صدر رجب طیب ایردوان نے سمندر میں بچھائی گئی پائپ لائن کے ذریعے ترکی سے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کو سالانہ 75 ملین مکعب میٹر پانی کی ترسیل کیے جانے کی توضیح کرتے ہوئے کہا کہ ہم قبرصی ترک عوام کو مزید خوشحالی کے حامل کسی مستقبل سے ہمکنار کرانے کا مقصد رکھتے ہیں۔
صدر ایردوان نے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ آبپاشی ٹنل کی افتتاحی تقریب میں استنبول سے براہ راست رابطے کے ساتھ شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرنے والے ترک صدر نے بتایا کہ سمندر میں بچھائی گئی پائپ لائنوں کے ذریعے سالانہ 75 ملین مکعب میڑ پینے کا صاف پانی شمالی قبرص کو مہیا کیا جاتا ہے۔
ترکی اور شمالی قبرص کے مابین تاریخی، ثقافتی، جغرافیائی روابط میں مزید ایک کا اضافہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے جناب ایردوان نے بتایا کہ آج ہم مادر وطن کے پانی کو شمالی قبرصی کی ذرخیز سرزمین تک پہنچانے والے ایک ٹنل کا افتتاح کر رہے ہیں۔ اس بدولت سالانہ 156 ملین لیرے کی آمدنی حاصل کی جائیگی اور تقریباً 10 ہزار افراد کو روز گار مہیا ہو گا ۔ ہم نے جزیرے کی پانی کی قلت کا خاتمہ کرتے ہوئے قبرصی ترکوں کے کسی کا محتاج نہ بننے کے عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
اپنے خطاب میں قبرص مذاکرات کا بھی ذکر کرنے والے ایردوان نے کہا کہ قبرص کے عدم حل کا ہرجانہ اب کوئی بھی قبرصی فریق کے سر پر نہیں تھوپ سکتا۔ یہاں کے عوام نے جزیرے میں مزید بے چینی کے ماحول کو برداشت نہ کرنے کا واضح طور پر مظاہرہ کیا ہے۔ اگر مزید مذاکرات ہونے ہیں تو یہ دونوں معاشروں کے درمیان نہیں بلکہ دو ریاستوں کے مابین ہونے چاہییں۔ دونوں مملکتوں کے کس طریقے سے تعاون کر سکنے کا تعین لازم و ملزوم ہے۔ اولین طور پر قبرصی ترکوں کو مساوی حیثیت کی ضمانت دی جانی چاہیے پھر سلسلہ مذاکرات کو شروع کیا جانا چاہیے۔
