واشنگٹن: فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس کو امریکا نے مؤخر کروا دیا جو اب اتوار کے روز ہوگا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے فلسطین اور اسرائیل کی صورت حال پر بلائے گئے سلامتی کونسل کے اجلاس کو اتوار تک مؤخر کروا دیا۔
اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے معصوم جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجلاس روکنے کے حق میں نہیں بلکہ اس اہم مسئلے پر کھل کر بحث کرنا چاہتے ہیں اس لیے اب اجلاس اتوار کو بلایا جائے گا۔
انتھونی بلنکن کا مزید کہنا تھا کہ راکٹ حملوں کے خلاف ہیں یہ سلسلہ رکنا چاہیئے۔ اجلاس کے مؤخر ہونے سے اس اہم مسئلے کے حل کے لیے سفارت کاری کو موقع ملے گا۔ تشدد روکنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے غزہ پر راکٹ حملوں سے شہید ہونے والوں کی تعداد 119 ہوگئی ہے جن میں 31 بچے بھی شامل ہیں جب کہ 600 سے زائد زخمی ہیں۔
امریکی کانگریس میں رکن پارلیمنٹ فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے رو پڑیں

واشنگٹن: امریکی کانگریس میں مسلم خاتون اراکین رشیدہ طلیب اور الہان عمر نے اپنی تقریروں میں ایوان کی توجہ فلسطین پر اسرائیلی مظالم کی جانب دلائی اور اس دوران جذبات پر قابو نہ رکھتے ہوئے رو پڑیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی کانگریس میں اس وقت جذباتی منظر دیکھنے کو ملا جب رشیدہ طللیب غزہ کی ایک ماں کی دل گداز تحریر سناتے ہوئے رو پڑیں۔ الہان عمر نے بھی فلسطینیوں کے حق میں زوردار تقریر کی اور اس دوران ایک موقع پر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
رشیدہ طلیب نے بتایا کہ غزہ کی ایک ماں اپنی تحریر میں لکھتی ہیں کہ وہ بچوں کو بیڈروم میں اپنے ساتھ ہی سلاتی ہیں تاکہ مریں تو سب ساتھ مریں کیوں کہ میں نہیں چاہتی ہے کہ جو بچ جائے وہ ساری عمر دوسرے کی موت کا غم برداشت کرے۔
رشیدہ طلیب نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے لیے امداد کو عالمی انسانی حقوق کی پاسداری سے مشروط کیا جائے۔ جب میں اپنے ملک کی پالیسیاں دیکھتی ہوں تو غزہ کی اس ماں کی تحریر مجھے مزید توڑ کر رکھ دیتی ہے۔
ایک اور رکن الہان عمر نے کہا کہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے والا ہر راکٹ اور ہر بم جنگی جرم ہے، ہر موت ایک سانحہ ہے۔ مجھے ہر اس بچے کے لیے تڑپ جاتی ہوں جو ان راکٹس اور بم کے خوف سے بستر میں چھپ جاتا ہے۔
الہان عمر نے مزید کہا کہ انسانیت کے خلاف سنگین جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی مذمت کرنے کے بجائے ہمارے بہت سے اراکین سیلف ڈیفنس کے نام پر اسرائیل کے فضائی حملوں کی حمایت کر رہے ہیں، یہ نہایت افسوس ناک بات ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کے غزہ پر حملوں میں شہید ہونے والوں کی تعداد 119 ہوگئی ہے جس میں 30 سے زائد بچے ہیں جب کہ 600 سے افراد زخمی ہیں۔
فرانس نے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی

پیرس: فرانس نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی اور اس ضمن میں پولیس کو خصوصی احکامات بھی جاری کردیے گئے ہیں، ساتھ ہی فرانسیسی وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق اس ضمن میں فرانسیسی وزیرِ داخلہ جیرالڈ ڈرمینِن نے جمعرات کو پولیس کو احکامات جاری کیے ہیں کہ ہفتے اور اتوار کو فلسطین کی حمایت میں کئی جلوس اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی جنہیں روکنا ہوگا۔ حیرت انگیز طور پر اس فیصلے سے قبل ہی بدھ کو پیرس میں مقبوضہ فلسطین اور غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ ظلم و جبر کے خلاف ایک ریلی پر کریک ڈاؤن کیا گیا۔
فرانسیسی وزیر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ مظاہرے مبینہ طور پر عین اسی طرح کے باہمی تصادم کی وجہ بن سکتےہیں جو 2014ء میں رونما ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ سال 2014ء کے ماہِ رمضان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ بھر کی نصف عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں اور سیکڑوں فلسطینی شہید ہوئے تھے۔
قبل ازیں 12 مئی بروز بدھ کو پیرس کی پولیس نے فرانسیسی فلسطینی حمایتی تنظیم (اے ایف پی ایس) کے سربراہ برٹرانڈ ہائیلبرون کو گرفتار کرلیا تھا تاہم کئی گھنٹوں بعد انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ برٹرانڈ کی گرفتاری پر فرانس میں انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے شدید ردِ عمل اور افسوس کا بھی اظہار کیا تھا۔
اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حاصل ہے، ایمانوئیل میکرون
دوسری جانب فرانسیسی وزیراعظم ایمانوئیل میکرون نے اسرائیلی وزیراعظم سے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حاصل ہے۔
یہ بات انہوں ںے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے لیے جاری کردہ بیان میں کہی۔ بیان کے مطابق ایمانوئیل میکرون نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے حماس کے راکٹ حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔
ایمانوئیل میکرون نے غزہ میں شہری آبادی کی خراب صورتحال پر اظہار تشویش بھی کیا۔
منبع: ایکسپریس نیوز
