دفتر خارجہ نے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کے خلاف افغان قیادت کی طرف سے حالیہ ‘غیر ذمہ دارانہ بیانات اور بے بنیاد الزامات’ کے حوالے سے اپنے سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں افغان سفیر کے سامنے سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ‘پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بے بنیاد الزامات سے اعتماد میں کمی آئے گی اور دونوں برادر ممالک کے درمیان ماحول خراب ہوگا اور افغان امن عمل کو آسان بنانے میں پاکستان کی طرف سے جو تعمیری کردار ادا کیا جا رہا ہے وہ نظرانداز ہوسکتا ہے’۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ‘افغان فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تمام دوطرفہ امور کو حل کرنے کے لیے افغانستان – پاکستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی کی طرح دستیاب فورمز کو موثر انداز میں استعمال کریں’۔
دفتر خارجہ کا یہ بیان افغان صدر اشرف غنی کے ایک جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے دعوے کہ پاکستان نے ‘طالبان کے لیے ایک منظم نظام کی حمایت’ کی ہے، کے بعد سامنے آیا۔
اشرف غنی نے کہا تھا کہ طالبان کو وہاں سے ساما ملتا ہے، ان کی مالی اعانت ہوتی ہے اور وہاں سے بھرتی بھی ہوتی ہے’۔
افغان صدر نے جرمن میگزین کو بتایا کہ ‘طالبان کی فیصلہ سازی کرنے والی مختلف تنظیموں کے نام کوئٹہ شوریٰ، میرام شاہ شورہ اور پشاور شوریٰ ہیں، یہ پاکستانی شہروں کے نام پر رکھے گئے ہیں جہاں وہ واقع ہیں، ان کے ریاست کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں’۔
جب سوال کیا گیا کہ وہ اب بھی کسی امن عمل پر یقین رکھتے ہیں تو اشرف غنی نے کہا کہ ‘بنیادی طور پر امن کا فیصلہ علاقائی طور پر کیا جائے گا اور مجھے یقین ہے کہ ہم اس پر دوبارہ غور کرنے کے دہانے پر ہیں مگر سب سے پہلے اور سب سے اہم یہ ہے کہ پاکستان کو اس میں شامل کیا جائے، اب امریکہ صرف معمولی کردار ادا کرتا ہے، اب امن یا دشمنی کا سوال پاکستان کے ہاتھ میں ہے’۔
انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ طالبان کی طرف سے امارت کی یا آمریت کی بحالی خطے اور خصوصاً پاکستان میں کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں نے کہا تھا کہ فوج میں چند نچلے درجے میں مختلف رائے پائی جاتی ہے، یہ بنیادی طور پر سیاسی خواہش کا معاملہ ہے’۔
یورپ امن عمل میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے، اس سوال کے جواب میں افغان صدر نے کہا کہ ‘وہ بہت کچھ کرسکتے ہیں، پاکستان ایک ریاست ہے اور اس ریاست کو اب ایک اہم فیصلہ کرنا ہوگا، جرمنی کے واضح پیغامات اور مراعات سے مدد ملے گی اور اس کے برعکس اگر فیصلہ مختلف ہو تو پابندیاں متعارف کرانی چاہیئیں، بطور یوروپین آپ کو خود کو مبصرین کی حیثیت سے نہیں دیکھنا چاہیے، آپ ان کا براہ راست حصہ ہیں’۔
افغانستان اور پاکستان کے مابین امن کی کلید کے طور پر مستقبل میں سیکیورٹی انتظامات کے بارے میں ، انہوں نے کہا: "یقینا an ایک اہم کلید ہے۔ لیکن میرا مقصد افغانستان کی غیر جانبداری ہے۔ ہم ایک نئی حفاظت کی طاقت نہیں چاہتے ہیں ، اور ہم نہیں چاہتے ہیں۔ علاقائی یا بین الاقوامی دشمنیوں کا حصہ بننے کے لئے۔ "
منبع: ڈان نیوز
