English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جہانگیر ترین کی بے گناہی تو مسلمہ تھی

القمر

جہانگیر ترین پریشر گروپ کی کوششیں بالاخر رنگ لے آئی ہیں اور جہانگیر ترین گروپ کے رہنما راجہ ریاض نے دعویٰ کیا ہےکہ علی ظفر نے اپنی رپورٹ میں جہانگیر ترین کو بالکل بے گناہ قرار دے دیا ہے۔  راجہ ریاض نے کہا کہ ’اللہ کا شکر ہے علی ظفر نے اپنی رپورٹ دے دی ہے کہ جہانگیر ترین بالکل بے گناہ ہیں ان کا کسی قسم کی لین دین میں کوئی تعلق نہیں، علی ظفر کی رپورٹ وزیراعظم کے پاس پہنچ گئی ہے اور اسے وزیراعظم کے علم میں لایا جاچکا ہے، یہ ہماری فتح ہے ہم سرخرو ہوگئے ہیں، ہمارے گروپ کا مؤقف کامیاب ہوا ہے۔ جہانگیر ترین درحقیقت اسی دن بے گناہ ہوگئے تھے جس دن انہوں نے ایک بڑی تعداد پر مشتمل صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران پر مشتمل ایک طاقتور فارورڈ بلاک تشکیل دیا تھا۔ اور یہ بات بھی طے تھی کہ جہانگیر ترین کو بجٹ سے پہلے پہلے ہی بے گناہ قرار دے دیا جائے گا کیونکہ جہانگیر ترین کی بے گناہی کا بجٹ کی منظوری سے براہ راست اور مضبوط تعلق تھا اگر جہانگیر ترین بے گناہ نہ ٹھہرتے تو بجٹ بھی شاید بیچ میں ہی لٹک جاتا۔

راجہ ریاض صاحب نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں ایک اہم ترین بات بھی کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی انہیں یقین دلایا ہےکہ جو کچھ ہوا وہ آئندہ نہیں ہوگا، انہوں نے ہمارے گروپ کے لیے ایک افسر کو بھی مقرر کیا ہے‘۔ راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ ’ہمارا گروپ قائم رہے گا، ہم ہر مسئلے پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے، یہ گروپ 2023 تک رہے گا، ہر مسئلے پر حکومت کو احساس دلائیں گے کہ کیا غلط ہورہا ہے، ہم عمران خان کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہتے ہیں ، ہم پی ٹی آئی میں رہیں گے کہیں اور نہیں جارہے، کل کی میٹنگ ہمارا جشن تھا۔ اس ساری پریس کانفرنس میں جو سب سے خطرناک بات تھی وہ 2023 کا عدد تھا۔ راجہ ریاض نے بالفاظ دیگر یہ دھمکی دی ہے کہ اب اگلے دو سال عمران خان صاحب ان کے کہنے پر چلیں وگرنہ وہ کسی بھی وقت حکومت کو ٹھوکر مارکر گرا سکتے ہیں۔ یہ بات تو پہلے دن سے ہی طے تھی کہ اس پریشر گروپ کے پیچھے بعض طاقتور حلقوں کا ہاتھ ہے جو عمران خان پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور اس گروپ کے اس اعلان کے بعد کہ یہ اگلے انتخابات تک قائم رہے گا ثابت ہوگیا کہ ترین گروپ کی ڈوریاں کسی اور کے ہاتھ میں ہیں۔

جہانگیر ترین صاحب کو بے گناہ قرار دیے سے خان صاحب کے مسلسل بیانیے یعنی کسی کو این آر او نہیں دوں گا کا بھی پول کھل گیا ہے۔ چند روز قبل ہی تحریک انصاف نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ وہ کسی مافیا کے سامنے نہیں جھکے گی اور کرپشن میں ملوث ہر شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ عمران خان کی صدارت میں تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کے دوران ’کسی کو بھی این آر او نہ دینے‘ کا اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لودھراں میں جہانگیر ترین کی خواہش و مرضی کے مطابق پولیس افسر تعینات کیے گئے ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے ساتھ جہانگیر گروپ کی ملاقات کے بعد بنیادی طور پر اس گروپ کی خواہش و ضرورت کے مطابق انتظامی تبدیلیوں پر اتفاق کیا گیا تھا۔ پارٹی کے اندر سے وفاداروں کے ایک گروہ نے جس طرح عمران خان کو اپنے ہی دعوؤں کی دھول چاٹنے پر مجبور کیا ہے، وہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک المناک باب ثابت ہو رہا ہے۔ دیگر اقدامات اور اصلاحات کے علاوہ پولیس کو ایک خود مختار اور آئیڈیل فورس بنانے کے دعوے کرنے والے عمران خان کی حکومت اب سیاسی بقا کے لئے ڈی پی او سطح کے افسروں کے تبادلوں پر اتفاق کر رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جب جہانگیر گروپ کے ارکان پنجاب اسمبلی عثمان بزدار سے انتظامی افسروں کے تبادلوں کا تقاضا کر رہے تھے تو ان سے پوچھا جاتا کہ قانون سازوں کا مقامی انتظامی معاملات سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ اس کی بجائے گروپ کی خواہش و مرضی کے مطابق تبادلوں پر اتفاق رائے کیا گیا ہے۔

دیگر متعدد دعوؤں کی طرح عمران خان کا یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہو چکا ہے کہ انہیں اقتدار کی خواہش نہیں ہے۔ اور اگر انہیں آزادی سے کام نہ کرنے دیا گیا یا ان پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ ایک تو ان کا طرز عمل اور بطور وزیر اعظم و چیئرمین تحریک انصاف سارے فیصلے اس دعوے کے برعکس ہیں۔ دوسرے انہوں نے عملی طور سے اپنی پارٹی کے اندر سیاسی اصلاحات کی کوئی ایسی روایت استوار نہیں کی جس سے یہ یقین کیا جا سکے کہ عمران خان نے محض اقتدار میں رہنے کے لئے سیاسی جماعت قائم نہیں کی بلکہ وہ ملک میں سیاسی تبدیلی برپا کرنا چاہتے ہیں۔ پارٹی فنڈنگ کیس کا مسلسل التوا اور تحریک انصاف کی طرف سے اس کیس کو مؤخر کروانے کے ہتھکنڈوں سے ہی واضح ہے کہ اپنے مفاد کے لئے ہر قانون شکنی کو درست سمجھنے کا رویہ عمران خان اور تحریک انصاف میں بھی اسی طرح راسخ ہے جیسا دوسری پارٹیوں میں موجود ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کو کسی ایک منتخب اور شفاف ڈھانچے کی بنیاد پر منظم کرنے کی بجائے، اسے مسلسل فرد واحد کی دسترس میں رکھ کر ذاتی جاہ پسندی کی افسوسناک مثال قائم کی گئی ہے۔

حکومت کی ناقص کارکردگی اور ایک کے بعد دوسرے اسکینڈل کے باوجود جب اصرار کیا جاتا ہے کہ این آر او نہیں دیا جائے گا اور مافیاز کو کچل دیا جائے گا تو اسے سیاسی شعبدہ بازی سے زیادہ اہمیت حاصل نہیں ہوتی۔ پہلے جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ وزیر اعظم کی ’خوشگوار‘ ملاقات اور اب وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے اس گروپ کے مطالبوں کی تکمیل کے لئے ہونے والے اقدامات سے واضح ہو رہا ہے کہ این آر او تو دیا جا رہا ہے لیکن اسے سیاسی نعرے کے طور پر زندہ رکھنے کا جتن بھی جاری ہے۔ یقینا یہ بات جہانگیر ترین گروپ تک محدود نہیں رہے گی اور ایک کے بعد دوسرا این آر او دیا جاتا رہے گا اور اس کی ایک اور رشن مثال رنگ روڈ منصوبے میں کرپشن ہے۔ اور کرپشن کا یہ عالم ہے کہ 35 کلومیٹر کی ایک سٹرک میں 35 ارب روپے سے بھی زیادہ کی کرپشن ہے۔ ایسے ہی کئی اور سکینڈلز ہیں جو ابھی تک فائلوں میں دبے ہوئے ہیں جب وہ سامنے آئیں گے تو تحریک انصاف کی کارکردگی کی طرح خان صاحب کے این آراو کے بیانیے کے دیگر پول بھی کھل جائیں گے۔

بدھ، 26 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے