English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی جائیدادوں کی نیلامی روکنے کے لیے درخواستیں مسترد کردیں

القمر

اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ ریفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جائیدادوں کی نیلامی رکوانے کے لیے دائر درخواستوں کو مسترد کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس متبادل فورم موجود ہے اور نیلامی رکوانے کے لیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ متبادل فورم موجود ہونے پر ہائی کورٹ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت یہ درخواستیں نہیں سن سکتی۔

واضح رہے کہ میاں اقبال برکت، اشرف ملک اور اسلم عزیز نے نواز شریف کی جائیدادوں کی نیلامی رکوانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی تھیں۔

شہری اشرف ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ شیخورپورہ کی جائیداد انہوں نے ساڑھے 7 کروڑ روپے کے عوض خرید رکھی ہے لہٰذا نیلامی روکی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ نوازشریف کو شیخو پورہ زمین کی رقم ادا کر چکے ہیں لیکن سابق وزیر اعظم کی گرفتاری کے باعث حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔

اشرف ملک نے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر عمل کے لیے انہوں نے سول کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے لہٰذا نیلامی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

ادھر شہری اقبال برکت نے بھی نیلامی روکنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جس جائیداد کی نیلامی کی بات ہو رہی ہے وہ اتفاق گروپ کا ایک غیرکارپوریٹ اثاثہ ہے جس کو اتفاق گروپ کے 7 اہلخانہ کے مابین تقسیم کیا گیا تھا۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس نیلامی کے حکم کو غیرقانونی اور قانون کے طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوراً کالعدم قرار دیا جائے کیونکہ درخواست کا مؤقف سنے بغیر ہی یہ فیصلہ جاری کردیا گیا۔

دوسری جانب شہری اسلم عزیز نے اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا کہ لاہور میں پھلوں کے باغات پٹے پر لے کر سرمایہ لگا رکھا ہے لہٰذا نیلامی روکی جائے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے لاہور میں نواز شریف کے پھلوں کے باغات پر میں نے سرمایہ لگا رکھا ہے اور سابق وزیر اعظم سے زمین پٹے پر معاہدے کے تحت حاصل کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ نیلامی کی صورت میں ان کی سرمایہ کاری ضائع اور بڑا مالی نقصان ہو گا لہٰذا نیلامی کے عمل کو فی الفور روکا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد و اشتہاری ملزم نواز شریف کی جائیداد کی نیلامی کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے نواز شریف کی جائیداد نیلامی کی نیب کی درخواست قبول کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا تھا کہ نواز شریف کی جہاں جہاں جائیداد ہے، متعلقہ صوبائی حکومت اسے نیلام کر سکے گی جبکہ ڈپٹی کمشنر لاہور اور شیخوپورہ سے 60 دن میں رپورٹ طلب کی تھی۔

نیب نے نواز شریف کی لاہور میں 105ایکڑ اور شیخوپور میں 88کنال زمین کی نیلامی کا فیصلہ کیا تھا۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے