English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرونا لاک ڈاؤن نے بھارت میں کس طرح تباہی مچائی؟ شفقنا بین الاقوامی

القمر

ہولوکاسٹ ایک ایسا تاثر ہے جس کو عمومی طور پر نازی جرمن کی جانب سے یورپین یہودیوں کے قتل عام سے جوڑا جاتاہے۔ تاہم بھارت میں بھی ہولوکاست کا شکار ہے تاہم یہ ہولوکاسٹ اس طرح کا قتل عام نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق 1350 ملین افراد کا کرونا کا شکار ہونا اور بے تحاشا اموات کا ہونا ہے۔ جہاں ایک طرف بھارت میں‌کرونا نے تباہی مچائی ہوئی ہے وہیں‌پر دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب 20 اپریل سے لاک ڈاؤن ہے جس کو بھارت کی تمام ریاستوں نے اپنایا ہے اور اس وقت پورا ملک سخت لاک ڈاون کا شکار ہے۔ بھارت کے میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا میں بھارت میں کرونا کے روزانہ کےکیسز کی تعداد تین لاکھ تک رپورٹ کی جارہی ہے جبکہ اموات کی شرح بھی بہت بلند بتائی جاتی ہے۔ ٹیلی وژن پر ہلاک شدگان کے اجسام کو دفنانے اور جلائے جانے کے مناظر ، آکسیجن کے لیے مارے مارے پھرتے مریضوں کے لواحقین ، آکسیجن سلنڈرز، بستروں اور ہسپتالوں‌کی کمی یہ سب ایسے مناظر تھے جودلوں‌کو دہلا دینے والے تھے۔

تاہم افسوس ناک امر یہ ہے کہ اموات کی تعداد تو بیان کی جاتی ہے مگر لاک ڈاون کی وجہ سے ہونے والی اموات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی جاتی۔ اگرچہ یہ اموات سیکنڑوں میں نہیں‌ہے تاہم دسیوں میں‌ضرور ہے۔ جیسے ہی 20 اپریل کو بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے پورے ملک میں‌لاک ڈاون کا اعلان کیا تو بھارتی معیشت کے غیر رسمی ملازمین جو کہ بھارت کی معیشت کا 85 فیصد ورک فورس ہیں، جن میں‌ تارکین وطن، عارضی ملازمت اور دیہاڑی دار ملازم تھے وہ فوری طورپر بھارت کے شہروں سے نکل بھاگے اور سینکڑوں کلومیٹر تک اپنے خاندانوں کے ساتھ پیدل اپنے گاؤں کی طرف چل پڑے اور کئی رستے میں ہی مر گئے۔

جب یہ خیال کیا گیا کہ برا وقت گزر چکا ہے ، ایسے وقت میں کرونا کی نئی اقسام بھارت میں‌کرونا کی دوسری لہر لے آئی جس کی وجہ سے لاک ڈاؤن جاری رہا۔ یہ تو طے ہے کہ کرونا کی وجہ سے بیماری اور اموات جو کہ میڈیا نے سامنے لائیں اس سے قبل ہی لاک ڈاؤن کی وجہ سے کئی افراد جان کی بازی ہارچکے تھے مگر یہ کیسز میڈیا میں رپورٹ نہیں‌ہوئے۔

ذیل میں‌ اس ضمن میں‌بعض حقائق دیے گئے ہیں۔
1۔ ایک سال سےزائدعرصے سے بہت سارے وکلاء خاص طور پر جونیئر وکلاء نے کوئی کام نہیں‌کیا یعنی انہوں نے کچھ بھی نہیں‌کمایا کیونکہ عدالتیں کام نہیں‌کر رہیں اور آن لائن عدالتیں ہر گز ریگولرعدالتوں کا نعم البدل نہیں۔ بہت سارے جوئیر وکلاء جو کہ دہلی میں پریکٹس کر رہے تھے وہ اپنے مقامی گھروں، یو پی، بہار، ایم پی اور جنوبی بھارت وغیرہ میں‌واپس چلے گئے کیونکہ ان کےپاس دہلی میں‌رہنے کا نہ تو کرایا تھا اور نہ ہی کھانے کے کچھ پیسے۔ ان میں‌سے بعض لوگ سبزیاں بیچ کر، ای رکشہ چلا کر اور دیگر چھوٹے موٹے کاموں سےپیٹ بھر رہےہیں۔ پورے ملک کی عدالتوں کی یہی حالت ہے۔ چونکہ وکلاء کےپاس یا تو بہت کم کام ہے یا بلکل نہیں ہے اس لیے ان کے کلرکس، چپراسیوں وغیرہ کے پاس بھی کوئی کام نہیں اس لیے وہ بھی انہی مسائل کا شکار ہیں۔ اب خود سوچیں کہ ان کے خاندانوں‌پر کیا اثر ہواہوگا۔ اسی طرح دیگر محکموں‌میں‌کام کرنے والے افراد کی معاشی حالات بھی اسی طرح‌ہے۔

