موجودہ مالی سال میں معاشی ترقی میں تقریباً چار فیصد ترقی کا دعویٰ نہ صرف حکومت اور اس کے اپنے اداروں کے مقررہ کردہ اہداف سے زیادہ ہے بلکہ اس نے عالمی مالیاتی اداروں کے تخمینوں کو بھی مات دے دی ہے اور شاید بین الاقوامی ادارے بھی ان اعدادو شمار پر حیران ہوں گے۔ تازہ ترین اعداد و شمار ملک کے مرکزی بینک کے اقتصادی ترقی کے تخمینے سے بھی زیادہ ہیں جس کے مطابق ملکی معیشت تین فیصد کی شرح سے اس سال ترقی کرے گی۔حکومت کے عبوری اعداد و شمار نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف کے تخمینے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جس کے مطابق شرح نمو دو فیصد رہے گی جب کہ دوسری جانب عالمی بینک کے 1.5 فیصد شرح نمو کے تخمینے سے بھی حکومتی جی ڈی پی کا نمبر بہت اوپر ہے۔ خیرپاکستان میںیہ پہلی مرتبہ نہیںہواکہ کسی حکومت نے معاشی اعداد و شمار پہلی مرتبہ اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کیے ہوں ۔ اس سے قبل بھی حکومتیں عوام اور اپوزیشن کا منہ بند کرنے کے لیے یہ کام کرتی رہتی ہیںاور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
پاکستان میں بیورو کریسی کسی بھی حکومت کو خوش کرنے کے لئے اس قسم کی خدمات فراہم کرنے پر آمادہ رہتی ہے اور سیاسی لیڈر اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے لئے انہیں استعمال کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ اس بارے میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں تمام شعبوں کی پیداواری صلاحیت کا سالانہ سروے نہیں کیا جاتا بلکہ بعض شعبوں میں تو دس سال سے کوئی سروے نہیں ہؤا ۔ اس صورت میں سرکاری اعداد و شمار تیار کرنے کے لئے متعلقہ شعبہ کی پیداواری صلاحیت میں سالانہ ممکنہ اضافہ کا تخمینہ لگا کر اوسط نکالی جاتی ہے اور اسے اعداد و شمار میں شامل کرلیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ طریقہ حقیقی نہیں بلکہ جعلی ہوتا ہے جس سے کسی ملک کی معاشی صحت کا درست اندازہ نہیں کیاجاسکتا۔
معیشت میںبہتری کا مطلب عام آدمی کی زندگی میں بہتری ہے تاہم اگر مہنگائی کی بات کریں تو سال 2020ء انتہائی مشکل سال تھا اور سال 2021 بھی اسی طرح ہے ۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت نے ہر چیز کو پَر لگا دیے ہیں۔ اگر ڈالر 10 فیصد بڑھتا ہے تو مارکیٹ میں ہر چیز کی قیمت 50 فیصد تک بڑھا دی جاتی ہے اور تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے۔ کبھی آٹے کی قلت، کبھی چینی مارکیٹ سے غائب اور کبھی ٹماٹر آسمان سے باتیں کرتے دکھائی دیے۔ بعض رپورٹس کے مطابق سال 2020ء میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ جولائی 2020ء میں نئے مالی سال کے شروع کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 9.3 فیصد رہی اور حکومتی دعوؤں کے باوجود ستمبر میں یہ شرح 9 فیصد ہے جبکہ سال 2021 کے اوائل میں یہ شرح 12 فیصد سے بھی اوپر چلی گئی ہے۔ مہنگائی اور قوتِ خرید کے حالات یہ ہوگئے ہیں کہ جس شخص کے پاس 20 لاکھ روپے تھے تو پچھلے 2 سالوں میں اس کی قدر 10 لاکھ کے برابر ہوگئی ہے۔ جس ماں نے بیٹی کے جہیز کے لیے 5 لاکھ روپے جوڑ رکھے تھے اب ڈھائی لاکھ میں بھی وہ سامان نہیں آتا۔
