سلیپ اپنیا کے شکار افراد میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
سلیپ اپنیا کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران بار بار رکتی ہے جس سے متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔
تاہم کیسر پرمنینٹ سدرن کیلیفورنیا کی تحقیق میں پہلی بار دریافت کیا گیا کہ ایسے افراد میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے دوران 82 ہزار کے قریب مریضوں کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی جن نیند کے مختلف مسائل کا سامنا 2015 سے 2020 کے دوران ہوا تھا۔
ان میں سے لگ بھگ ڈیڑھ ہزار افراد میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی جن میں سے 224 ہسپتال میں داخل ہوئے جبکہ 61 کو آئی سی یو میں داخل ہونا پڑا یا انتقال کرگئے۔
تحقیق میں سلیپ اپنیا کا علاج نہ کرانے اور کووڈ 19 سے متاثر ہونے زیادہ شرح میں تعلق کو دریافت کیا گیا۔
تحقیق میں موٹاپے، دائمی امراض اور طبی امداد لینے والے افراد میں بھی کووڈ 19 کی شرح کو زیادہ دریافت کیا گیا۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ سلیپ اپنیا کے مریض سی پی اے پی تھراپی کی مدد سے کووڈ 19 میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حیاتیاتی اور رویوں پر مبنی عناصر سلیپ اپنیا اور کووڈ 19 کے خطرے میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق سلیپ اپنیا کے شکار معمر افراد میں حیران کن طور پر کووڈ 19 کی شرح زیادہ نہیں تھی۔
محققین کا کہنا تھا کہ ایسے معمر مریض عموماً بہت زیادہ احتیاط کرتے ہیں یعنی فیس ماسک، سماجی دوری اور دیگر احتیاطی تدابیر پر زیادہ عمل کرتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج امریکن Thoracic سوسائٹی کے آن لائن اجلاس کے دوران پیش کیے گئے۔
کووڈ سے دماغ پر مرتب ہونے والے اہم اثر کا انکشاف

کووڈ 19 کے نتیجے میں ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے 15 فیصد افراد کو دماغی و اعصابی پیچیدگیوں کا سامنا ہوتا ہے۔
کووڈ 19 سے بہت زیادہ بیمار ہونے والے مریضوں کا شعور متاثر ہونا، ذہنی الجھن اور ہیجان جیسی علامات عام ہوتی ہیں۔
تاہم کووڈ 19 کے دماغ پر براہ راست اثرات کے بارے میں ابھی بھی زیادہ علم نہیں ہوسکا۔
تاہم اب ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ کے مریضوں کے دماغ میں گرے میٹر (gray matter) کا حجم کم ہوسکتا ہے۔
امریکا کی جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی اس تحقیق میں اٹلی کے ایک ہسپتال میں کووڈ کے مریضوں کو درپیش دماغی و اعصابی علامات کی جانچ پڑتال کے لیے ہونے والے سی ٹی اسکینز کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں ان مریضوں کے گرے میٹر کے حجم کا تجزیہ کیا گیا جو دماغ کی باہری تہہ میں موجود ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر 120 مریضوں کے سی ٹی اسکینز کو تحقیق میں دیکھا گیا جن میں سے 58 کووڈ 19 کے مریض تھے اور دونوں گروپس کے نتائج کا موازنہ کیا گیا۔
اگرچہ محققین نے دونوں گروپس میں شامل افراد کے گرے میٹر کے حجم میں کوئی نمایاں فرق نہیں دیکھا مگر کووڈ 19 کے مریضوں میں ہی فرق موجود تھا۔
کووڈ کے ایسے مریض جن کو آکسیجن کی تھراپی کی ضرورت پڑی ان کے گرے میٹر کا حجم کم ہوگیا۔
گرے میٹر کے حجم میں کمی کو سنگین معذوری سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن افراد کے گرے میٹر کے حجم میں کمی آئی ان میں ذہنی ہیجان بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں مریضوں میں چڑچڑاپن بڑھ گیا۔
محققین نے بتایا کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں دماغی پیچیدگیوں کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے، گرے میٹر کے حجم میں کمی کا سامنا چند دیگر امراض جیسے شیزوفرینیا میں بھی ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ماہرین کو گرے میٹر کے حجم میں کمی سے طویل المعیاد بنیادوں پر مرتب اثرات کا تعین کرنا ہوگا یا علاج کے آپشنز کی جانچ پڑتال کرنا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ کووڈ بلاواسطہ دماغی حصوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور ممکنہ طور پر بخار یا آکسیجن کی کمی اس کا باعث بنتے ہیں۔
محققین نے اعتراف کیا کہ تحقیق کا دائرہ محدود تھا کیونکہ اس میں ہر مریض کے دماغ کے صرف ایک اسکین کا تجزیہ کیا گیا تھا تو فی الحال مکمل یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ کووڈ 19 سے ہی یہ تبدیلیاں آتی ہیں۔
فی الحال گرے میٹر کے حجم اور عناصر جیسے آکسیجن سپلیمنٹس اور بخار کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان نتائج کا اطلاق صرف ان مریضوں پر ہی ہوسکتا ہے جو کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہے ہوں اور انہیں دماغی پیچیدگیوں کا بھی سامنا ہوا ہو۔
اب وہ مریضوں کے زیادہ بڑے گروپ پر تحقیق کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں کووڈ 19 کے مریضوں کے متعدد گروپس کے ساتھ مختلف اقسام کے دماغی اسکینز کا ڈیٹا بھی شامل کیا جائے گا۔
اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیوروبائیولوجی آف اسٹریس میں شائع ہوئے۔
منبع: ڈان نیوز
