لبنانی نژاد سابقہ پورن سٹار میا خلیفہ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں ان کے ٹک ٹاک پر پابندی لگا دی گئی ہے جس کے بعد اب وہ اپنے پاکستانی مداحوں کے لیے ٹک ٹاک ویڈیوز اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیا کریں گی۔
میا خلیفہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے پاکستانی مداحوں کو پیغام دیا ہے کہ ’ملک میں میرا ٹک ٹاک اکاؤنٹ بند کرنے پر میں پاکستان کا خاص طور پر ذکر (شاؤٹ آؤٹ) کرنا چاہوں گی۔ اب سے میں اپنے ان پاکستانی فینز کے لیے اپنی تمام ٹک ٹاک ویڈیوز ٹوئٹر پر شیئر کروں گی جو فاشزم (کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں) کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔‘
Shoutout to Pakistan for banning my tiktok account from the country. I’ll be re-posting all my tiktoks on Twitter from now on for my Pakistani fans who want to circumvent fascism 💕
— Mia K. (@miakhalifa) May 22, 2021
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں میا خلیفہ کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ان کی کوئی ویڈیو نظر نہیں آتی تاہم کسی اور ملک کے آئی پی ایڈریس سے اسی اکاؤنٹ پر ویڈیوز نظر آنے لگتی ہیں۔
LMAOOOO THEY WHAT!!! https://t.co/xqqJygEdOm
— Mia K. (@miakhalifa) May 22, 2021
اس کے علاوہ جب میا خلیفہ کا نام پاکستان سے ٹک ٹاک پر سرچ کیا جائے تب بھی کوئی سرچ رزلٹس سامنے نہیں آتے۔
حال پاکستانی حکام کی جانب سے اس بارے میں بتایا نہیں گیا ہے کہ آیا حکومت نے ٹک ٹاک سے یہ پابندی لگانے کی درخواست کی تھی، اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے تبصرے کے لیے بی بی سی کے سوال کا جواب نہیں دیا ہے۔
دوسری جانب ٹک ٹاک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ قابلِ اطلاق قوانین اور اپنے پلیٹ فارم کے اصولوں کے تحت ریگولیٹرز کی جانب سے مواد کو ہٹانے یا اس تک رسائی محدود کرنے کی درخواستوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
میا خلیفہ اس سے قبل بھی پاکستانی سوشل میڈیا پر بحث کی زینت بنتی رہی ہیں۔ اسی سال کے آغاز میں ان کی جانب سے انڈین کسانوں کے حق میں کیے گئے ٹویٹس اور حال ہی میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے پر انھیں خوب پذیرائی ملی ہے۔
You’re right, I’m privileged to sleep safely in my bed tonight. But I vividly remember living through sirens, air strikes, ground shaking, walls rattling in hideout basements, and destruction in Beirut due to unrest. I say #FreePalestine as loudly as I say “pray for Lebanon.” https://t.co/Yj7PQ4xzfe
— Mia K. (@miakhalifa) May 12, 2021
