English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

او آئی سی کا فلسطینیوں سے سنگین مذاق

القمر

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں فلسطین کے حق میں اور اسرائیلی مظالم کے خلاف قرارداد منظور کرلی گئی۔ سعودی عرب کی درخواست پر فلسطین کی صورتحال پر او آئی سی وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں اسرائیلی حملوں اور فلسطین کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ 57 اسلامی ملکوں کی نمائندہ تنظیم او آئی سی نے نہ اقتصادی بائیکاٹ کی بات، نہ کسی اور ایکشن کا مطالبہ کیا بلکہ فلسطین پر اسرائیلی بمباری اور وحشیانہ حملوں کو ایک روایتی قرار داد منظور کرکے نمٹادیا۔ قرارداد کے متن کے مطابق اسرائیل کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ حالات کو مزید بگاڑنے سے باز رہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اسرائیل تمام تر خلاف ورزیاں فوری بند کرے، فلسطینی مقدس مقامات اور مسجد اقصیٰ کی بےحرمتی فوری بند کرے۔او آئی سی کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حالات کی خرابی کا ذمہ دار مکمل طور پر اسرائیل کو ٹھہراتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی برادی اپنی ذمہ داریاں پوری کرے جبکہ سلامتی کونسل فوری طور پر اسرائیلی حملے بند کرائے۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ امید تھی کہ جلد یا بدیر او آئی سی کا سربراہی اجلاس ہوگا اور مسلم حکومتوں کے سربراہ فلسطینی ممالک کو اسرائیلی درندگی سے نجات دلانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو کریں گے۔ لیکن اس قرارداد نے یہ واضح کر دیا کہ مسلم ممالک نے صاف کہہ دیا ہے کہ کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے، ہر ملک اپنی ذمہ داریاں خود پوری کرے۔ ادھر غزہ کی صورت حال یہ ہے کہ مکانات ملبے کے ڈھیر بن چکے ہیں، شہداء اور زخمیوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے، اور اسرائیل کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ وہ کب تک نہتے فلسطینیوں کا قتل عام جاری رکھے گا۔  57 اسلامی ممالک پر مشتمل اس تنظیم کے اجلاس میں تقریریں کرنے یا ایک دوسرے کی نیت پر شک کے سوا کوئی خاص مقصد حاصل نہیں کیا جاسکا۔ اجلاس کے دوران دیے گئے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمان اور عرب ممالک فلسطینی کاز کے لئے یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے اس انسانی بحران میں اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

اسرائیلی فوجوں نے تنازعہ کے ساتویں روز بھی غزہ پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔ آج کی بمباری شدید ترین تھی اور اس میں ہلاکتوں کی تعداد بھی سابقہ دنوں کے مقابلے میں بہت زیادہ تھی۔ اتوار کو ہونے والے حملوں میں 42 شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ گزشتہ اتوار کو شروع ہونے والی بمباری سے اب تک 190 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جن میں 47 بچے بھی شامل ہیں۔ مرنے والوں میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ اسرائیلی فوج نے کم از کم ایک حملہ ایک فلسطینی مہاجر کیمپ پر بھی کیا جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ حماس کے سیاسی ونگ کے لیڈر یحیٰ سناور کو ہلاک کرنے کے لئے غزہ کی ایک گنجان آبادی میں واقع ان کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ متعدد ذرائع نے اس حملہ کی تصدیق کی ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس حملہ سے سناور بچ نکلنے میں کامیاب رہے یا مار دیے گئے۔

اس کے باوجود اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ پر صرف ان سرنگوں پر حملے کررہا ہے جنہیں اسرائیل میں دہشت گردی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک فوجی ترجمان نے شہریوں کی ہلاکتوں کی وضاحت کرتے ہوئے یہ مضحکہ خیز دعویٰ بھی کیا ہے کہ ’اسرائیلی فوج شہریوں کونقصان پہنچانا نہیں چاہتی لیکن جب عسکری مقامات پر حملہ کیا جاتا ہے تو اس کی وجہ سے قریبی آبادیوں کو نقصان پہنچتا ہے اور سویلین ہلاکتیں بھی ہوجاتی ہیں‘۔ غزہ پر اسرائیلی حملے جاری رکھنے کے سیاسی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ نیتن یاہو کے اقتدار کو مخالف سیاسی گروہوں کے اتحاد سے خطرہ ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ 13 سال بعد نیتن یاہو کو اقتدار سے محروم ہونا پڑے گا۔ ایسا ہونے کی صورت میں انہیں بدعنوانی کے متعدد مقدمات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ اب یہ بات بھی واضح ہورہی ہے کہ نیتن یاہو اپنا اقتدار بچانے کے لئے غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ عوام کے سامنے خود کو ’ اسرائیلیوں کے محافظ‘ کے طور پر پیش کرسکیں۔

اسلامی تعاون تنظیم کے ورچوئیل اجلاس میں بھی آج فلسطین کی آزادی اور اسرائیلی بربریت پر گرما گرم تقریریں کی گئیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فلسطین کی حمایت کو پاکستانی خارجہ پالیسی کی بنیاد قرار دیا اور دنیا سے مطالبہ کیا کہ فوری طور سے اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بند کروایا جائے۔ اجلاس سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین نے بھی اسرائیلی ظلم کی تصویر کشی کرنے کا حق ادا کیالیکن اجلاس کے دوران یہ واضح نہیں ہوسکا کہ عرب و مسلمان ممالک اسرائیل کو جنگ بند کرنے اور فلسطین کو آزاد کروانے کا مقصد کیسے حاصل کریں گے۔ جن ’عالمی لیڈروں اور ضمیر‘ سے وہ فلسطینیوں کی مدد کرنے کی اپیلیں کررہے ہیں، انہو ں نے گزشتہ نصف صدی میں کبھی ان درمندانہ اپیلوں پر غور نہیں کیا۔ نہ ہی مسلمان ملکوں کی نمائیندہ او آئی سی کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرسکی ہے جس پر اس کے سارے ارکان متفق ہوں اور جسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کسی پس و پیش کے بغیر سب مل کر اپنی تمام توانائیاں صرف کریں۔

 مسئلہ فلسطین کے عنوان سے او آئی سی نے متعدد اجلاس بلائے جن میں سربراہی اجلاس بھی شامل تھے اور ابھی حالیہ اجلاس  بھی اس کا حصہ ہے ۔اسی طرح افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ او آئی سی اپنے اہداف و مقاصد میں اس لئے بھی کامیاب نہیں ہو پائی کیونکہ متعد د اسلامی ممالک کے حکمران ہمیشہ سے ہی امریکی کاسہ لیسی میں مصروف عمل رہے ہیں اور امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف کسی بھی عملی اقدام کو کرنے سے گریزاں ہیں۔ یاد رہے کہ  13دسمبر 2017ء کو ترکی کے صدر اردگان نے او آئی سی کا اہم ترین اجلاس اس وقت بلا لیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم (القدس) سے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے اسے غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کا دارلحکومت بنانے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی امریکی سفارتخانہ کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا جسے حالیہ دنوں مورخہ14مئی کو عملی جامہ پہنایا گیاہے۔بہر اس موقع پر ترک صدر نے انتہائی عجلت کا مظاہرہ کیا اور فلسطینیوں کا درد سینے میں لئے سب سے پہلے آگے بڑھ کر او آئی سی کا اجلاس طلب کر لیا لیکن اس اجلاس کے فیصلوں نے جہاں فلسطینیوں کے درد کا مداوا کرنا تھا وہاں نہ صرف فلسطینیوں کی پیٹھ پر خنجر گھونپ دیا گیا بلکہ پوری مسلم امہ کو بھی حیران کن صورتحال میں لا کھڑا کیا۔

اس اجلاس میں کہ جس کا مقصد قبلہ اول بیت المقدس کی شناخت کو امریکی فیصلوں کے سامنے محفوظ کرنا اور دفاع کرنا تھا اس میں کہا گیا کہ مشرقی القدس فلسطین کا ابدی دارالحکومت ہے، جبکہ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو القدس شہر جو مشرقی و مغربی حصوں پر مشتمل ہے دراصل پورے کا پورا ہی فلسطین کا ابدی دارالحکومت رہاہے جبکہ سنہ1948ء سے مغربی القدس کا علاقہ پہلے ہی غاصب صیہونی ریاست کے تسلط میں ہے۔لہذٰا او آئی سی کی اس قرار داد نے جہاں ایک طرف سنہ48ء کے صیہونی غاصبانہ تسلط کو بھی قانونی شکل دے ڈالی وہاں قبلہ اوّل کے تشخص کے عنوان سے فلسطینی مسلمانوں اور مسلم دنیا کے جذبات بھی مجروح کر ڈالے۔افسوس ہے کہ اگر اس اجلاس میں مسلم دنیا کے یہ حکمران واضح اور شفاف فیصلہ کرتے تو شاید آج امریکہ کو یہ ہمت نہ ہوتی کہ وہ فلسطینیوں کی لاشوں پر سے ہوتا ہوا القدس میں اپنا سفارتخانہ منتقل کر لیتا۔واضح رہے کہ او آئی سی کے اس اجلاس میں چند ایک مسلمان ممالک نے مشرقی القدس سے متعلق قرارداد کی مخالفت کی تھی تاہم متعدد عرب ممالک اور میزبان ترکی اس بات پر متفق تھے۔

اس مرتبہ بھی او آئی سی میں صرف اسرائیل کی لفاظی مذمت کی گئی ہے اور فلسطینی عوام کے قتل عام پر اسرائیل کو دہشت گرد کا لقب دیا گیا،ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ جس میں کہا گیا ہوں کہ مسلم دنیا کے حکمران امریکہ اور اسرائیل کے سفارتخانوں کو اپنے اپنے ممالک میں اس وقت تک بند کرنے کا اعلان کر رہے ہیں کہ جب تک یہ دونوں ممالک فلسطین کے حق کو تسلیم نہیں کرتے اور اس وقت تک ہم امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تجارت نہیں کریں گے جب تک فلسطین کو اس کا حق نہیں مل جاتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان دنیا کے حکمرانوں کے د ل فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں لیکن ان کی تلواریں غاصب صیہونیوں کے خلاف نہیں ہیں ، ان حکمرانوں میں تو اتنی بھی جرات اور ہمت باقی نہیں ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہی کو ختم کر دیں اور دوسرے مرحلہ میں امریکی سفارتکارں کو مسلم دنیا کے ممالک سے نکال باہر کریں تا کہ امریکہ اور اس کے حواریوں کو بھی اندازہ ہو سکے کہ مسلم دنیا کے حکمران فلسطین کی مظلوم عوام کی پشت پر عملی طور پر ہیں نہ کہ زبانی کلامی دعووں کے ذریعہ۔ مسلمان ملکوں کے متضاد مفادات، غیر واضح حکمت عملی اور باہمی تنازعات کے تناظر میں، وہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق تسلیم کرنے پر مجبور کرسکیں۔ گرم جوش تقریروں سے نہ تو کشمیر آزاد ہوسکا ہے اور نہ ہی فلسطین کی آزادی کا کوئی امکان ہے۔

پیر، 17 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے