ویب ڈیسک —
اسرائیل اور حماس نے جمعرات کے روز جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے جس سے دونوں فریقوں کے درمیان غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی بپا کرنے والی گیارہ روزہ لڑائی اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے رات دیر گئے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ جمعرات کو اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد کیا گیا جس میں مصر کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی ایک تجویز پر اتفاق ہو گیا تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے دفاعی عہدیداروں، ملٹری چیف آف سٹاف اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے مصر کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز کو اس دعوے کے ساتھ منظور کر لیا ہے کہ اس آپریشن میں "عظیم کامیابیاں” حاصل کر لی گئی ہیں۔
فلسطینیوں کے عسکریت پسند گروپ حماس نے بھی فوری ردعمل میں کہا ہے کہ وہ بھی اس معاہدے کا احترام کریں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کے ایک رکن نے اور مصر کے سرکاری خبر رساں ادارے ’مینا‘ نے بتایا ہے کہ جنگ بندی پر عمل درآمد ، اس اعلان کے کم و بیش تین گھنٹے بعد، یعنی مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے ہو رہا ہے۔
حماس کے عہدیدار طہیر ناونو نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کی ہے ۔
اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس اور اینتونیو گتریس کا جنگ بندی کا مطالبہ

اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتیرس نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان غزہ میں جاری لڑائی میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا۔
انتونیو گتریس نے یہ مطالبہ جنرل اسمبلی کے جمعرات کو ہونے والے خصوصی اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔ ان کے الفاظ تھے،
”سب سے ضروری بات یہ ہے، ہمیں چاہیے اور میں اپنی اپیل کو دوہراتا ہوں ۔۔۔ ہمیں ہر صورت جنگ بندی کا مقصد حاصل کرنا ہو گا‘‘۔

خصوصی اجلاس عرب اور مسلمان ملکوں کے مطالبے پر بلایا گیا ہے تاکہ غزہ کی صورت حال پر غور کیا جا سکے۔
گتیرس نے کہا کہ ہنگامی بنیادوں پر مخاصمانہ کارروائیاں روکنا اور کشیدگی میں کمی لانا ضروری ہے۔ ان کے بقول اگر ایسا نہ کیا گیا تو سرحد کے آر پار سلامتی کا معاملہ اور انسانی بحران قابو سے باہر ہو جائے گا۔
عالمی ادارے کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ ”لڑائی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔۔ اولین اور سب سے اہم یہ ہونا چاہیے کہ شہری آبادی کو تحفظ فراہم کیا جائے”۔


No media source currently available
محکمہ صحت عامہ کے مقامی عہدیداروں کے مطابق، غزہ میں اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 230 ہو گئی ہے، جن میں 65 بچے بھی شامل ہیں۔ جب کہ اسرائیلی حکام کے مطابق، اسرائیل میں اب تک 12 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، غزہ میں اب تک 58 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے الفاظ میں ”اگر زمین پر کہیں دوزخ ہے، تو اس کا سامنا آج غزہ میں بچوں کی زندگی کو ہے”۔
انھوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ دونوں فریقوں کو لڑائی سے باز رکھیں اور امن کی کوششوں کے عمل کی حوصلہ افزائی کریں، جس سے، ”مستقل اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہو گی”، جو دونوں ہمسایہ فریقوں کے لیے لازم و ملزوم ہے۔
غزہ پر حملوں کے بارے میں اسرائیلی سفیر کا اقوام متحدہ میں خطاب
اقوام متحدہ کے لیے اسرائیل کے سفیر جیلاد اردن نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اسمبلی میں موجود بہت سے مقررین نے اسرائیل فلسطینی تنازعے پر بات کرتے ہوئے حماس اور اس کی کارروائیوں سے صرف نظر کیا ہے۔ انہوں نے حماس کو ’نازی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عسکریت پسند گروپ یہودیوں کی نسل کشی اور اسرائیل کی تباہی کے نعرے بلند کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان غلط موازنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ اسرائیل، ان کے بقول ایک امن پسند جمہوریت ہے جو بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرتی ہے اور حماس، ان کے الفاظ میں، ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کے نظریات داعش سے مطابقت رکھتے ہیں۔ حماس، مسٹر جیلاڈ کے بقول اسرائیلی سویلینز پر فائرنگ کرتا ہے اور وہ اپنے ہتھیاروں کو فلسطینی عوام سے بھی چھپاتے ہیں اور ان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
اسرائیلی سفیر نے کہا کہ حماس کے راکٹ فائر اندھادھند اور شہریوں پر بلا امتیاز حملہ ہیں جب کہ اسرائیلی حملے بہت جامع اور سرجیکل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین سے بھی کہیں آگے کے معیار برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے شہریوں کے دفاع پر کسی سے معافی نہیں مانگیں گے۔
پاکستانی وزیر خارجہ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ
اس سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ جنرل اسمبلی کو ہر صورت ذمہ داری لینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کو روکنا پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ سیکیورٹی کونسل اس آخری لمحے میں اسرائیلی حملوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو جنرل اسمبلی کو چاہئے کہ وہ پوری بین الاقوامی برادری کی طرف سے یہ مطالبہ کرے۔
شاہ محمود قریشی نے باور کرایا کہ باقاعدہ زمینی، بحری اور فضائی فوج سے محروم فلسطینیوں اور جنگی مشینوں سے لیس، دنیا کے طاقتور ترین ملکوں میں سے ایک اسرائیل کے درمیان کوئی فوجی موازنہ نہیں بنتا۔ ان کے بقول یہ ایک فوجی طاقت سے لیس قابض اور مقبوضہ عوام کے درمیان جنگ ہے۔ یہ ایک غیر قانونی قبضے اور اپنے دفاع کی جائز جدوجہد کے درمیان لڑائی ہے۔
پاکستان کے وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں تباہی سے دوچار عوام کے لیے تمام ممکنہ انسانی امداد فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کی طرف سے ہنگامی امداد کی اپیل کے ساتھ ساتھ، سیکرٹری جنرل بھی فلسطینیوں کے لیے ایک جامع امدادی منصوبہ شروع کریں۔
شاہ محمود نے کہا کہ غزہ میں میڈیکل ٹیمیں بھجوائی جائیں۔ ادویات، دیگر ضروری سامان، اشیا خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کو غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں بھجوایا جائے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس خصوصی اجلاس کے لیے تقریباً ایک درجن کے قریب وزرائے خارجہ اس وقت نیو یارک میں ہیں، جہاں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں فلسطین اسرائیل معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جو کہ 14 ماہ قبل کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد سے عالمی ادارے کا پہلا شخصی موجودگی والا اجلاس ہے۔
