English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یہ میلہ کون لوٹے گا؟

القمر

ایک وقت تھا جب تحریک انصاف کی حکومت کے لیے جہانگیر ترین صاحب جہاز میں بندے بھر بھر کر لاتے تھے اور انصافی سپورٹرز ان کے گن گاتے نہیں تھکتے تھے بلکہ خوشی خوشی کہتے تھے کہ ترین صاحب بندے بھر بھر کر لا رہے ہیں مگر وقت بدل گیا تھا وہی بندے جو کسی وقت ترین صاحب حکومت بنانا کے لیے لاد کر لائے تھے اب وہی بندے وہ واپس لے کر جارہے ہیں اور انصافی منہ دیکھ رہے ہیں۔ اس سے قبل دونوں دوستوں میں مفاہمت کی جو خبریں تھیں جہانگیر ترین کے فارورڈ گروپ کے اعلان کے ساتھ ہی دفن ہو گئی ہیں اور عمرانی حکومت صحیح معنوں میں ڈانواڈول ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس وقت حکومت کی حالت یہ ہے کہ وہ اپوزیشن سے بچتی ہے تو ترین گروپ سامنے کھڑا ہے اور وہاں سے بچتی ہے تو رنگ روڈ سکینڈل منہ کھولے سامنے کھڑا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے فارن فندنگ کے نئی بیک اکاؤنٹس کا معاملہ سامنے آنے سے خان صاحب کے لیے ایک اور چومکھی کھل گئی ہے۔ ترین صاحب کا فرمانا ہے کہ یہ فارورڈ گروپ تین ماہ قبل سے موجود تھا مگر اچانک اس کے سامنے آنے کی وجہ کیا ہے؟ یہ بات تو طے ہے کہ اس وقت خان صاحب اور مقتدرہ کے مابین نوک جھونک جاری ہے اور اس نوک جھونک میں اضافہ اس وقت ہوا جب خان صاحب نے شہباز شریف پر مقتدرہ کو ٹھینگا دکھا دیا جس سے سلیکٹرز کو سلیکٹڈ سے سخت مایوسی ہوئی بلکہ اس بات کا خطرہ پیدا ہوگیا کہ ان کا سلیکٹڈ کھلاڑی اب ان کی بات ماننے سے انکاری ہے۔ اس لیے یہ بات باور کرانے کے لیے کہ اس کی وکٹ کسی بھی گرائی جاسکتی ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

اس وقت حکومت کے لیے سب سے مشکل مرحلہ بجٹ کی منظوری کا ہے۔ اگر جہانگیر ترین گروپ، مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی اس معاملے میں اکٹھے ہوجاتے ہیں تو تحریک انصاف کسی بھی طور اسمبلی سے بجٹ پاس کروانے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور یہی حال پنجاب میں ہے کیونکہ ترین گروپ کے پاس نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ پنجاب اسمبلی میں بھی اراکین کی اتنی اکثریت ہے کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ مل کر نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ پنجاب اسمبلی میں بھی یہی حال کرے اور اب تو راجہ ریاض نے یہ دعوٰی بھی کیا ہے کہ ان کے پاس کے پی کے سے بھی اراکین موجود ہیں تاہم ان کی تعداد کتنی ہے یہ بتانا مشکل ہے۔ اور نہ ہی ابھی ترین گروپ نے ان کے نام سامنے لائے ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔  بلوچستان اسمبلی میں سپیکر عبدالقدوس بزنجو اور وزیر اعلیٰ جام کمال کے درمیان تعلقات پہلے دن سے خراب ہیں لیکن اب صورتحال اس نہج پر آ چکی ہے کہ دونوں گروپوں میں صلح کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں حکومت کے پاس گو 35 اراکین کے ساتھ چھ دیگر اراکین کی حمایت بھی موجود ہے لیکن بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی یا جمہوری وطن پارٹی کا کوئی پتہ نہیں کب ساتھ چھوڑ دیں۔ یوں بھی یہ صرف حکومت کی حمایت کر رہی ہیں، اس کا حصہ نہیں ہیں۔ اگر باپ کے اندر سے اراکین کا ایک گروپ ٹوٹ کر دوسری طرف جا ملتا ہے تو 65 اراکین کی چھوٹی سی اسمبلی میں بازی پلٹتے دیر نہیں لگے گی۔ یوں بھی باپ کے کچھ اراکین استعفوں اور بجٹ سیشن کے بائیکاٹ پر غور کر ہی رہے ہیں۔ تو صورتحال کچھ ایسی بن رہی ہے کہ قومی اسمبلی کے علاوہ ملک کے چار میں سے دو صوبوں کا بجٹ پاس ہونا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