2۔ جہاں تک دکانداروں کی بات ہے تو ان کی بھی حالت کچھ الگ نہیں‌ہے ۔ ایک دکاندارکا کہنا ہے کہ وہ نئی دہلی میں‌ایک کپڑے کی دکان کا مالک ہے اس کا کہنا تھا کہ 8 اپریل کے بعد سے اس نے ایک روپیہ نہیں‌کمایا کیونکہ دکان ہی بند ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ لاک ڈاون گزارنے کے لیے ہمارے پاس کافی بچت ہے لیکن ہر کوئی اس قدر خوش قسمت نہیں‌ہے ۔ ایسے دکاندار جنہوں نے اپنی دکانیں کرائے پہ لے رکھی ہیں وہ اپنی دکانوں کا کرایہ ادا کرنے کے لیے دکانوں میں پڑا سامان بیچ رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سارے رکشوں پر سبزیاں بیچ رہے ہیں ۔ بعض چھوٹے دکاندار اپنی دکانیں شام کو کھولتے ہیں اور مقامی پولیس والے ان سے رشوت لے کر انہیں کام کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔

3۔ اسی طرح مجھے ایک ای میل موصول ہوئی جس کا متن کچھ یوں‌ہے
سر میرانام آصف جاوید ہے اور میں‌بھارت کے ایک بہت پسماندہ ضلع میوت ( ہریانہ ) سے تعلق رکھتا ہوں ۔ ہمارے ضلع کا تمام تر انحصار زراعت پر ہے ۔ ہماری آمدن کا بڑا ذریعہ زراعت ہی ہے اور گاؤں کے 30 سے 50 فیصد نوجوان ٹرک ڈرائیور ہیں جو کہ اپنے کام کی بہت کم تنخواہ لیتے ہیں۔ سر، موجودہ افراط زر کی لہر میں زراعت اب کوئی فائدہ مند تجارت نہیں رہی ۔ میوت کے لوگ اب اپنے گھروں سے نکل کر گاؤن گاؤں گھوم کر سستے داموں‌اشیا بیچنے پر مجبور ہیں۔ بعض افراد سڑکوں پر فروٹ، سبزیان اور بریانی وغیر بیچ کر اپنا پیٹ پال رہے ہیں اور یہ تمام کام انہیں محض چند روپے ہی فراہم کر رہا ہے جس سے بہ مشکل ان اور ان کے گھر والوں کا دو وقت کا کھانا بنتا ہے۔ اگر چہ دکانیں کھولنے کی اجازت مل گئی ہے مگر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے گاہک ہی نہیں ہیں۔

:

4۔ نئی دہلی میں ہنڈا کمپنی کا ایک ملازم مجھے ملا اور اس نے مجھے بتایا کہ ان کے پاس کوئی کام نہیں‌ہے اور وہ ایک سال سے نصف تنخواہ وصول کر رہا ہے۔ دیگر کمپنیوں میں‌بھی ملازمین کی یہی حالت ہے۔ بھارت معیشت کے ڈیٹا کو مانیٹر کرنے والی فرم سی ایم آئی ای کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارت کے 150ملین افراد اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

5۔ اسی طرح نجی سکولوں کے بہت سارے اساتذہ کو تنخواہیں‌نہیں‌مل رہیں اور اگر مل بھی رہی ہیں تو نصف تنخواہیں‌مل رہی ہیں۔
6۔ ہوٹلز، ریسٹورنٹس، پارلرز وغیرہ بھی اسی طرح مشکلات کا شکار ہیں اور یہی حال ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز کا ہے۔

 

ہفتہ، 29 مئی 2021

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے