English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بیشتر ممالک سے آنے والے زائرین کی سعودی عرب قرنطینہ میں رہنے کی پابندی ختم

القمر

سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ بیشتر ممالک سے آنے والے غیر ملکی زائرین کو کورونا ویکسین کا سرٹفکیٹ دکھانے پر قرنطینہ میں رہنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

تاہم واضح رہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات کے تحت امریکا، بھارت، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور متحدہ عرب امارات سمیت 20 دیگر ممالک کے زائرین پر ریاست میں داخل ہونے پر پابندی عائد رہے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے سول ایوی ایشن اتھارٹی (جی اے سی اے) نے کہا ہے کہ 20 مئی سے اجازت دیے گئے ممالک سے کورونا ویکسین لگوانے والے یا کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے غیر سعودی زائرین کو فضائی راستے سے ریاست میں پہنچنے پر انہیں اب حکومت کے منظور شدہ ہوٹلوں میں 7 روز قرنطینہ میں نہیں گزارنے ہوں گے۔

فی الحال ریاست میں آنے والے تمام مسافروں کو ان کے ممالک کے لحاظ سے سات سے 14 روز کے لیے قرنطینہ میں گزارنے اور منفی کورونا ٹیسٹ کا نتیجہ دکھانے کی ضرورت ہے۔

نئے قواعد کے تحت 8 سال سے زائد عمر کے ہر فرد جن کو ویکسین نہیں دی گئی ہے، کو 20 مئی تک اپنے خرچے پر سات روز سعودی عرب پہنچنے پر قرنطینہ کرنا ہوگا اور ان کی آمد کے چھٹے روز ٹیس کا منفی نتیجہ فراہم کرنا ہوگا۔

انہیں کورونا وائرس کے ممکنہ خطرات کو پورا کرنے کے لیے صحت کی انشورنس پالیسی بھی مہیا کرنا ہوگی۔

انہیں ریاست میں اپنی پرواز میں سوار ہونے سے قبل 72 گھنٹوں میں لیے گئے منفی ٹیسٹ بھی فراہم کرنے کی ضرورت ہوگی۔

اس کے علاوہ سعودی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرات کی وجہ سے سعودی شہریوں کو بغیر کسی اجازت کے 13 ممالک میں جانے پر پابندی ہے۔

ان ممالک کے نام یہ ہیں: لیبیا، شام، لبنان، یمن، ایران، ترکی، آرمینیا، صومالیہ، جمہوریہ کانگو، افغانستان، بیلاروس اور بھارت۔

خیال ر ہے کہ فروری میں سعودی عرب نے سفارت کاروں، سعودی شہریوں، طبی عملے اور ان کے اہل خانہ کو چھوڑ کر 20 ممالک سے داخلہ معطل کردیا تھا تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے