اسرائیل اور بھارت دو ایسی قومیں ہیں جو اپنی جدید تاریخ میں بہت ساری چیزیں مشترک رکھتی ہیں۔ دونوں قومیں برطانوی نو آبادیات سے چھٹکارا پانے والی ہیں۔ ان قوموں پر حکمرانی کرنے والی انگریز سرکار نے تقسیم کرواور حکومت کرو والا فارمولا اپنایا۔ انگریزی سرکار نے قبائلی اور مذہبی گروہوں کو ایک دوسرے سے لڑا کر ان کے مابین تنازعات پیدا کیے جس کی وج سے یہ گروہ آپس کی لڑائیوں میں مصروف ہوکر اپنے مشترکہ نو آبادیاتی دشمن کے خلاف متحدہ محاذ کبھی نہ بنا سکے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کو جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ برطانوی میعشت مکمل طور پر تباہ ہوگئی جس کے نتیجے میں برطانوی بادشاہت نے اپنی نو آبادیات کو تقسیم کر دیا ۔ برطانیہ کے انخلا کے بعد 1948 میں اسرائیل میں بڑے پیمانے پر جنگ اور عوامی انخلا کا عمل شروع ہوگیا جبکہ بھارت میں 1947 میں مذہبی خانہ جنگی میں لاکھوں لوگ ہلاک ہوگئے۔ تقسیم کے وقت لاکھوں ہندو اور مسلمان بے گھر ہوگئے اور ہجرت پر مجبور کر دیے گئے۔ جب کہ اسرائیل میں لاکھوں مقامی فلسطینی رہائشیوں کا قریبا 400 گاؤں سے مکمل صفایا کر دیا گیا اور یہ گاؤں آج بھی ویران ہیں۔ بہت سارے فلسطینی شام، لبنان، اردن ، غزہ اور مغربی کنارے پر جا کر آباد ہوگئے اور مستقل پناہ گزین بن گئے۔ آج دن تک یہ نہ تو کسی ملک کے شہری ہیں اور نہ ہی ان ممالک کی آبادی کا حصہ ہیں۔
بین المذاہبی تشدد اور قتل عام کے بعد اسرائیل میں لیبر اور بھارت میں کانگریس جیسی سیکولر جماعتیں اقتدار میں آئیں۔ بھارت کی خارجہ پالیسی کا کارنر سٹون نان الائیڈ تحریک تھا جو کہ درحقیقت فلسطینیوں سے ہمدردی کا اظہار تھا ۔ بھارت نے سویت یونین سے اتحاد کیا جس نے بھارت کو اسلحہ اور دیگر لاجسٹک مدد فراہم کی ۔ روس اس کے علاوہ عرب ریاستوں کی نگران سپر پاور بھی تھا اور ان کو اسلحہ فراہم کرنے میں بھی اولین رہا۔ دوسری جانب معاشی اور عسکری امداد کے لیے اسرائیل نے مغرب کی حمایت لی۔ یورپ کے تمام ممالک اور امریکہ اسرائیل کے محافظ اور گارنٹر بن گئے۔ اور اس اتحاد کے پیچھے بڑی وجہ روس اور اسرائیل کی مخالفت بھی تھی۔ اسرائیل کی لیبر جماعت جس نے 1977 تک اسرائیل پر حکومت کی ، بنیادی طور پر اشکنزئی یہودیوں پر مشتمل تھی جن کا تعلق مشرقی یورپ سے تھا، جبکہ عرب یہودی ان کے مقابلے میں غیر تہذیب یافتہ سمجھے جاتے تھے ۔
مذہبی قومیت
جب 1977 میں تبدیلی نے سیکولر جماعت کو تنکے کی طرح بکھیر دیا اور لیبر پارٹی کا تین دہائیوں پر مشتمل غالب سیاسی عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا تو دائیں بازو کی جماعت لکوئڈ پارٹی منظر عام پر ابھری جو کہ اسرائیل کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی۔ اسی طرح 1980 تک بھارت کی کانگریس پارٹی کو کسی قسم کی مخالفت کا سامنا نہ رہا مگر اس کے بعد مسلمانوں کے خلاف ایک تحریک راشٹریا سیوک سنگھ سے ایک نئی سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے جنمم لیا۔ یہ جماعت نسلی تعصب سے بھرپور تھی اور ہندو کو برتر مانتی تھی۔ بنیادی طور پر اس جماعت کا نظریہ وہی تھی جو جرمن اور اٹلی کے فاشسٹوں کا تھا۔ بی جے پی کی بنیاد 1980 میں رکھی گئی اور اس جماعت کا ایک اہم ترین رہنما گجرات کا گورنر نریندرا مودی تھی۔ 2002 میں جب مقامی مسلمانوں نے ہندو مسافروں سے بھری ایک ٹرین کو آگ لگا دی تو گجرات کے ہندووں نے اس کا بدلہ لیا۔
یہ ہندو مسلمان آبادیوں میں گھس گئے اور ایک ہزار کے قریب مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان واقعات کے دوران مودی نہ تو کہیں نظر آیا اور نہ ہی اس نے اس حوالے سے کوئی بیان دیا حتی کہ یہ قتل عام اپنے اختتام کو جا پہنچا۔ نریندرا مودی نے اس قتل عام کی مذمت کرنے سے انکار کر دیا اور نہ ہی اس کی ذمہ قبول کرنے پر آمادہ ہوے۔ اس واقعے کی وجہ سے ہی 2005 میں نریندرا مودی کو امریکہ کا ویزا جاری نہیں کیا گیا بلکہ اب بھی مودی کا نام اس فہرست میں شامل ہے۔ جو بھی تھا اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ مودی نے قومی سیاست میں اوپر آنے کے لیے مسلمان مخالف جذبات کا سہارا لیا۔ 2014 میں جب بی جے پی اقتدار میں تو نریندرا مودی بھارت کے وزیر اعظم بن گئے اور اقتدار میں آنے کے بعد بھی انہوں نے گجرات والی پالیسیاں جاری رکھیں اگرچہ وہ اپنے الفاظ سے یہ کہتے رہے کہ بھارت مسلمانوں اور ہندووں کا ہے مگر ان کی پالیسیاں مسلم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
قبضہ اور الحاق
دو سال قبل یعی 2019 میں نریندرا مودی نے مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر کی ریاستی خودمختاری کے خاتمے کا اعلان کر کے مارشل لاء نافذ کر دیا۔ بھارتی فورس مقبوضہ وادی پر قابض ہوگئی اور کئی سیاسی نمائندوں اور بھارت سے آزادی کے حامی افراد کو گرفتار کر کے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا۔ ان گرفتار رہنماؤن میں عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سرفہرست تھیں۔ پس اس طرح بھارت نے مقبوضہ وادی میں خوف و ہراس کی فضا پھیلا دی جو آج بھی قائم ہے۔ مودی سرکار کا اگلا قدم مقبوضہ جموں و کشمیر کا بھارت کے ساتھ مکمل الحاق کرنا تھا۔ جس کا پاکستان کی جانب سے شدید رد عمل آیا اور سخت مزاحمت کی گئی کیونکہ پاکستان بھارتی مقبوضہ وادی کو اپنی ملکیت قرار دیتا ہے۔
اسی طرح اسرائیل کی دائیں بازو کی جماعتوں نے 1977 تک بلکہ شرکت غیرے اسرائیل پر حکومت کی اور آہستہ آہستہ فلسطینیوں کی سرزمین اور ان کے زرائع ہتھیانے کا عمل جاری رکھا حتی کہ مغربی کنارے کا اسرائیل کے ساتھ الحاق کر لیا ۔ اس اپارتھائیڈ کے نظام میں یہودی آباد کار مکمل شہری ہیں اور فلسطینی ناپسندیدہ شہری۔ بھارت اور اسرائیل مسلمانوں کو مشترکہ طور پر دشمن کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اسرائیل کا دشمن اسلامی گروہ حزب اللہ اور ایران جیسے ممالک ہیں جبکہ بھارت کے لیے دشمن پاکستان کے جہادی اور کشمیر کی آزادی کے لیے اٹھنے والی تحریکیں ہیں۔ دونوں ممالک کو اپنے ہی ملک کی اقلیتی مسلم آبادی سے خطرات محسوس ہوتے ہیں اور اس دونوں ممالک ایک یکساں کیفیت کا شکار ہیں اوریہی وجہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ اور عسکری و خفیہ معلومات جیسے معاہدے بھی کر رہے ہیں۔
آسمانوں پر بنی جوڑی
اسرائیل اور بھارتی لابیز میں موجود انفرادی گروہوں نے آپس میں مضبوط تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔ اس کی ایک مثال ہندو امریکین فاؤنڈیشن اور مڈل ایسٹ فورم ہیں ۔ مڈل ایسٹ فورم کے بانی ڈینیل پائپس ہیں جو کہ سابق ماہر تعلیم اور اسرائیل کی زبردست حامی شخصیت ہیں۔ ان کے بیانات اور ان کی زبان فلسطینی دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہۓ۔ مثال کے طور پر انہوں نے ایک متربہ کہا کہ ” فلسطینی اتھارٹی کے یروشلم میں موجود دفاتر کر صفحہ ہستی سے مٹا ڈالو۔ اس کے سیکورٹٰ انفراسٹرکچر اور ان گاؤں کو نیست و نابود کردو جہاں سے اسرائیل پر حملے ہوتے ہیں۔ مڈل ایست فورم ، امریکی یہودی اسلاموفوبیا تحریک کی رکن بھی ہے جو کہ پوری دنیا میں اسلاموفوبیا گروہوں سے رابطہ کرتی ہے جن میں گیرٹ ولڈرز اور انگلش ڈیفنس لیگ قابل ذکر ہیں ۔
ہندو صیہونی اتحاد کی فتح
دونوں تحریکوں میں جو چیز مشترک ہے وہ ہندو صیہونی تاریخ فسانہ ہے، جویہ کہتا ہے کہ مغربی طرز کی جمہوریت کو سیاہ مذہبی طاقتوں سے خطرہ ہے۔ اس نظریے کو سامنے رکھ کر ہی اسرائیل اور بھارت کی زد میں آئی اسلامی تحریک اس ظلم اور جبر کے خلاف جدوجہد کے لیے نکلتی ہیں حالانکہ کہ بنیاد طور پر یہ اسلامی جماعتیں پرامن بھی ہیں اور جمہوریت پسند بھی۔ ہندو اور یہودی برتری جیسے نظریات کے پنپنے سے یہ دونوں ممالک جمہوریت سے زیادہ نسل پسند ممالک بن گئے ہیں۔ اس سے نہ صرف ان ممالک کی جمہورت کو نقصان پہنچا ہے بکہ اس کے اداروں پر سے عوام کا اعتماد بھی ختم ہوگیا ہے۔ اور یہ بات طے ہے جب آپ کسی کمیونٹی کو بزور طاقت دبانے کی کوشش کریں گے تو وہ ابھر کر سامنے آئے گی۔ شاید دنیا خود بخود ہندو برتری کے تصور کو تسلیم نہ کرتی لیکن اگر بھارت میں ہندو برتری پسند لوگوں کو دہشت گردی،ختنوں ور عورت سے نفرت کےنام پر پیٹن شروع کر دیں ، تو پھر دنیا کو یہ بات باورہوجاتی ہے کہ کوئی ملک انتہا پسندی کے ہاتھوں میں پڑ گیا ہے۔ بھارت تو مکمل طور پر سیکولر جمہوریت سے مذہبی ہندو انتہا پسندی میں تبدیل ہو کر رہ گیا ہے۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال اسرائیل کی بھی ہے۔ ہم تاریخ میں اس سے قبل بھی اس طرح کی منافرت دیکھ چکے ہیں جب نازی جرمنوں نے یہودیوں، خانہ بدوشوں، معذوروں اور دیگر کمزور معاشروں کو اسی طرح کے سلوک کا نشانہ بنایا۔ روانڈا میں ٹٹسیوں کو نشانہ بنایا گیا، بوسنیا میں اس نے مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ اسرائیل میں اس نے فلسطینیوں کو نشانہ بننایا۔ ان تمام اقدامات کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ایک مذہب رکھنے والے 8۔1 ارب افراد کو غلام بنانا۔ اس طرح کے اقدامات کا نتیجہ تشدد اور قتل عام کی صورت میں ہی نکلتا ہے چاہے وہ گجرات ہو یا غزہ۔
جمعتہ المبارک، 21 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
