ایک وقت تھا جب فرانس اور جرمنی یورپ میں ایک دوسرے کے بدترین مخالف تھے۔ اگر ماضی پر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دو ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے مخالف نظر آئے۔ آرٹس کلچر ، ٹیکنالوجی اور سائنس کے شعبوں میں فرانس اور جرمنی ایک دوسرے کے سخت مد مقابل تھے۔ 1870 سے فرانس اور جرمنی کی جنگ سے لے کر دوسری جنگ عظیم کے خاتمے تک دونوں ممالک کے مابین نہ ختم ہونے والے تنازعات نے جنم لیا۔ تاہم دونوں ممالک کے مابین یہ تنازعات ماضی کا قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ دوسری جنگ عظٰم کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے مابین معاملات میں بہتری آگئی اور 1963 میں فرانس اور جرمنی کے مابین ایلسی معاہدہ طے پا گیا۔ یہ معاہدہ سابق فرانسیسی صدر چارلس ڈی گالے اور سابق جرمن چانسلر کونارڈ ایڈینور کے مابین طے پایا جس نے یورپ کی سیاست کو نئی جہت عطا کی۔ اس وقت سے لے کر اب تک فرانس اور جرمنی کے مابین مشترکہ ثقافت نے جم لیا۔ فرانس اور جرمنی کی دوطرفہ بقا یورپ میں ایک غیر معمولی مثال ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت متاثر کنہے۔ حتی فرانس اور جرمنی نے سرد جنگ کے دوران فقید المثال تعان کیا ۔ اس لیے گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران فرانس اور جرمنی کامیابی سے یورپین یونین اور نیٹو کی سربراہی کر رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں یہ دونوں ممالک یورپ میں بے پناہ اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔
ان دونوں ممالک کا سیاسی طرز عمل ایسے خطوط پر استوار ہے کہ جو کچھ فرانس میں ہوتا ہے وہی جرمنی میں بھی ہوتا ہے اور جو کچھ جرمنی میں ہورہا ہوتا ہے وہی فرانس میں ہوتا ہے۔ یہ دونوں ممالک گزشتہ چھ دہائیوں سے ایسے ہی سیاسی طرز عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ہم ان حقائق کی بنیاد پر فرانس اور جرمنی کی مستقبل کی سیاسی صورتحال کی پیشن گوئی کر سکتے ہیں۔ کیونکہ جرمنی میں امثال اور فرانس میں اگلے سال انتخابات کا انعقاد ہونا ہے جو کہ یورپ کے لیے بے بہا اہمیت کے حامل ہیں۔ درحقیقت یورپ کا مستقبل ان دو ممالک کے انتخابات پر منحصر ہے۔ مزید برآں ٹرانس اٹلانٹک خطے کا انحصار ان دو ممالک کے عام انتخابات پر ہے۔ اسی طرح تجزیہ نگاروں کے مطابق یورپین سیاست کے لیے یہ انتخابات انتہائی چیلنجنگ ہیں کیونکہ فرانس اور جرمنیمیں دائیں بازو کے مقبولیت پسند اور نسل پرست سیاست دان ابھر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ یہود مخالف حملے اور غیر ملکیوں سے نفرت کے علاوہ نازی زہنیت بھی ابھر کر سامنے آئی ہے۔
اگر ہم جرمنی ر نظر دوڑائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ 16 برس سے انجیلا مرکل اقتدار میں ہیں اور مغربی جمہوری میں ایسا خال خال ہی ہوتا ہے۔ اس عرصے کے دوران انہوں نے پورے یورپ میں خود کو ایک کامیاب رہنما ثابت کیا ہے۔ خاص طور پر یورپین یونین کی سربراہی کے دوران جس کے نتائج سامنے ہیں ۔ مرکل کی ان کامیابیوں کی وجہ یورپین یونین کی امریکہ کے ساتھ بقائے باہمی بھی ہے۔ لیکن چند عرصوں میں مرکل کی مقبولیت کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے تجزیات کے مطابق اس کی بڑی وجہ ان کی لبرل امیگریشن پالیسی ہے۔ اس الیسی کی وجہ سے جرمنی میں دائیں بازو کی انتہا سند لیڈرشپ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یہی ان کی مقبولیت میں کمی کی وجہ ہے۔ اگر ہم تھوڑا ماضی میں جائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ 2015 یورپ کے لیے ایک مشکل شال تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں عراقی اور شامی پناہ گزین داعش کے حملوں سے بچنے کے لیے یورپ میں داخل ہوئے اور ایسے وقت میں جرمنی وہ واحد ملک تھا جس نے پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ملک میں پناہ دی۔
مرکل کی اس لبرل پالیسی کو پہلے تو جرمنوں نے قبول کیا تاہم بعد میں وہ پناہ گزینوں کے ساتھ سخت رویہ اپنانے لگے۔ اس طرح جرمنوں میں پناہ گزین مخالف اور عوامی مقبولیت پسند لیڈرشپ نے جنم لیا۔ جرمن کی دائین بازو کی انتہا پسند جماعت اے ایف ڈی نے امگریشن مخالف اور پناہ گزین مخالف تحریک کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ بعد میں انہوں نے تارکین وطن سے نفرت، مسلمان مخالف اور نسلی امتیاز کی پالیسیوں کو ہوا دے کر مقبولیت حاصل کی۔ اس کے علاوہ ان جماعتوں کو نیو نازی دھڑے کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ نازی ازم کا نام مٹ چکا تھا تاہم یہ جرمنی میں ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔ نازی ازم کی طرح ، نیو نازی ازم ایک مرتبہ پھر یہود نفرت تحریک کو ہوا دے کر نہ صرف یہودیوں بلکہ مسلمانوں اور افریقی امیگرینٹس پر پر حملے کر رہے ہیں۔حتی کہ نیو نازیوں نے 2019 میں ایک جرمن سیاستدن کو بھی قتل کر دیا۔ مزید برآں دائیں بازو کے رہنما جیسا کہ گولینڈ میوتھن اور فروکی پیٹری اپنے سیاسی مقاصد کے لیے نیونازیوں کو استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ دائیں بازو کے یہ مقبولیت پسند رہنما جرمنی میں ایک بڑے بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ خطرناک بات یہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں انہوں نے اچھے ووٹ بھی حاصل کیے ہیں۔ نتیجتا یہ سی ڈی یو اور سی ایس یو کے تحاد کے لیے قومی انتخابات میں ایک بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔
اس بات کا تذکرہ پہلے بھی کیا جا چکا ہے کہ جو کچھ جرمنی میں ہوتا ہے اس کا عکس فرانس میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ فرانس کی حالیہ صورتحال جرمنی سے ہرگز مختلف نہیں ہے۔ فرانس میں بھی جرمنی کی طرح دائیں بازو کی انتہا پسند قیادت مقبولیت حاصل کر رہی ہے میرین لی پین کی قومی ریلی دائیں باز کے نظریات کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ لی پین 2015 میں قومی سیاست میں سامنے آئیں جس وقت یورپ ایک کڑے دور سے گزر رہا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ 2015 میں القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس نے فرانس پر خوفناک دہشت گرد حملے کیا اور ان دہشت گردوں میں سے زیادہ تر کا تعلق افریقی تارکین وطن سے تھا اور ان حملوں کی منصوبہ بندی بھی فرانس میں ہی کی گی تھی۔ اس کے علاوہ جس سال شامی پناہ گزین فرانس میں داخل ہوئے فرانس نے اسی سال ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو پناہ دی۔
لی پین نے سن نے ان حملوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور تب سے وہ غیر ملکیوں سے نفرت، اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور عوامی مقبولیت پر مبنی سیاست کر رہی ہیں۔ جرمنی کی اے ایف ڈی جماعت کی طرح وہ یورپین اتحاد کی سخت مخالف ہیں۔ لی پین 2022 کے انتخابات کے لیے یورپی یونین مخالف ایجنڈے کی تیاری میں بھی مگن ہیں ۔ وہ بریگزٹ طرز کا فریگزٹ ریفرنڈم کرانا چاہتی ہیں اور یورو کی جگہ فرانک کو بطور کرنسی استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ لی پین نے حقیقی معنوں میں یورپین یونین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فرانس اور جرمنی میں کس طرح دائیں بازو کے انتہا پسند رہنما یورپ پر بری طرح اثر انداز ہورہے ہیں اور ان کی وجہ سے یورپی ممالک کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
فرانس اور جرمنی میں دائیں بازو کے رہنماؤن نے ابھی اقتدار میں آنا ہے تاہم اگر اے ایف ڈی یا لی پین کی قومی ریلی اقتدار میں آجاتی ہیں تو یورپین یونین کی مشکلات کا آغاز ہوجائے گا۔ کیونکہ ان دو ممالک کی طرز پر دیگر ممالک میں بھی دائیں بازو کی سیاست سر اٹھانے لگی ہے۔ مثال کے طور پر ہنگری، آسٹریا، پولینڈ، نیدر لینڈ، سویڈن، ناروے وغیرہ اس کی عام مثالیں۔ جہاں تارکین وطن سے نفرت، نسلی تعصب، مسلمانوں سے نفرت اور دیگر نسلی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ممالک میں عوامی رائے بھی یورپین یونین کے خلاف تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ پس لبرل ممالک یعنی فرانس اور جرمنی یورپین یونین کو تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اور اسکے لیے جرمنی کو اے ایف ڈی اور فرانس کو نیشل ریلی کو سخت مزاحمت پیش کرنا ہوگی کیونکہ دائیں بازو کے مقبولیت پسند رہنما انہی دو ممالک میں زیادہ مقبول ہورہے ہیں۔
بدھ، 26 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