ایسی صورت میں جب ملک کی قومی اسمبلی اور دو دیگر صوبائی اسمبلیوں میں بجٹ منظور نہ ہو پائے گا تواس کا مطلب عمران خان کی حکومت پر سیدھا سیدھا عدم اعتماد ہے اور حکومت کے پاس گھر جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا۔ اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ تاریخ کی پہلی حکومت ہوگی جو اس قدر رسوائی کا سامنا کر کے گھر جائے گی مگر دیکھناہے کہ یہ تمام کھیل مقتدرہ کے ہاتھ میں ہے ۔ جب تک ان کی جانب سے کوئی اشارہ نہیں ہوتا تب تک ایسا ہونا ممکن نہیں ہے مگر خان صاحب کی جو حالت اس وقت ہے وہ یقینا اس کٹھ پتلی کی ہے جس کی ڈور مکمل طور پر کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ خان صاحب اگر مقتدرہ کے ساتھ معاملات طے نہیں کرتے تو شاید حالات اس نوبت تک جا پہنچیں کہ اگلے انتخابات کا بلاوا آجائے۔ سیاسی حلقوں میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا ترین گروپ وفاقی حکومت یا پنجاب حکومت کو گرانے میں ن لیگ اور اپوزیشن کے ساتھ مل کر کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟ ترین گروپ ہو یا اپوزیشن کے دوسرے رہنما وہ سب کسی ایسے سگنل کے انتظار میں ہیں جس سے یوں لگے کہ حکومت اور مقتدرہ اب ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ جوں ہی یہ سگنل ملے گا نئی طرح سے سیاسی صف بندی ہو گی اور نئے سیاسی کھیل کا آغاز ہو جائے گا۔

سچ تو یہ ہے کہ تمام تر الزامات اور مقدمات کے باوجود پنجاب میں ابھی تک ن لیگ کا سحر اور ووٹ بینک قائم ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ آئندہ مقابلہ تو ان دونوں جماعتوں کا ہی ہو گا۔ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک بڑھا ہے لیکن دوسری طرف مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے حکومت سے شکایات بھی بہت ہیں۔ پچھلے تمام ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک سنہ 2018 سے تو زیادہ ہے مگر ن لیگ سے ابھی بھی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی ایک کے سوا کوئی ضمنی انتخاب نہیں جیت سکی۔ پی ٹی آئی کا ووٹ بڑھنے کی وجہ اس کی مقبولیت نہیں بلکہ نظام کی کرپکشن ہے یعنی سیاست پھر سے 2 پارٹی نظام کی طرف لوٹ رہی ہے۔ پہلے جو ووٹ پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی یا آزاد امیدواروں کو پڑے تھے اب وہ براہ راست دونوں بڑی پارٹیوں (پنجاب میں) یعنی ن لیگ اور تحریک انصاف کو پڑ رہے ہیں۔ اس طرح کی صوتحال کو سامنے رکھا جائے تو بات سمجھ نہیں آتی کہ مقتدرہ خان کی حکومت کو دھکا دینے کے بعد کیا سوچ رہی ہے۔ کیونکہ اگر خان صاحب بجٹ پاس کروانے میں ناکا ہوتے ہیں تو پھر یقینا اگلے وزیر اعظم کا انتخاب ہوگا اور اگر ن لیگ یا پیپلز پارٹی یہ منصب سنبھالنے سے انکار کرتی ہیں تو پھر آئینی بحران جنم لے گا جس کے حل کے لیے یقینا عدالت کا رستہ اختیار کیا جائے گا اور ایسی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کو کھل کھیلنے کا موقع مل سکتا ہے۔ بنگلہ دیش ماڈل، یا پھر براہِ راست اقتدار۔ کیونکہ عام انتخابات کا مطلب حکومت دو تہائی اکثریت سے مسلم لیگ ن کی جھولی میں ڈالنا یا کہا جاسکتا ہے کہ حکومت مریم نواز کی جھولی میں ڈالنا اور مریم نواز شاید مقتدرہ کے شانہ بشانہ نہ چل سکے۔ اس لیے دیکھناہے کہ جو میلہ سجایا جارہا ہے وہ میلہ لوٹتا کون ہے؟

جمعرات، 20 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے