English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستانی تعلیمی ادارے 6 جون تک بند رکھنے کا فیصلہ، وزارت تعلیم

القمر

وزارت تعلیم نے تیسری لہر کے تناظر میں کورونا کیسز میں 5 فیصد سے زیادہ اضافہ ہونے پر کراچی، اسلام آباد، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور، سوات سمیت مختلف شہروں میں سرکاری اور نجی اسکول 6 جون تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ترجمان وفاقی وزارت تعلیم کے مطابق ملک کے ان اضلاع میں اسکولز 6 جون تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں کورونا کے کیسز کی شرح 5 فیصد سے زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے 19 مئی کے فیصلوں کے مطابق جن اضلاع میں بیماری کی شرح 5 فیصد سے کم ہے وہاں تمام سرکاری اور نجی اسکول 24 مئی سے مرحلہ وار کھول دیے جائیں گے۔

اس ضمن میں انہوں نے وضاحت کی کہ جن اضلاع میں کورونا وائرس کی شرح 5 فیصد سے زیادہ ہوگی وہاں اسکولز کی بندش 6 جون تک ہوگی۔

ترجمان وزارت تعلیم نے بتایا کہ این سی او سی کا کورونا سے متعلق 3 جون کو جائزہ اجلاس ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ جائزہ اجلاس میں باقی اضلاع کے اسکول کو 7 جون سے کھولنے کا فیصلہ ہوگا۔

ترجمان وزارت تعلیم نے بتایا کہ 52 اضلاع میں کورونا کیسز کی شرح زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں آزاد جموں کشمیر کے 4 اضلاع مظفر آباد، پونچھ، باغ اور سدھنوتی بھی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ صوبہ بلوچستان میں کوئٹہ میں 6 جون تک اسکولز بند رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے 20 اضلاع بشمول اٹک، بہاولپور، بھکر، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، خانیوال ، خوشاب، لاہور، لیہ، لودھراں، میانوالی، ملتان، مظفر گڑھ، اوکاڑہ، رحیم یار خان، راولپنڈی، سرگودھا اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اسکول 6 جون تک بند رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں 14 اضلاع میں 6 جون تک اسکولز بند رہیں گے جن میں ایبٹ آباد، بنوں، بونیر، چارسدہ، دیر لوئر، دیر اپر، ہری پور، کوہاٹ، کرم، مردان، نوشہرہ، پشاور، صوابی اور سوات شامل ہیں۔

وزارت تعلیم کے مطابق صوبہ سندھ کے 12 اضلاع بدین، دادو، حیدر آباد، جامشورو، سکھر، شہید بینظیر آباد اور کراچی کے تمام اضلاع میں اسکول 6 جون تک بند رہیں گے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی اسکول 6 جون تک بند رہیں گے۔

اس ضمن میں تمام وفاقی اکائیوں کو 21 مئی سے نوٹی فکیشن جاری کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر برقرار ہے جس کے نتیجے کورونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ کے قریب ہوگئی ہے۔

وزارت تعلیم کی جانب سے ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر کیمبرج سسٹم سمیت تمام امتحانات 15 جون تک ملتوی کرنے کا اعلان سامنے آچکا ہے۔

وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا تھا کہ 27 اپریل سے سے لے کر 15 جون تک کوئی امتحان نہیں ہو گا اور نویں سے 12ویں جماعت کے جن امتحانات کو مئی کے آخر میں شروع ہونا تھا، انہیں مزید ملتوی کردیا گیا ہے اور 15 جون تک کوئی امتحان نہیں ہو گا۔

سندھ میں کورونا پابندیاں مزید 2 ہفتوں تک برقرار رکھنے کا فیصلہ

حکومت سندھ نے کورونا کی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں عائد موجودہ پابندیاں آئندہ 2 ہفتوں تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، کمشنر کراچی، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈبلیو ایچ او کے نمائندگان و دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ صوبے میں تمام سیاحتی مراکز، سی ویو، ہاکس بے، تفریحی پارکس مزید 2 ہفتوں کے لیے بند رکھے جائیں گے جبکہ پارکس میں واکنگ ٹریکس کھلے رہیں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ ‘دکانیں پیر سے شام 6 بجے تک ایس او پیز کے تحت کھلی رہیں گی، انٹر سٹی ٹرانسپورٹ 50 فیصد مسافروں کے ساتھ چلے گی اور اگر خلاف ورزی ہوئی تو سخت جرمانہ عائد کیا جائے گا’۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ‘ڈپارٹمنٹل اسٹورز بھی شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ شادی ہالز بند رکھے جائیں گے’۔

ٹاسک فورس کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ‘اسکولوں کے کھلنے کا فیصلہ تب کریں گے جب کورونا کی صورتحال بہتر ہوجائے گی’۔

ٹاسک فورس نے صوبائی وزیر تعلیم کو تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی ویکسی نیشن کرنے کا بندوبست کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبے میں کل سب سے زیادہ 24 ہزار 299 ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتیجے میں 2 ہزار 136 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے میں کیسز مثبت آنے کی شرح 8.8 فیصد ہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اجلاس کو بتایا کہ ’13 مئی یعنی عید پر 1232 کیسز سامنے آئے تھے، 19 مئی کو 2076 کیسز اور 21 مئی کو 2136 کیسز سامنے آئے تھے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ‘اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیسز کی شرح عید کے بعد سے مسلسل بڑھ رہی ہے’۔

سیکریٹری صحت کاظم جتوئی نے اجلاس کو بتایا کہ ‘گزشتہ ایک ہفتے میں کراچی میں 13.97 فیصد، حیدر آباد 10.83 فیصد اور باقی اضلاع میں 5.40 فیصد مثبت کیسز سامنے آئے’۔

حالات خراب ہوں تو خطرناک فیصلے کرنے پڑتے ہیں، مرتضیٰ وہاب

اجلاس کے بعد حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے پریس کانفرس کرتے ہوئے بتایا کہ ‘پہلی جون کو کوئی فیصلہ کرنا ہے تو 19 مئی کو اعلان کیوں کیا جاتا ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر سب کچھ ٹھیک ہوتا تو کراچی میں مثبت کیسز کی شرح 14 فیصد نہیں ہوتی، پہلی تاریخ کے قریب ہی اعلان کیے جائیں تو نتیجہ بہتر نکلتا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘لاہور میں جب سختی کا اعلان کیا گیا تو اس کے نمبرز کم ہونے شروع ہوگئے تھے’۔

انہوں نے بتایا کہ ‘کراچی میں نمبرز اوپر جانے کی وجہ عید کی چھٹیوں میں انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کھلا رکھنا ہے جس کی وجہ سے لوگ یہاں سے چھٹیاں منانے اپنے اپنے علاقوں میں گئے’۔

انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور صوبائی حکومت اگر سخت فیصلے کرتی ہے تو اس میں رکاوٹ پیدا نہ کرے۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ ‘کوئی حکومت نہیں چاہتی کہ بندشیں ہوں، رکاوٹیں ہوں تاہم حالات خراب ہونے پر خطرناک فیصلے کرنے پڑتے ہیں’۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے