی کہ بھارت اپنی سرزمین اور اپنے گردو نواح میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں پوری طرح آزاد ہے اور اس کا حق رکھتا ہے۔
نہرو کے الفاظ میں ” کسی بھی بیرونی طاقت کی جانب سے بھارت کے معاملات میں مداخلت کو کسی طور پر بھی برداشت نہیں کیا جائے گا اور بھارت اپنی پوری قوت سے ایسے اقدام کی مخالفت کرےگا۔ تاہم یہ ڈاکٹرائن اندرا گاندھی کے دور میں بلوغت کی حد کو پہنچ گئی جنہوں نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے بے تحاشا استعمال کو ترجیح دی ۔ اندرا گاندھی کی مداخلت پسند پالیسی کی وجہ سے بھی 1971 میں پاکستان دولحت ہوگیا اور بنگلہ دیش کا وجود سامنے آیا۔ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی خارجہ پالیسی کی اہم بات یہ تھی وہ بیرونی طاقتوں کو ایک طرف رکھنے کے قائل تھے اور جنوبی ایشیا میں اپنی ابتدا کو مضبوط کیا۔ نئی دہلی کی بھرپور کوشش تھی کہ بیرونی طاقتیں جنوبی ایشیا میں کسی طور پر بھی قدم نہ جما سکیں مثال کے طور پر سری لنکا کی خانہ جنگی میں بھارت کو یہ خوف تھا کہ امریکہ کہیں اس خطے سٹریٹیجک اہمیت کے علاقے ٹرنکومالی میں اپنی نیول بیس کی بنیاد ہی نہ رکھ دے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ مودی بھارت کی ایک طویل عرصے سے جاری بیرونی طاقتوں کو جنوبی ایشیا سے باہر رکھنے کی پالیسی کو ختم کر رہے ہیں ۔ حال ہی میں نئی دہلی نے مالدیپ اور امریکہ کے مابین دفاعی معاہدے کی بھرپور حمایت کی ہے جبکہ بھارت ان دو ممالک کے مابین تعاون کی حمایت بھی کر رہا ہے۔ اگرچہ بھارتی حکام یہ کہہ رہے ہیں کہ اس معاہدے سے خطے میں بھارت کے کردار پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا اس طرح کے اقدامات سے جنوبی ایشیا کے سیاسی و جغرافیائی پوزیشن پر اثر نہیں پڑے گا؟ کیا بھارت نے جنوبی ایشیا میں سیکورٹی کے ضامن کا کردار امریکہ کی جھولی میں ڈال دیا ہے؟
یہ بات تو واضح ہے کہ مودی سرکار نے بھارت کی تنہا آگے بڑھنے کی پالیسی کو ترک کر دیا ہے۔ اتحاد کا نظریہ بھارتی پالیسی میکرز کے لیے زیادہ سے زیادہ پرکشش ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس تبدیلی کا مطلب بڑا واضح ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں چین کا رستہ روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں بیجنگ میں جنوبی ایشیا میں اپنی خاطرہ خواہ موجودگی کا احساس دلایا ہے۔ چین نے اس وقت بھارت کے ارد گرد کے تمام ممالک میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے ۔ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے نے بہت سارے جنوبی ایشیائی ممالک کو چین کے ساتھ باندھ دیا ہے ۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں چن کے انفراسٹرکچر کے تمام منصوبے مستقبل میں فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے چین کی جانب سے گھیرے جانے کے خوف کی وجہ سے بھارت نے جنوبی ایشیا میں امریکی موجودگی کو خوش آمدید کہا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ان نئے سٹریٹجک معاہدوں میں بھارت کا کردار کیا ہوگا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی انڈو پیسفک پالیسی میں بھارت کا کردار مرکزی ہے تاہم پھر بھی طاقت کا توازن بھارت کی نسبت امریکہ کے حق میں ہے۔
یہ بات دلچسپ ہے کہ امریکی بحری جہاز جان پال جونز (ڈی ڈی جی 53) نے لکشدیپ جزائر کے مغرب میں تقریباً 130 ناٹیکل میل کے فاصلے پر انڈیا کے خصوصی اقتصادی زون میں ایک مشقوں کی مہم کی انجام دہی کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ مشقیں سات اپریل کو ہوئی اور اہم بات یہ ہے کہ یہ انڈیا سے اجازت لیے بغیر ہوئیں۔’فریڈم آف نیویگیشن آپریشن کے مطابق بین الاقوامی قانون کے تحت حقوق، آزادی اور سمندر کے قانونی استعمال کو برقرار رکھا گیا ہے اور انڈیا کے وسیع تر سمندری دعوؤں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ عموما ایسی مشقیں اپنے مخالف ممالک جیسا کہ جنوبی بحیرہ چین یا بحیرہ اسود میں کرتا ہے مگر بھارت کے خصوصی اقتصادی زون میں ان مشقوں سے یہ بات واضح ہے کہ محض اتحادکے لیے امریکہ بھارت کو کوئی بھی جگہ دینے پہ تیار نہیں ہے۔ تاریخی طورپر کبھی بھی ایک بڑی طاقت اور ایک چھوٹی طاقت کے مابین شراکت داری کو برابر نہیں سمجھا جاتا۔ یہ بات معنی نہیں رکھتی کہ نئی دہلی اس معاملے میں کیا سوچتاہے بلکہ یہ بات معنی رکھتی ہے کہ واشنگٹن کا اس حوالے سے کیا نکتہ نظر ہے۔ بھارت ایک کم تر طاقت ہے اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں اس لیے اس شراکت داری میں اس کا کردار چھوٹا ہی رہے گا اور امریکہ بھارت کو یہ چیز بار بار باور کرواتا رہے گا۔
پیر، 10 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
