پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروانے کے نتیجے میں وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں بہتری آئی ہے جبکہ کل سے 40 سال سے معمر رجسٹرد افراد کے لیے بھی واک ان ویکسینیشن کی سہولت کا آغاز کیا جارہا ہے۔
سرکاری سطح پر عالمی وبا کے اعداد و شمار مرتب کرنے والی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 3 ہزار 84 افراد وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ مزید 113 افراد انتقال کر گئے۔
ملک میں 10 مئی کو مجموعی طور پر کووڈ-19 کے 38 ہزار 883 ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتیجے میں کورونا کیسز کے مثبت آنے کی شرح 7.93 فیصد رہی اور فعال کیسز کم ہو کر 78 ہزار 959 رہ گئے ہیں۔
پاکستان میں اب تک 8 لاکھ 64 ہزار 557 افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں سے 19 ہزار 106 زندگی کی بازی ہار گئے۔
علاوہ ازیں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وائرس کا شکار مزید 4 ہزار 387 افراد صحتیاب ہوئے یوں کورونا سے صحتیاب ہونے والے مریضوں کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 66 ہزار 492 تک جاپہنچی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق 26 فروری 2020 کو ہوئی تھی، جس کے بعد سے وبا کے پھیلاؤ میں اتار چڑھاؤ جاری ہے اور اب تک وائرس کی 3 لہریں دیکھی جاچکی ہیں۔
موجودہ لہر کے دوران کورونا وائرس کے کیسز اور اموات میں اضافے کے پیشِ نظر عیدالفطر کتے موقر پر تفریحی مقامات بشمول پبلک پارکس، پکنک پوائنٹس، سیاحتی مقامات، ساحلِ سمندر وغیرہ بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عید کی تعطیلات کے دوران اپنے گھروں میں رہیں اور محفوظ رہیں۔
ملک میں 11 مئی 2021 کو کورونا وائرس کیسز اور اموات کی صورتحال کچھ یوں ہے:
پنجاب
صوبہ پنجاب کورونا وائرس کی تیسری لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا کے مزید ایک ہزار 486 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ 67 اموات رپورٹ ہوئیں۔
پنجاب میں مجموعی طو پر کورونا وائرس سے 3 لاکھ 20 ہزار 851 افراد متاثر جبکہ 9 ہزار 125 انتقال کرچکے ہیں۔
سندھ
صوبہ سندھ میں بھی وبا کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے اور یہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 782 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ مزید 11 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
مذکورہ اضافے کے بعد سندھ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 93 ہزار 426 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 4 ہزار 753 تک جاپہنچی ہے۔
خیبرپختونخوا
کورونا وائرس کی تیسری لہر نے پنجاب کے بعد خیبرپختونخوا کو زیادہ متاثر کیا جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ-19 کے مزید 495 کیسز اور 29 اموات رپورٹ ہوئیں۔
اب تک خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 24 ہزار 979 افراد وبا سے متاثر جبکہ 3 ہزار 644 لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
بلوچستان
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے سب سے وسیع صوبے میں مزید 87 افراد وائرس سے متاثر پائے گئے اور 5 انتقال کر گئے۔
نئے کیسز کے اضافے کے بعد بلوچستان میں عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد32 ہزار 534 ہوگئی جبکہ اموات کی تعداد 253 تک جا پہنچی ہے۔
اسلام آباد
کورونا کی تیسری لہر نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو بھی متاثر کیا ہے جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے مزید 182 کیسز سامنے آئے جبکہ ایک مریض انتقال کر گیا۔
اسلام آباد میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 78 ہزار 382 ہے جبکہ 716 افراد وبا سے انتقال کرچکے ہیں۔
آزاد کشمیر
آزاد کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 39 کیسز کی تصدیق ہوئی اور اموات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
مذکورہ اضافے کے بعد آزاد کشمیر میں کورونا وائرس مجموعی طور پر 17 ہزار 984 افراد کو متاثر کرچکا ہے جبکہ 508 افراد کی موت کا سبب بھی بنا ہے۔
گلگت بلتستان
کورونا وائرس سے سب سے کم گلگت بلتستان متاثر ہوا ہے اور وہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 13 کیسز سامنے آئے اور مزید کوئی موات رپورٹ نہیں ہوئی۔
گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 5 ہزار 401 جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 107 ہے۔
ملک بھر میں ویکسینیشن مراکز عید کے تیسرے روز کھولنے کا اعلان

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے عید الفطر کے ابتدائی 2 روز ویکسی نیشن مراکز بند رکھنے اور تیسرے روز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے 2 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔
دوسری جانب صوبہ سندھ 16 مئی سے ویکسی نیشن کی سہولت تمام عمر کے بالغان کے لیے بڑھا رہا ہے۔
این سی او سی کے ایک نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ عید کے پہلے اور دوسرے روز ویکسی نیشن مراکز بند رہیں گے جبکہ اس کے بعد یہ معمول کے مطابق کام کریں گے۔
یہاں یہ بات مدِنظر رہے کہ وزارت داخلہ سے جاری اعلامیے میں 10 تا 15 مئی عید کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا تھا اور اس اعلان کی وجہ سے قومی سطح پر عوام نقل و حرکت محدود کرنا تھا۔
وزارت صحت کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس سے پہلے عید کے تینوں دن ویکسی نیشننر مراکز بند رکھنے پر غور کیا جارہا تھا۔
تاہم روزانہ تقریباً 2 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی جارہی ہے جس پر فیصلہ کیا گیا کہ عید کی چھٹیاں کم کر کے ہیلتھ ورکرز کو عید کے تیسرے روز ویکسی نیشن مراکز طلب کر لیا جائے۔
جب انہیں کہا گیا کہ اگر ویکسی نیشن مراکز نہ بند کیے جائیں تو 4 لاکھ افراد کو فائدہ ہوگا تو ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے پسِ پردہ 2 وجوہات ہیں۔
ایک وجہ یہ کہ ہیلتھ کیئر ورکرز کو ایک وقفہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ انہیں بھی عید اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ منانے کا حق حاصل ہے، دوسرا یہ کہ تہوار کے ابتدائی دو روز عوام کی اکثریت ویکسی نیشن مراکز کا رخ نہیں کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے ہیلتھ کیئر ورکرز ہسپتالوں میں کام کر رہے ہیں جن کی عید کی تعطیلات منسوخ کی جاچکی ہیں لہٰذا صرف محدود تعداد میں طبی ورکرز کو گھر پر رہنے اور عید منانے کا موقع میسر آئے گا۔
سندھ میں 18 سال سے معمر افراد کی ویکسی نیشن کا اعلان
دوسری جانب وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے کہا کہ 16 مئی سے تمام عمر کے بالغان کے لیے ویکسی نیشن کی سہولت دستیاب ہوگی۔
ایکسپو سینٹر میں میگا ویکسی نیشن مرکز کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ’16 مئی سے صوبے میں 18 سال کی عمر سے زائد کے تمام افراد ویکسین لگوا سکیں گے۔
کراچی کے ایکسپو سینٹر میں قائم اس ویکسی نیشن مرکز کو صوبائی حکومت نے پاکستان کا سب سے بڑا ویکسی نیشن مرکز قرار دیا تھا، جہاں ایک روز میں 25 ہزار افراد کو ویکسین لگائی جاسکے گی۔
وزیراعظم کا کورونا مریضوں کے وارڈ کا دورہ
ادھر وزیر اعظم عمراں خان نے کووِڈ 19 کے مریضوں کے لیے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے پیر کی رات پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کا اچانک دورہ کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے مریضوں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور مریضوں کے لیے بہترین علاج معالجے کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کو ہسپتال کے لیے تمام وسائل کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی۔
اس حوالے سے ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر منہاج السراج نے کہا کہ ہسپتال میں 200 بستر کورونا مریضوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 121 زیر استعمال ہیں۔
وزیر اعظم نے ہسپتالوں میں آکسیجن کی صورتحال کے بارے میں دریافت کیا جس پر انہیں بتایا گیا کہ آکسیجن کی کافی مقدار دستیاب ہے۔
ساتھ ہی انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ چند روز کے دوران مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
سینیٹر فیصل جاوید کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان ہسپتال کے کورونا وائرس وارڈ میں بھی گئے اور مریضوں سے علاج کی سہولت کے بارے میں پوچھا جبکہ ہیلتھ کیئر ورکز سے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے ویکسین لگوالی ہے۔
منبع: ڈان نیوز
